Daily Roshni News

اصطلاح سے حقیقت تک

اصطلاح سے حقیقت تک

عقل کے حجاب سے دل کے مشاہدے تک

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )انسانی عقل کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ ہر اس حقیقت کا انکار کر دیتی ہے جو اس کے وضع کردہ مادی ترازو میں پوری نہ اترے۔

عقل ایک محدود پیمانہ ہے، اور جب لامحدود کی موج اس پیمانے سے ٹکراتی ہے تو پیمانہ چھلک جاتا ہے، ٹوٹ جاتا ہے، مگر عقل پھر بھی اسے “ناممکن” کہہ کر جھٹلا دیتی ہے۔ جب ہم “علمِ لدنی” کی بات کرتے ہیں، تو علمِ ظاہر کے رسیا اسے تصوف کی ایجاد یا شریعت سے الگ کوئی خود ساختہ اصطلاح سمجھ کر رد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہ وہ پاکیزہ اصطلاح ہے جس کا مخرج، جس کی بنیاد اور جس کی تائید خود قرآنِ مجید کی نصِ قطعی سے ثابت ہے۔ یہ دین کے متوازی کوئی نظام نہیں، بلکہ دین کی روح اور اس کا مغز ہے۔

اس بات کو سمجھنے کے لیے پہلے اس لفظ “لدن” کی حقیقت میں اترنا ہوگا۔

لغتِ عرب میں “لدن” کے معنی “خاص قرب، الٰہی حضور اور بارگاہِ خاص” کے ہیں۔ یعنی وہ علم جو کسی ظاہری سبب، انسانی استاد، کتابی ورق یا عقلی استدلال کے واسطے کے بغیر، براہِ راست مسبب الاسباب کی بارگاہِ قرب سے سینۂ انسانی پر القا کیا جائے.

 گویا یہ علم نہیں، بلکہ رب کی طرف سے آنے والا ایک راست خط ہے، جو کسی ڈاکیے کے واسطے کا محتاج نہیں۔

قرآنِ حکیم اس حقیقت کا سب سے بڑا گواہ ہے۔ سورۃ الکہف میں جب کائنات کے پردۂ غیب کے امین، حضرت خضر علیہ السلام کا تذکرہ ہوا، تو باری تعالیٰ نے ان کے علم کی سند دنیا کی کسی درسگاہ کو نہیں بنایا،

بلکہ ارشاد فرمایا:

فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَا آتَيْنَاهُ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَعَلَّمْنَاهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًا

تو ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا جسے ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی اور اسے اپنے پاس سے ایک چھپا ہوا علم سکھایا.

سورۃ الکہف، آیت 65

اگر علمِ ظاہر کے ماننے والے اس علم کو مشکوک کہتے ہیں، تو انہیں غور کرنا چاہیے کہ لفظ “لدنَّا” خود اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنا کلام ہے۔ یہ وہ مہرِ الٰہی ہے جو رہتی دنیا تک باطنی معارف کے برحق ہونے کی گواہی دیتی رہے گی۔ اور جب رب خود کسی علم پر اپنی مہر ثبت کر دے، تو پھر کس مخلوق کی جرأت کہ اس پر انگلی اٹھائے؟

اس دقیق علمی بات کو ایک سادہ سی مادی مثال سے سمجھیے؛

اگر آپ کو پیاس لگی ہو، تو پانی حاصل کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ زمین کھودیں، اس میں نل یا کنواں لگائیں، رسیاں اور بالٹی کا انتظام کریں اور پھر محنت مشقت کے بعد پانی باہر لائیں۔ یہ علمِ ظاہر ہے، جہاں مادی اسباب، کتابوں کے مطالعے اور اساتذہ کی شاگردی کی مشقت اٹھانی پڑتی ہے۔

لیکن پانی حاصل کرنے کا ایک دوسرا طریقہ بھی ہے؛ موسلا دھار بارش کا ہونا، یا زمین کے اندر سے کسی محنت کے بغیر خود بخود ایک میٹھے پانی کے چشمے کا پھوٹ پڑنا۔ یہ علمِ لدنی ہے، جہاں دل کی زمین صاف ہو تو معرفت کا چشمہ بغیر کسی انسانی واسطے کے خود بخود ابل پڑتا ہے اور جس دل میں یہ چشمہ پھوٹ پڑے، اسے پھر کبھی پیاس نہیں لگتی۔

حجۃ الاسلام امام محمد غزالی علیہ الرحمہ نے اپنی معرکہ آرا تصنیف “الرسالۃ اللدنیۃ” میں اس کی ایک اور لاجواب تمثیل بیان فرمائی ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ ایک حوض (تالاب) ہو، جس میں باہر سے مختلف نالیوں کے ذریعے پانی لایا جا رہا ہو، لیکن ان نالیوں میں مٹی اور کچرا بھی آ سکتا ہے اور اگر باہر کا راستہ بند ہو جائے تو پانی کا آنا رک جائے گا۔ یہ علمِ ظاہر ہے جو حواسِ خمسہ اور کتابوں کی نالیوں سے دماغ میں پہنچتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر اس حوض کے پیندے کو اندر سے کھودا جائے اور اس کی اپنی تہہ سے پاک و شفاف پانی کا چشمہ ابلنے لگے، تو اسے باہر کی نالیوں کی ضرورت نہیں رہتی۔ یہی علمِ لدنی ہے جو دل کے اندر سے پھوٹتا ہے اور اسے دنیا کے اسباب کی محتاجی نہیں ہوتی۔

یہی وجہ ہے کہ اسلافِ امت اور اولیاءِ عظام نے ہمیشہ اس علم کو علمِ نافع کا درجہ دیا۔

امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی علیہ الرحمہ اپنے مکتوبات میں فرماتے ہیں.

جب سالک کا نفس تزکیہ پا جاتا ہے اور دل مصفا ہو جاتا ہے، تو اس پر شریعت کے وہ اسرار و رموز کھلتے ہیں جو عام علماء کی عقلوں سے پوشیدہ ہوتے ہیں۔ اسی مقام کو علمِ لدنی کہتے ہیں، اور یہ شریعت سے باہر کی کوئی چیز نہیں بلکہ عینِ شریعت کا مغز ہے۔

تصوف کے امام، سیدنا جنید بغدادی علیہ الرحمہ سے ایک بار پوچھا گیا کہ آپ جو یہ باریک باطنی اسرار بیان فرماتے ہیں، یہ آپ نے کہاں سے سیکھے؟

آپ نے مسکرا کر فرمایا

میں نے یہ علم کاغذ کی سیاہی سے نہیں سیکھا، بلکہ بیس سال تک راتوں کو جاگ کر، اپنے نفس کو اللہ کی بارگاہ میں جھکا کر اور دنیا سے ناطہ توڑ کر اس وقت حاصل کیا ہے جب میرے رب نے میرے سینے کو اپنے نور کے لیے کھول دیا۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باہو علیہ الرحمہ تو علمِ لدنی کے بغیر ظاہری علم کو ایک حجاب قرار دیتے ہیں۔ آپ اپنے ایک خوبصورت شعر میں فرماتے ہیں:

حافظ پڑھ پڑھ کرن تکبر، ملاں کرن وڈیائی ھو

ساون ماہ دے بدل وانگوں، پھردے کتاباں چائی ھو

جتھے ہووے اسم اللہ دا، اتھے علم لدنی آئی ھو

باہو باجھ حضوروں پاک نہ ہووے، دلاں دی ملوائی ھو

یعنی جو لوگ صرف ظاہری علم پر اڑ جاتے ہیں، وہ اکثر تکبر کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی مثال اس بادل جیسی ہوتی ہے جو کتابوں کا بوجھ تو اٹھائے پھرتا ہے مگر برستا کہیں نہیں، دل کی زمین بنجر ہی رہ جاتی ہے۔ اصل علم تو وہ لدنی ہے جو اسمِ ذات کے انوار سے دل میں اترتا ہے، اور جہاں یہ نور اترے، وہیں دلوں کا ملاپ اور وصل ہے۔

یہاں ایک اور خوبصورت واقعہ اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے۔

حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوبِ الٰہی علیہ الرحمہ کے پاس ان کے آغازِ جوانی میں ایک علمِ ظاہر کے بڑے فاضل عالم آئے۔ انہوں نے تصوف اور باطنی الہام پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جو بات کتاب میں نہیں، میں اسے نہیں مانتا۔

حضرت محبوبِ الٰہی نے انہیں اپنے پاس بٹھایا اور ایک صوفیانہ نقطے کی ایسی گہرائی بیان فرمائی جو اس عالم نے زندگی بھر کسی کتاب میں نہ پڑھی تھی۔

وہ عالم حیران ہو کر بولے: حضور یہ کس کتاب میں لکھا ہے؟

آپ نے فرمایا: یہ اس کتاب میں لکھا ہے جو تقویٰ اختیار کرنے والوں کے دلوں پر نازل ہوتی ہے، کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا جہاں اللہ فرماتا ہے: وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ اور اللہ سے ڈرو، اور اللہ تمہیں سکھائے گا۔ وہ عالم یہ سن کر تڑپ اٹھے اور سمجھ گئے کہ سیکھنے کا ایک مدرسہ وہ بھی ہے جس کی استاد خود رحمتِ الٰہی ہوتی ہے۔

شیخِ اکبر علامہ ابنِ عربی علیہ الرحمہ “فتوحاتِ مکیہ” میں لکھتے ہیں کہ علمِ ظاہر کے عالم اور علمِ لدنی کے عارف میں وہی فرق ہے جو ایک ایسے شخص میں ہو جو کسی دوسرے کا دیکھا ہوا خواب بیان کرے، اور ایک وہ شخص جو خود اس خواب کی حالت میں موجود ہو۔ علمِ ظاہر نقل ہے، جبکہ علمِ لدنی اصل مشاہدہ ہے. ایک روایت ہے، دوسرا حضوری۔

پس ثابت ہوا کہ “لدنی” کوئی اچھوتی یا بدعت پر مبنی اصطلاح نہیں، بلکہ یہ تو رب کا وہ تحفہ ہے جو اس نے اپنے مخلص بندوں کے لیے خاص کر رکھا ہے۔ یہ علمِ ظاہر کا مخالف نہیں، بلکہ اس کا کمال ہے۔ ظاہری علم انسان کو بتاتا ہے کہ سجدہ کیسے کرنا ہے، اور علمِ لدنی انسان کو سجدے کی اس لذت سے آشنا کرتا ہے جہاں معبود کا قرب محسوس ہونے لگے، اور روح سجدے میں گر کر پھر اٹھنا نہیں چاہتی۔

سورۃ الکہف کی آیت نمبر 65 وَعَلَّمْنَاهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًا کو تین بار پڑھ کر اپنے سینے پر دم کریں اور اپنے رب سے عرض کریں۔

اے میرے مالک میرے سینے سے عقل کا تکبر مٹا دے اور اسے اپنی رحمت اور باطنی فہم کا مسکن بنا دے۔

آمین یا رب العالمین

#Khaak_e_rawan

Loading