Daily Roshni News

۔8 ستمبر 1965ء — وہ رات جب پاک بحریہ نے بحر ہند پر تاریخ رقم کی

8 ستمبر 1965ء — وہ رات جب پاک بحریہ نے بحر ہند پر تاریخ رقم کی
​۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ اپنے پورے شباب پر تھی اور دونوں ممالک کی بری و فضائی افواج ایک دوسرے کے مدِ مقابل صف آرا تھیں۔ ایسے میں بھارتی بحریہ خود کو ایک محفوظ ساحل کے پیچھے مستحکم سمجھ رہی تھی اور ان کا زعم تھا کہ پاکستان صرف زمینی حدود تک محدود رہے گا۔ لیکن پاک بحریہ کے جانبازوں نے بھارتی ساحلوں پر جا کر وار کرنے کا ایسا دلیرانہ منصوبہ بنایا جس نے دشمن کے ہوش اڑا دیے۔
​اس خفیہ اور تاریخی مشن کا نام تھا: آپریشن دوارکا (Operation Dwarka)۔
​دوارکا کی اہمیت اور پاکستان کا مقصد
​ہندوستان کے مغرب میں، ریاست گجرات کے ساحل پر واقع دوارکا شہر محض ایک تاریخی اور مذہبی مرکز ہی نہیں تھا، بلکہ یہاں بھارتی بحریہ کا ایک اہم ریڈار اسٹیشن قائم تھا۔ یہ ریڈار اسٹیشن بھارتی فضائیہ کے بمبار طیاروں کو جام نگر ایئربیس سے اڑان بھر کر کراچی اور جنوبی علاقوں پر حملہ کرنے کے لیے رہنمائی (Direction) فراہم کرتا تھا۔
​پاک بحریہ کا مقصد بالکل واضح اور سنگین تھا:
​دوارکا کے اس ریڈار اسٹیشن کو مکمل تباہ کرنا۔
​بھارتی بحریہ کو بحیرہ عرب کے کھلے پانیوں میں نکلنے پر مجبور کرنا تاکہ پاک بحریہ کی اکلوتی جدید آبدوز پی این ایس غازی ان کا شکار کر سکے۔
​دشمن کے دل میں خوف اور اپنے دفاعی لائن کا تسلط قائم کرنا۔
​رات کے اندھیرے میں سمندر کا محاصرہ
​۸ ستمبر ۱۹۶۵ء کی رات کو عملی شکل دینے کے لیے، ۷ ستمبر کی شام پاک بحریہ کا ۷ جنگی جہازوں پر مشتمل بیڑا کراچی کی بندرگاہ سے خاموشی کے ساتھ روانہ ہوا:
​پی این ایس بابر (جہاز برائے کمانڈ)
​پی این ایس بدر
​پی این ایس خيبر
​پی این ایس جہانگیر
​پی این ایس عالمگیر
​پی این ایس شاہجہان
​پی این ایس ٹیپو سلطان
​بیڑے کی قیادت کموڈور ایس ایم انور کر رہے تھے۔ ہدایت واضح تھی: مکمل ریڈیو خاموشی (Radio Silence) اور بغیر کسی روشی کے دشمن کے ساحل تک پہنچنا۔ سمندر کی لہروں کو چیرتے ہوئے پاک بحریہ کے یہ ۷ جہاز اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے رات ساڑھے ۱۱ بجے دوارکا سے محض ۶ میل کی فاصلے پر پوزیشن سنبھال چکے تھے۔
​پندرہ منٹ کی تباہی: فائرنگ کا وہ خوفناک طوفان
​رات کے ۱۱:۵۰ بجے۔ سمندر پر چھائے سسپنس اور سناٹے کو اچانک پاک بحریہ کے جہازوں کے سائرن اور احکامات نے توڑ دیا۔
​۱۱:۵۵ بجے، حکم ملا: “فائر!”
​اگلے پندرہ منٹ تک دوارکا کا ساحل آگ اور بارود کی لپیٹ میں آ گیا۔ پاک بحریہ کے سرفیس بحری جہازوں کے تمام توپخانے ایک ساتھ گرجم اٹھے:
​تمام ۷ جہازوں نے مسلسل ۵۰,۵۰ راؤنڈز سے زائد گولہ باری کی۔
​کل ۵۰-۶۰ منٹ کے دورانیے میں ۳۰۰ سے زائد بھاری گولے دوارکا کے ریڈار اسٹیشن، ریلوے لائن اور ساحلی تنصیبات پر برسائے گئے۔
​چند ہی منٹوں میں دوارکا کا ریڈار اسٹیشن مکمل طور پر خاموش ہو گیا، جس سے بھارتی ایئر فورس کا نیوی گیشن سسٹم ناکارہ ہو کر رہ گیا۔
​سمندر کی لہروں میں ڈوبی آگ کی بلند لپٹوں کو دور سے دیکھا جا سکتا تھا۔
​مشن کی کامیابی اور دشمن کی بے بسی
​بارود کی دھول، دھوئیں اور تباہی کے بعد رات ۱۲:۱۰ بجے آپریش مکمل کا سگنل دیا گیا۔ پاکستانی بیڑا بالکل اسی خاموشی اور سرعتی رفتار سے اپنے ہدف کو تباہ کر کے واپس اپنے پانیوں کی طرف روانہ ہو گیا۔
​بھارتی نیوی اور ساحلی دفاع اس قدر ہڑبڑاہٹ کا شکار ہوئے کہ جب تک وہ ردعمل دینے کا سوچتے، پاک بحریہ کے جہاز نظروں سے اوجھل ہو چکے تھے۔ سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ اس پورے خونخوار اور دلیرانہ مشن میں پاک بحریہ کا ایک بھی جہاز یا اہلکار زخمی یا نقصان زدہ نہیں ہوا۔
​آپریشن دوارکا کی تاریخی اہمیت
​نفسیاتی فتح: اس ہجوم اور حملے نے بھارتی بحریہ کے غرور کو خاک میں ملا دیا، اور وہ پوری جنگ کے دوران اپنے ساحلوں کے قریب ہی محصور رہی۔
​فضائی دفاع: دوارکا ریڈار کی تباہی کے بعد کراچی اور قریبی تنصیبات پر بھارتی فضائی حملوں کی شدت میں نمایاں کمی آئی۔
​پہلی بحری پیش قدمی: قیامِ پاکستان کے بعد یہ پاک بحریہ کی پہلی باقاعدہ اور شاندار ترین بحری کارروائی تھی جس نے دنیا بھر کے ملٹری ہسٹری کے ماہرین کو حیران کر دیا۔
​آپریشن دوارکا محض ایک بمباری کا واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ پاک بحریہ کے شیر دل جوانوں کی شجاعت، مہارت، اور اپنے وطن کی دفاع کے لیے سمندر کے سینے پر لکھی گئی ایک سنہری داستان ہے۔
​#PakNavy #OperationDwarka #1965War #PakistanNavy #DefenseDay #HistoryOfPakistan #PakForces #SeaBattle

Loading