Daily Roshni News

جہالت کی اقسام

جہالت کی اقسام

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جہالت ایک ہی نوعیت کی کیفیت نہیں۔ جس طرح علم کے درجات، ذرائع، حدود اور مراتب مختلف ہیں، اسی طرح جہالت بھی مختلف اسباب، صورتوں، درجات اور مظاہر کے ساتھ انسانی فرد اور معاشرے میں ظاہر ہوتی ہے۔ کسی جہالت کا سبب پیدائشی اور فطری حدودِ انسانی ہوسکتی ہیں، کسی کا سبب انسان کی اپنی غفلت اور کوتاہی، کسی کا سبب تعصب یا ماحول، کسی کا سبب یہ شعور کہ ’’میں نہیں جانتا‘‘، اور کسی کا سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انسان اپنی لاعلمی کو کسی مقدس عنوان، سماجی روایت یا علمی اصطلاح کے پردے میں چھپا دے۔

اس لیے جہالت کو صرف ’’علم کا فقدان‘‘ کہہ دینا اس کے حقیقی دائرے کو بہت محدود کردیتا ہے۔ جہالت کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ کہاں سے آئی، انسان اسے جانتا ہے یا نہیں، وہ اسے کیوں برقرار رکھتا ہے، اور وہ اپنے آپ کو کس لباس میں پیش کرتی ہے۔

سب سے پہلی تقسیم فطری جہالت اور اکتسابی جہالت کی ہے۔

انسان جب دنیا میں آتا ہے تو وہ بے شمار حقائق سے ناواقف ہوتا ہے۔ اسے زبان نہیں آتی، اسے دنیا کے قوانین کا علم نہیں ہوتا، اسے معاشرتی معاملات کا شعور نہیں ہوتا، اسے بہت سے جسمانی، طبعی، تاریخی اور علمی حقائق معلوم نہیں ہوتے۔ قرآنِ مجید انسان کی اس ابتدائی حالت کو واضح کرتے ہوئے فرماتا ہے:

وَاللَّهُ أَخْرَجَكُم مِّن بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا

’’اور اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا، اس حال میں کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔‘‘

(النحل: 78)

یہ انسانی وجود کی ایک بنیادی حقیقت ہے: انسان علم لے کر دنیا میں نہیں آتا؛ وہ علم حاصل کرتا ہے۔

یہ جہالت اپنی اصل کے اعتبار سے فطری ہے۔ اسے اخلاقی جرم قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ یہ انسان کی پیدائشی حالت اور اس کی محدودیت کا حصہ ہے۔ بچہ اپنی لاعلمی کے سبب قابلِ ملامت نہیں؛ وہ سیکھنے کے مرحلے میں ہے۔

یہاں ایک بنیادی اصول سامنے آتا ہے:

جس جہالت کا انسان ذمہ دار نہیں، وہ گناہ نہیں؛ لیکن جس جہالت کو دور کرنے کی قدرت رکھنے کے باوجود انسان اسے باقی رکھے، اس کی نوعیت مختلف ہوسکتی ہے۔

یہی ہمیں اکتسابی جہالت کی طرف لے جاتا ہے۔

اکتسابی جہالت وہ ہے جو انسان کے اپنے رویوں، انتخاب، غفلت، تعصب، ضد، خواہش، ماحول، غلط تربیت، ناقص معلومات یا تحقیق سے فرار کے نتیجے میں پیدا یا مستحکم ہوتی ہے۔

مثلاً کسی شخص کو حق بات جاننے کے ذرائع میسر ہوں، اہلِ علم سے پوچھنے کا موقع ہو، تحقیق کی قدرت ہو، مگر وہ صرف اس لیے علم حاصل نہ کرے کہ اسے اپنی رائے تبدیل کرنا پسند نہیں؛ تو یہ محض فطری لاعلمی نہیں رہتی۔

اسی طرح کسی شخص کو ایک موضوع پر بار بار درست معلومات پہنچیں، لیکن وہ اپنے تعصب کی وجہ سے ہر دلیل کو مسترد کرتا رہے تو اس کی جہالت محض ’’نہ جاننے‘‘ کا نتیجہ نہیں بلکہ جاننے سے انکار کا نتیجہ بھی بن سکتی ہے۔

یوں فطری جہالت کا بنیادی سبب انسانی محدودیت ہے، جبکہ اکتسابی جہالت کا سبب اکثر انسانی اختیار اور رویہ ہوتا ہے۔

فطری جہالت کا جواب:

تعلیم۔

اکتسابی جہالت کا جواب:

تعلیم کے ساتھ اصلاحِ فکر، محاسبہ اور ارادے کی درستگی۔

فطری جہالت کہتی ہے:

’’میں ابھی نہیں جانتا کیونکہ مجھے سیکھنا ہے۔‘‘

اکتسابی جہالت بعض اوقات کہتی ہے:

’’میں جان سکتا تھا، مگر میں نے جاننے کی کوشش نہیں کی۔‘‘

اور یہی فرق اخلاقی اعتبار سے نہایت اہم ہے۔

اس کے بعد جہالت کی دوسری تقسیم سامنے آتی ہے:

شعوری جہالت اور غیر شعوری جہالت۔

شعوری جہالت سے مراد یہ ہے کہ انسان کسی معاملے میں اپنی لاعلمی کو پہچانتا ہو۔ وہ جانتا ہو کہ اسے علم نہیں، اس لیے سوال کرتا ہے، تحقیق کرتا ہے یا کسی ماہر سے رجوع کرتا ہے۔

یہ کیفیت بظاہر جہالت ہے، لیکن اس میں خود آگہی موجود ہے۔

ایک شخص کہتا ہے:

’’میں اس مسئلے سے واقف نہیں، اس لیے اس پر رائے دینے سے پہلے تحقیق کروں گا۔‘‘

یہ شعوری جہالت ہے۔

اس کے مقابلے میں غیر شعوری جہالت وہ ہے جس میں انسان نہ صرف کسی حقیقت سے ناواقف ہو بلکہ اسے اپنی لاعلمی کا احساس بھی نہ ہو۔

وہ اپنی محدود معلومات کو مکمل سمجھتا ہے، اپنے گمان کو علم، اپنے تجربے کو کلی اصول اور اپنی رائے کو آخری فیصلہ تصور کرلیتا ہے۔

یہی کیفیت جہالتِ مرکب سے بہت قریب ہوجاتی ہے۔

یوں ایک نہایت اہم فرق سامنے آتا ہے:

شعوری جہالت میں انسان اپنی لاعلمی کو جانتا ہے؛ غیر شعوری جہالت میں انسان اپنی لاعلمی سے بھی ناواقف ہوتا ہے۔

شعوری جہالت علم کی طرف کھلنے والا دروازہ ہے۔

غیر شعوری جہالت علم کے دروازے پر کھڑی وہ دیوار ہے جس کا وجود خود انسان کو معلوم نہیں۔

یہاں انسان کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہی ہے کہ وہ اپنی فکری حدود کو محسوس ہی نہ کرے۔

قرآنِ مجید کا ارشاد ہے:

فَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ

’’جس چیز کا تمہیں علم نہیں، اس کے پیچھے نہ پڑو۔‘‘

(الإسراء: 36)

یہ حکم دراصل انسان کو اپنی علمی حدود کا شعور دیتا ہے۔ جو چیز معلوم نہیں، اس پر بے بنیاد موقف اختیار نہ کرنا علمی دیانت ہے۔

لیکن انسانی جہالت کی کچھ صورتیں ایسی بھی ہیں جو صرف فرد کے ذہن میں نہیں رہتیں؛ وہ معاشرے، روایت، گروہ، ادارے اور مذہبی یا فکری بیانیے کے ذریعے بھی محفوظ کی جاسکتی ہیں۔

یہاں ایک نہایت حساس اصطلاح سامنے آتی ہے:

مقدس جہالت۔

’’مقدس جہالت‘‘ سے مراد یہ نہیں کہ کوئی حقیقی شرعی علم یا دینی حکم جہالت ہے۔ بلکہ یہاں یہ ایک تنقیدی و تحلیلی اصطلاح ہے، جس سے مراد وہ لاعلمی یا غیر محقق تصور ہے جسے انسان کسی مقدس نسبت، مذہبی جذبات، بزرگ شخصیت، قدیم روایت، گروہی وابستگی یا مذہبی شعار کی وجہ سے سوال، تحقیق اور تنقید سے بالاتر سمجھنے لگے۔

اس اصطلاح کا مقصد دین پر تنقید نہیں بلکہ دین کے نام پر انسانی فہم کی غیر معقول تقدیس کو سمجھنا ہے۔

حقائقِ وحی اپنی جگہ مقدس ہیں، لیکن ہر انسانی فہم، ہر نقل، ہر روایت، ہر تعبیر اور ہر نسبت کو محض مذہبی عنوان کی وجہ سے وحی کا درجہ نہیں دیا جاسکتا۔

یہاں علمِ جہالت ایک نہایت بنیادی سوال اٹھاتا ہے:

کیا ہم جس چیز کا دفاع کر رہے ہیں، واقعی وحی کا حکم ہے یا ہماری اپنی فہم، روایت یا تعبیر؟

یہ فرق نہ کیا جائے تو انسان اپنی لاعلمی کو تقدس کا لباس پہنا سکتا ہے۔

مثلاً کوئی شخص کسی بات کا ماخذ نہیں جانتا، دلیل سے واقف نہیں، اہلِ علم کی تحقیق نہیں دیکھی، لیکن صرف یہ کہہ کر اسے قطعی دین قرار دے دیتا ہے کہ ’’ہمارے ہاں ہمیشہ سے یہی ہوتا آیا ہے‘‘۔

یہاں روایت علم کی جگہ لے لیتی ہے۔

اور جب روایت پر سوال کرنا بے ادبی سمجھا جانے لگے تو تحقیق کا دروازہ بند ہوسکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلامی علمی روایت میں سند، تحقیق، روایت، درایت، جرح و تعدیل، اصولِ تفسیر، اصولِ حدیث اور اصولِ فقہ جیسے علوم وجود میں آئے۔ مقصد یہی تھا کہ دین کے نام پر ہر بات کو بلا تحقیق قبول نہ کیا جائے۔

قرآنِ مجید کا اصول ہے:

قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ

’’کہہ دیجیے: اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل لاؤ۔‘‘

(البقرۃ: 111)

لہٰذا مقدس نسبت دلیل کا متبادل نہیں بنتی۔

اس کے مقابلے میں ایک دوسری صورت ہے:

مصنوعی جہالت۔

مصنوعی جہالت وہ ہے جو فطری طور پر موجود نہیں ہوتی بلکہ جان بوجھ کر پیدا، برقرار یا پھیلائی جاتی ہے۔

کبھی کوئی فرد اپنی لاعلمی چھپانے کے لیے جان بوجھ کر سوال سے بچتا ہے۔

کبھی کوئی گروہ اپنے مفاد کے لیے لوگوں کو مخصوص معلومات سے دور رکھتا ہے۔

کبھی سیاسی، معاشی، سماجی یا نظریاتی مفادات کے لیے حقائق کا ایک حصہ چھپایا جاتا ہے اور ایک مخصوص تصور کو بار بار دہرایا جاتا ہے۔

کبھی پروپیگنڈا ایسا ماحول پیدا کرتا ہے جس میں انسان کے پاس معلومات تو بہت ہوتی ہیں، مگر وہ معلومات اس طرح منتخب کی جاتی ہیں کہ حقیقت کا مکمل نقشہ اس کے سامنے نہ آسکے۔

یہ مصنوعی جہالت ہے۔

اس میں انسان کو لازماً بے خبر نہیں رکھا جاتا؛ کبھی اسے اتنی منتخب معلومات دی جاتی ہیں کہ وہ سمجھنے لگے کہ وہ حقیقت سے مکمل واقف ہے، حالانکہ اسے حقیقت کا صرف وہ حصہ دکھایا گیا ہوتا ہے جو کسی مخصوص مقصد کے لیے مفید ہو۔

یہ جدید دنیا کی جہالت کی ایک پیچیدہ ترین صورت ہے:

حقائق کی عدم موجودگی سے زیادہ خطرناک، حقائق کی منتخب موجودگی ہے۔

کیونکہ مکمل لاعلم شخص جانتا ہے کہ اسے معلوم نہیں، لیکن آدھا سچ جاننے والا شخص اکثر یہ سمجھتا ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔

مصنوعی جہالت انفرادی بھی ہوسکتی ہے اور اجتماعی بھی۔

ایک فرد اپنے تعصب کی حفاظت کے لیے معلومات سے آنکھیں بند کرسکتا ہے۔

ایک خاندان بعض موضوعات پر گفتگو روک سکتا ہے۔

ایک معاشرہ بعض سوالات کو ’’ممنوع‘‘ بنا سکتا ہے۔

ایک ادارہ اپنے مفاد کے خلاف معلومات چھپا سکتا ہے۔

اور ایک پورا فکری نظام ایسی معلومات کو غیر ضروری قرار دے سکتا ہے جو اس کے بنیادی دعووں کو چیلنج کرتی ہوں۔

اس کے بعد جہالت کی سب سے زیادہ پیچیدہ صورت سامنے آتی ہے:

علم کے لبادے میں جہالت۔

یہ جہالت اس لیے خطرناک ہے کہ اس کا ظاہری چہرہ علم جیسا ہوتا ہے۔

یہاں انسان جاہل دکھائی نہیں دیتا۔

اس کے پاس اصطلاحات ہوتی ہیں۔

حوالے ہوتے ہیں۔

کتابیں ہوتی ہیں۔

اعداد و شمار ہوتے ہیں۔

دلائل جیسے جملے ہوتے ہیں۔

اعتماد ہوتا ہے۔

اور کبھی کبھی ایک پورا علمی اسلوب بھی ہوتا ہے۔

لیکن مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ علم کے ظاہری اجزا موجود ہوتے ہیں، مگر حقیقت کی صحیح معرفت، دلیل کی صحت، استدلال کی درستگی اور علمی دیانت موجود نہیں ہوتی۔

یہ وہ مقام ہے جہاں جہالت سب سے زیادہ خطرناک ہوجاتی ہے، کیونکہ عام جہالت سے انسان احتیاط کرسکتا ہے، مگر علمی لباس میں موجود جہالت اعتماد حاصل کرلیتی ہے۔

ایک شخص اگر صاف کہے کہ ’’مجھے معلوم نہیں‘‘ تو لوگ محتاط ہوجاتے ہیں۔

لیکن اگر وہ غلط بات کو پیچیدہ اصطلاحات، طویل حوالوں اور پُراعتماد لہجے میں بیان کرے تو کم علم سامع اسے علم سمجھ سکتا ہے۔

اس لیے علم کی پہچان صرف الفاظ کی کثرت سے نہیں ہوسکتی۔

علم کا امتحان یہ ہے کہ:

دلیل درست ہے یا نہیں؟

ماخذ معتبر ہے یا نہیں؟

استدلال مقدمات سے نتیجے تک صحیح پہنچتا ہے یا نہیں؟

حوالہ سیاق سے کاٹا تو نہیں گیا؟

جزوی حقیقت کو کلی حقیقت تو نہیں بنایا گیا؟

مخالف دلائل کو دیانت داری سے پیش کیا گیا ہے یا نہیں؟

اور سب سے بڑھ کر:

کیا بولنے والا اپنی بات کی حدود کو پہچانتا ہے؟

یہ آخری سوال نہایت اہم ہے۔

علم کی ایک علامت حدود کا شعور ہے۔

جہالت کی ایک علامت بے حد دعویٰ ہے۔

علم کہتا ہے:

’’یہ میں جانتا ہوں۔‘‘

پھر کہتا ہے:

’’یہاں تک میری دلیل ہے۔‘‘

پھر کہتا ہے:

’’اس مقام پر اختلاف موجود ہے۔‘‘

اور کبھی کہتا ہے:

’’یہ مسئلہ میرے تخصص سے باہر ہے۔‘‘

جبکہ علم کے لبادے میں جہالت ہر سوال کا ایک قطعی جواب دینے کی کوشش کرتی ہے۔

اسے شک پسند نہیں۔

اسے توقف پسند نہیں۔

اسے ’’معلوم نہیں‘‘ کہنا پسند نہیں۔

اسے اپنی غلطی تسلیم کرنا مشکل لگتا ہے۔

اور کبھی وہ دلیل سے زیادہ اپنی علمی شخصیت کا دفاع کرنے لگتی ہے۔

یہاں جہالت اور تکبر کا تعلق پیدا ہوتا ہے۔

انسان اپنی معلومات کی حفاظت سے زیادہ اپنی علمی شناخت کی حفاظت کرنے لگتا ہے۔ پھر کسی دلیل کا رد کرنا حقیقت کی تلاش نہیں رہتا بلکہ اپنی شخصیت کے دفاع کا مسئلہ بن جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حقیقی علم انسان کو عاجزی دیتا ہے۔

قرآنِ مجید فرماتا ہے:

وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ

’’اور ہر صاحبِ علم کے اوپر ایک زیادہ علم رکھنے والا ہے۔‘‘

(یوسف: 76)

یہ آیت علمی سفر کی ایک بنیادی اخلاقی حقیقت بتاتی ہے: انسان کا علم مهما بڑھ جائے، اس کے اوپر علم کا ایک وسیع تر دائرہ موجود رہتا ہے۔

پس جہالت کی ان مختلف اقسام کو اگر ایک نقشے میں جمع کیا جائے تو ایک جامع تصویر سامنے آتی ہے:

فطری جہالت — جو انسانی پیدائش اور محدودیت سے وابستہ ہے۔

اکتسابی جہالت — جو غفلت، تعصب، ضد، غلط تربیت یا انتخاب سے پیدا یا مستحکم ہوتی ہے۔

شعوری جہالت — جس میں انسان اپنی لاعلمی کو جانتا ہے۔

غیر شعوری جہالت — جس میں انسان اپنی لاعلمی سے بھی بے خبر ہوتا ہے۔

مقدس جہالت — جب انسانی لاعلمی یا غیر محقق تصور کو مقدس نسبت کے ذریعے سوال و تحقیق سے بالاتر کردیا جائے۔

مصنوعی جہالت — جب لاعلمی کو جان بوجھ کر پیدا، برقرار یا پھیلایا جائے، یا معلومات کو اس طرح محدود کیا جائے کہ حقیقت چھپی رہے۔

علم کے لبادے میں جہالت — جب ناقص یا غلط فہم کو علم کے ظاہری لباس، اصطلاحات، حوالوں یا اعتماد کے ذریعے علم کے طور پر پیش کیا جائے۔

ان سب میں ایک بنیادی فرق ہے، لیکن ایک گہرا ربط بھی موجود ہے۔

فطری جہالت اگر تعلیم سے دور نہ ہو تو اکتسابی جہالت بن سکتی ہے۔

شعوری جہالت اگر علم کی طلب پیدا کرے تو علم بن سکتی ہے۔

لیکن شعوری جہالت اگر ضد کے ساتھ برقرار رکھی جائے تو اکتسابی جہالت میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

غیر شعوری جہالت اگر خود آگہی سے محروم رہے تو جہالتِ مرکب پیدا کرسکتی ہے۔

مقدس جہالت اگر تقدس کے پردے میں محفوظ رہے تو نسل در نسل منتقل ہوسکتی ہے۔

مصنوعی جہالت اگر اجتماعی سطح پر پھیل جائے تو پورا معاشرہ اپنے بارے میں یہ گمان کرسکتا ہے کہ وہ باخبر ہے، حالانکہ اس کے علم کا دائرہ پہلے ہی متعین کردیا گیا ہو۔

اور علم کے لبادے میں جہالت ان سب سے زیادہ خطرناک ہوسکتی ہے، کیونکہ وہ جہالت کو علم کے خلاف نہیں بلکہ علم کے نام پر قائم کرتی ہے۔

یہاں علمِ جہالت کا ایک بنیادی اصول سامنے آتا ہے:

ہر جہالت کا علاج معلومات کی کثرت نہیں؛ بعض جہالتوں کا علاج پہلے یہ پہچاننا ہے کہ معلومات، علم نہیں؛ روایت، دلیل نہیں؛ مشہور بات، حقیقت نہیں؛ مقدس نسبت، انسانی فہم کو وحی نہیں بناتی؛ اور اعتماد، صحتِ علم کی ضمانت نہیں۔

انسانی علم کا سب سے بڑا دشمن کبھی کبھی جہالت نہیں ہوتی، بلکہ جہالت کا وہ روپ ہوتا ہے جو خود کو علم سمجھتی ہے۔

اسی لیے قرآنِ مجید انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ جس چیز کا علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ چلو:

وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ

اور جب نہ جانتے ہو تو اہلِ علم سے پوچھو:

فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

ان دونوں اصولوں کے درمیان علمِ جہالت کی پوری اخلاقیات پوشیدہ ہیں:

نہ جانتے ہو تو مان لو کہ نہیں جانتے۔

جاننا چاہتے ہو تو اہلِ علم سے پوچھو۔

دعویٰ کرو تو دلیل کے ساتھ کرو۔

دلیل ملے تو تحقیق کرو۔

غلطی معلوم ہو تو رجوع کرو۔

اور جہاں علم کی حد ختم ہوجائے وہاں توقف کرو۔

کیونکہ علم کا کمال یہ نہیں کہ انسان ہر چیز کے بارے میں بول سکے؛ علم کا کمال یہ ہے کہ انسان صحیح مقام پر بولنا اور صحیح مقام پر خاموش رہنا دونوں جانتا ہو۔

اور جہالت کی سب سے خطرناک شکل وہ نہیں جو کہتی ہے:

’’میں نہیں جانتا۔‘‘

بلکہ وہ ہے جو پوری علمی شان کے ساتھ کہتی ہے:

’’میں جانتا ہوں‘‘

حالانکہ اس کے پاس نہ حقیقت کا علم ہے، نہ اپنی لاعلمی کا شعور، نہ تحقیق کی دیانت، نہ دلیل کی صحت، اور نہ اپنی رائے سے رجوع کرنے کی آمادگی۔

یہی وہ مقام ہے جہاں علم کا لبادہ جہالت کو چھپا لیتا ہے۔

اور یہی وہ پردہ ہے جسے ’’علمِ جہالت‘‘ کو سب سے پہلے چاک کرنا ہے۔

کیونکہ کبھی انسان کو جہالت سے نکالنے کے لیے اسے علم دینا کافی نہیں ہوتا؛

پہلے اسے یہ دکھانا پڑتا ہے کہ جسے وہ علم سمجھ رہا ہے، شاید وہ علم ہے ہی نہیں۔

یہی شعور علم کی طرف حقیقی سفر کا آغاز ہے۔

Loading