شہزادی کا رومال
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک دفعہ کا ذکر ہے، چین کے کسی علاقے میں “دانش” نامی ایک نوجوان رہتا تھا۔ یہ نوجوان تھا تو غریب، مگر اللہ نے اسے علم کی دولت بہت دی تھی۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ جس قدر پڑھا لکھا تھا، اس سے کہیں زیادہ ذہین اور خوب صورت بھی تھا۔ اگر وہ کسی امیر گھرانے کا بیٹا ہوتا تو یقیناً کسی بڑے عہدے پر فائز ہوتا، لیکن بدقسمتی سے اس کے ماں باپ مفلس تھے۔ انھوں نے بڑی مشقتوں اور دکھ اٹھا کر اسے پالا پوسا تھا اور بڑی مشکلوں سے اسے لکھایا پڑھایا تھا۔
اب وہ بوڑھے ہو چکے تھے اور دانش کی بڑی تمنا تھی کہ وہ کوئی کام کرے اور اپنے بوڑھے ماں باپ کو سکھ پہنچائے۔ وہ چاہتا تھا کہ بہت سی دولت کمائے تاکہ ان کی آخری زندگی سکون سے گزرے۔ چنانچہ وہ نوکری کی تلاش میں لگ گیا، روزانہ صبح ہی صبح گھر سے نکل کھڑا ہوتا اور قصبے میں ادھر ادھر ملازمت کے لیے مارا مارا پھرتا۔ جہاں بھی جاتا اسے مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا اور جس سے بھی اس سلسلے میں بات کرتا، وہ انکار کر دیتا۔ اس طرح جب وہ دن بھر کی تکان کے بعد شام کو مایوس گھر لوٹتا تو اس کی ماں حسرت سے پوچھتی:
“دانش بیٹا! کوئی نوکری ملی؟”
جواب میں وہ بجھے بجھے لہجے میں کہتا:
“نہیں ماں! امید ہے کل ضرور مل جائے گی۔”
گو اسے روزانہ ناکامی سے دوچار ہونا پڑتا تھا، مگر وہ بڑا پرامید اور حوصلہ مند نوجوان تھا۔ وہ ہمت نہیں ہارتا تھا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ مایوسی اور ناکامی زیادہ دیر تک اس کا راستہ نہیں روک سکیں گی۔ اس کی ماں بھی ہر بار اس کی ہمت بندھاتی اور تسلی دیتے ہوئے کہتی:
“بیٹا! کبھی نہ کبھی تو نوکری مل ہی جائے گی، تم کوشش کیے جاؤ!”
اسی طرح دن بیت رہے تھے۔ دانش ہر روز معمول کے مطابق صبح ہی صبح نئی امیدوں کے ساتھ گھر سے نکل جاتا۔ آخر کئی روز کی مسلسل ناکامی کے بعد اس کی کوششیں کامیاب ہو گئیں۔ ایک شام وہ خوشی خوشی گھر آیا اور آتے ہی کہنے لگا:
“ماں! خوش خبری، آج مجھے نوکری مل گئی ہے!”
یہ سن کر اس کی ماں بہت خوش ہوئی اور اس کے باپ نے بھی خدا کا شکر ادا کیا۔ اللہ نے ان کی سن لی تھی۔ دانش کو ایک جرنیل کے پاس سیکرٹری کی حیثیت سے ملازمت مل گئی تھی۔ یہ جرنیل کھیلوں کا بڑا شوقین تھا، خاص طور پر کشتی رانی اور مچھلی کا شکار اس کا خاص مشغلہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی اسے فرصت ملتی، وہ اپنا یہ دل پسند شوق پورا کرتا اور جاتے وقت اپنے نوجوان سیکرٹری دانش کو بھی ضرور اپنے ساتھ لے جاتا۔ وہ دانش کو بہت چاہتا تھا، اس لیے سفر میں بھی اسے اپنے پاس ہی رکھتا تھا۔
ڈالفن کا شکار اور دانش کی رحم دلی
ایک روز جرنیل حسب معمول سمندر کی سیر کو گیا اور دانش بھی اس کے ہمراہ تھا۔ ملاح کشتی چلا رہے تھے اور وہ دونوں لہروں سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ جب وہ واپس لوٹنے لگے تو انھیں کشتی کے قریب ہی ایک ڈالفن مچھلی نظر آئی۔ ڈالفن اپنے دھیان میں مست، موجوں کے کھیل میں مگن تھی۔ جوں ہی جرنیل کی نظر اس پر پڑی، اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، جلدی سے اپنے کندھے سے کمان اتاری، تیر چڑھایا اور ایسا نشانہ باندھا کہ تیر سیدھا جا کر ڈالفن کے جسم میں پیوست ہو گیا۔
تیر کا لگنا تھا کہ بیچاری ڈالفن بری طرح تڑپنے لگی۔ ملاحوں نے جلدی سے جال ڈال کر اسے کشتی میں کھینچ لیا۔ جرنیل اس بات پر خوش تھا کہ اس کا نشانہ خطا نہیں گیا اور ملاح اس لیے خوش تھے کہ انھوں نے مالک کا شکار کر لیا تھا۔ اس کے برعکس دانش کو بہت افسوس ہوا، اسے تڑپتی ہوئی ڈالفن پر بہت رحم آیا۔ اچانک سب نے دیکھا کہ اس ڈالفن کی دم سے ایک چھوٹی سی مچھلی لپٹی ہوئی تھی۔ دانش نے آگے بڑھ کر ڈالفن کے جسم سے تیر نکالا، اس کے زخم پر مرہم پٹی کی اور جرنیل سے درخواست کی:
“اگر آپ برا نہ مانیں تو ان دونوں مچھلیوں کو دوبارہ سمندر میں چھوڑ دیں؟”
جرنیل نے حیران ہو کر پوچھا: “مگر وہ کیوں؟”
دانش نے التجا کی: “مجھے ان مچھلیوں پر رحم آ رہا ہے۔ ان کو چھوڑ دینے سے آپ کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔”
جرنیل دانش کو بہت چاہتا تھا اور جانتا تھا کہ وہ ایک نیک اور دیانت دار نوجوان ہے، اس لیے اس نے خوشی خوشی دانش کی بات مان لی۔ ملاحوں نے ڈالفن کو دوبارہ سمندر میں پھینک دیا اور وہ پھر سے آزاد موجوں میں تیرنے لگی۔
سمندر کا طوفان اور جزیرہ
اس واقعے کو ایک سال کا عرصہ بیت چکا تھا۔ ایک روز دانش ایک چھوٹی سی کشتی میں سوار بالکل اسی جگہ سے گزر رہا تھا جہاں ایک سال پہلے ڈالفن زخمی ہوئی تھی۔ آج وہ اکیلا تھا کہ اچانک ایک تیز و تند لہر اس کی کشتی سے ٹکرا گئی۔ کشتی کا توازن بگڑ گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ الٹ گئی۔ خوش قسمتی سے کشتی کا ایک بڑا سا تختہ دانش کے ہاتھ لگ گیا، جسے اس نے مضبوطی سے تھام لیا۔
رات بھر وہ موجوں کے رحم و کرم پر رہا اور صبح کی روشنی میں اس نے دیکھا کہ سمندر کی موجوں نے اسے ایک خوبصورت جزیرے کے کنارے لا پھینکا ہے۔ وہ تختے کو چھوڑ کر کنارے پر آیا اور آگے بڑھا۔ جزیرہ نہایت سرسبز و شاداب تھا، لیکن وہاں دور دور تک کسی انسان کا نام و نشان نہیں تھا۔
ابھی وہ بھوک مٹانے کے لیے پھل تلاش کر رہا تھا کہ اچانک ایک تیر سنسناتا ہوا آیا اور اس کے قریب درخت میں ترازو ہو گیا۔ اس نے گھبرا کر دیکھا تو چند گھڑ سوار لڑکیاں آتی دکھائی دیں۔ وہ سب سرخ لباس پہنے ہوئے تھیں اور ان کے ہاتھ میں کمانیں تھیں۔ ان میں ایک لڑکی حسن و جوانی میں سب سے بڑھ کر تھی، جسے دیکھ کر دانش کے دل میں ایک انوکھا ہی احساس جاگ اٹھا۔
دانش چپکے سے ایک لڑکے کے پاس پہنچا جو وہاں کگوں کی نگرانی کر رہا تھا۔ اس نے لڑکے سے کھانا مانگا۔ لڑکے نے ترس کھا کر اسے کھانا دیا اور خبردار کیا:
“یہاں سے جلد از جلد نکل جاؤ، کیونکہ آج شہزادی اپنی سہیلیوں کے ساتھ شکار کھیلنے نکلی ہے، اگر اس نے تمہیں دیکھ لیا تو تمہاری خیر نہیں!”
محل کا راز اور سرخ رومال
دانش وہاں سے آگے بڑھا تو اسے کچھ فاصلے پر ایک عالی شان محل دکھائی دیا۔ وہ چھپتے چھپاتے محل کے احاطے میں داخل ہو گیا۔ وہاں ایک خوبصورت باغ تھا اور برآمدے میں لکھنے پڑھنے کا سامان رکھا ہوا تھا۔ اس زمانے میں کاغذ کی بجائے ریشمی کپڑے پر خط لکھا جاتا تھا اور دانش خوش خطی کا ماہر تھا۔
اتنے میں اسے باہر سے لڑکیوں کے قہقہے سنائی دیے، تو وہ گھبرا کر ادھر ادھر چھپنے کی کوشش کرنے لگا۔ اتنے میں اس کی نظر زمین پر پڑے ہوئے ایک سرخ ریشمی رومال پر پڑی، جو بظاہر کسی شہزادی کا گر گیا تھا۔ دانش نے اٹھا کر دیکھا تو اس پر لکھنے کا برش موجود تھا۔ اس نے اپنے دل کی کیفیت کو شعر کی صورت میں نہایت خوش خطی کے ساتھ اس سرخ رومال پر تحریر کر دیا۔
ابھی وہ وہاں سے نکلنے کی سوچ ہی رہا تھا کہ اس نے دیکھا کہ دروازے پر تو تالا لگ چکا ہے! وہ پھنس چکا تھا۔ اتنے میں محل کی ایک کنیز وہاں آئی، جس کی نظر میز پر پڑے رومال اور اس پر لکھے ہوئے شعر پر پڑی۔ اس نے رومال اٹھایا اور حیرت سے دانش کو دیکھتے ہوئے کہا:
“یہ تم نے کیا لکھا ہے؟ اور تم یہاں کیا کر رہے ہو؟”
کنیز وہاں سے چلی گئی اور تھوڑی دیر بعد کھانے کی طشتری لے کر واپس آئی اور بولی:
“شہزادی کو تمہارا شعر بہت پسند آیا ہے، مگر اب تمہیں صبح تک انتظار کرنا ہوگا کہ وہ تمہارے بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے۔”
ملکہ کی حقیقت اور انجام
اگلی صبح پہریدار آئے اور دانش کو پکڑ کر دربار میں ملکہ کے حضور پیش کیا گیا۔ جوں ہی ملکہ نے دانش کو دیکھا، وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھی اور گرم جوشی سے بولی:
“شاید تم حیران ہو گے کہ میں نے تمہیں کیسے پہچان لیا؟ پچھلے سال جب میں اپنے والدین سے ملنے جا رہی تھی تو طویل سفر کو آسان بنانے کے لیے میں نے ڈالفن مچھلی کا روپ دھار لیا تھا—وہی ڈالفن جسے تم نے جرنیل کے ہاتھوں سے بچایا تھا اور میری دم کے ساتھ جو چھوٹی مچھلی تھی، وہ میری یہی خاص کنیز تھی!”
دانش کی ساری حیرانی دور ہو گئی۔ ملکہ نے پیار سے کہا:
“تم ہمارے مہمان ہو، اب بتاؤ تمہاری سب سے بڑی تمنا کیا ہے؟”
دانش نے شرماتے ہوئے اس حسین شہزادی کا ذکر کیا جسے اس نے دیکھا تھا اور جس کے رومال پر اس نے شعر لکھا تھا۔ ملکہ مسکرائی اور فوراً شہزادی کو بلا لیا۔ شہزادی پہلے ہی اس نوجوان کے فن اور بہادری کی قائل ہو چکی تھی اور اب سامنے دیکھ کر اسے دل دے بیٹھی تھی۔
چند ہی روز بعد بڑی دھوم دھام سے دانش اور شہزادی کی شادی ہو گئی۔ دانش جو ایک غریب سیکرٹری تھا، نیکی اور رحم دلی کے صلے میں اس جزیرے کا شہزادہ بن گیا۔ وہ خوش و خرم وہیں رہنے لگا، البتہ سال میں ایک بار اپنے بوڑھے ماں باپ سے ملنے ضرور جاتا اور ان کے لیے قیمتی تحائف لے جاتا۔
اس بات کو صدیاں بیت چکی ہیں، مگر اس جزیرے کے اردگرد آج بھی لوگ ڈالفن مچھلی کا شکار نہیں کرتے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ شاید یہ بھی کسی جزیرے کی ملکہ ہو جو اپنے پیاروں سے ملنے جا رہی ہو۔
____________________________________________
اصلاحی، سبق آموز اور مزاحیہ کہانیوں کے لیے پیج کو فالو کریں۔ شکریہ
#urdustories
#funnymoments
#storytelling
#funnystories
#MoralStory
![]()

