اسلام کی خدمت یا نفرت کا اظہار
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اپنے دور حکومت میں حیات نبوی ﷺ کی تاریخ مرتب کرائی انکا یہ عمل آگے چل کر عباسی دور میں باقاعدہ ایک فن کی صورت اختیار کرگیا اور لاکھوں روایات قول رسول ﷺ کے نام سے نہ صرف بیان ہونے لگیں بلکہ ان پر کتابیں بھی مرتب ہونے لگیں ۔
ان روایات میں ہر قسم کی باتیں موجود تھیں یعنی صحیح بھی تھیں اور من گھڑت بھی
ان کتابوں میں رقم بعض باتیں نہ صرف من گھڑت بلکہ خلاف اسلام بھی ہیں جنہیں لے کر مخالفین اسلام نے ہمیشہ اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔اس کے علاوہ بے شمار روایات کے ذریعے ایسی کذب بیانی کی گئ ہے جن سے اصحاب رسول ﷺ کی شخصیات اور کردار کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔
حدیث کی کتاب مصنف عبدالرزاق میں حدیث نمبر
13198, 13199, 13205, 13206, 13207, 13209 کا متن، اسلام اور حضرت عبداللہ بن عمر کی شخصیت پر ایک کاری ضرب ہے۔ ان روایات کے مطابق ابن عمر لونڈی کی خریداری کے وقت اس کے جسم کے بعض حصوں کو ٹٹول ٹٹول کر دیکھا کرتے تھے ۔(روایات میں جو الفاظ لکھے ہیں وہ ناقابل بیان ہیں )
ان روایات کے علاوہ حضرت عمر سے منسوب ایک روایت کا متن ہے کہ انھوں نے ایک لونڈی کو چادر اوڑھے دیکھا تو اسے ” کمینی “کہہ کر ایک درہ لگایا اور چادر اتروادی ۔
اکثر فقہاء کے نزدیک لونڈی کا ستر (چھپانے والا حصہ) آزاد عورت کے مقابلے میں کم تھا (جیسے ناف سے گھٹنے تک) تاکہ وہ کام کاج اور خدمت آسانی سے کر سکیں۔(اللہ ہی بہتر جانتا ہے پورے کپڑے پہن کر انھیں کام کاج میں کیسے دشواری ہوتی ہوگی )
یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ ایسی روایات لکھنے والوں نے اسلام کی خدمت کی ہے یا اسلامی تعلیمات اور اصحاب رسول ﷺ سے نفرت اور بغض کا اظہار کیا ہے ۔
قرآن اور تعلیمات رسول ﷺ انسانیت کی تکریم سکھاتے ہیں بالخصوص خواتین کی اور اس قسم کی روایات سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اسلام اور اہل اسلام کے نزدیک ایک غلام خاتون کی حیثیت بھیڑ بکری سے کچھ کم نہیں ۔
قرآنی فہم تو یہ بتاتا ہے کہ بعثت رسول ﷺ کے ساتھ ہی اسلام نے غلامی کے خاتمے کی کوششیں شروع کردی تھیں اور جنگ بدر کے بعد اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو جنگی قیدیوں کو غلام نہ بنانے کا حکم بھی جاری کردیا تھا اور ہمارا اس بات پر ایمان ہونا چاہیۓ کہ نبی محترم ﷺ نے کبھی کسی جنگ میں خواتین کو لونڈیاں نہیں بنایا ایک خاتون قیدی سفانہ بنت حاتم کو رسول اللہ ﷺ نے چادر پیش کی اوراسے عزت اور احترام کے ساتھ بحفاظت اسکے قبیلے روانہ کیا
مگر ہمیں عباسی دور میں مرتب لونڈیوں سے متعلق ایسے فقہی احکامات بھی ملتے ہیں جو اسلامی تعلیمات شرم و حیا اور لا تقربو الزنا کے بالکل خلاف ہیں یہ دراصل فارسیوں کی دور جہالت کے لونڈی کلچر کو اسلامک ٹچ دے کر زندہ رکھنے کی ایک کوشش تھی یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ عباسی اور بعض دوسرے مسلم حکمرانوں کے حرم میں موجود سینکڑوں خواتین بادشاہوں کی حرام کاریوں کے لیۓ موجود تھیں
اسی لیۓ بعض اہل علم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حدیث کی کتابوں میں لکھی ہربات پر آنکھ بند کرکے یقین نہیں کیا جاسکتا بلکہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے سینکڑوں سال بعد لکھی جانے والی ان باتوں کو قرآن ، عقل اور نبی ﷺ کی شخصیت کی روشنی میں سمجھا جاۓ گا یہی اصول اس بات کے درست یا غلط ہونے کا فیصلہ کرے گا ۔
![]()

