ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ہم فرقوں میں تقسیم ہو کر اتنے شدت پسند ہو گئے ہیں کہ اگر کوئی شخص صحیح بات دلیل کے ساتھ بھی کرے تو ایسے شخص کو ذلت آمیز رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ ہم دین اسلام سے زیادہ اپنے فرقہ کو اہمیت دیتے ہیں۔ مجھے بھی ایسی باتیں سننا پڑتی ہیں لیکن انشااللہ میں اپنی بات کرتا رہونگا جو قرآن و سنت کے تحت ہو اور میرے پاس دلیل بھی ہو۔ کوئی مانے نہ مانے یہ اس کی مرضی لیکن میں اپنا فرض ادا کرتا رہونگا۔ میں یہ سب اچھی نیت سے کرونگا اور اگر غلطی ہو جائے تو اللہ تعالیٰ سے معافی کا خواستگار ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بہت خوشدلی سے کرونگا کیونکہ مجھے اپنی عاقبت اپنی انا سے زیادہ عزیز ہے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ ہم ایک امت یعنی امت مسلمہ کا حصہ ہونے کی بجائے ، اس کے ہمارے اپنے بنائے گئے فرقوں سے تعلق کو فوقیت دے کر دوسروں کو تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں اور اس پر نہ صرف فخر کرتے ہیں بلکہ اسے اپنی نجات کا زریعہ سمجھتے ہیں۔ کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات میں کوئی فرقہ تھا؟ سب مسلمان تھے اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم سنی، شیعہ، اہل سنت، اہل حدیث، دیو بندی، بریلوی، وھابی اور نہ جانے اور کتنے گروہوں میں تقسیم ہو گئے ۔ ہمارا نصب العین اور ذمہداری اس دین پر عمل کرتے ہوئے اسے دوسروں تک پہنچانا تھا لیکن ہمارا وقت اور وسائل اپنے اپنے فرقہ کو صحیح ثابت ہونے پر صرف ہونے لگ گئے۔
ہم نے اصل دین کے متوازی اپنے اپنے ناموں سے دین کھڑے کر دیے ہیں اور حقیقی دین اسلام کہیں پیچھے چھپ گیا ہے اور کوئی اس طرف توجہ دلائے تو اسے تتضحیک کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔
ہم ان باتوں اور احکام پر عمل نہیں کرتے جو دین کی اساس ہیں اور ہر فرقہ اور گروہ ان پر متفق ہے جیسا کہ نماز پڑھنا۔ ہم جو بھی ارکان درست سمجھیں وہی ادا کرتے ہوئے نماز تو ادا کریں جو پانچ اوقات فرض ہے اور سب ہی مانتے ہیں لیکن ہماری بحث یہ ہوتی ہے کہ رفع یدین ہے یا نہیں ، ھاتھ کہاں تک اٹھانے ہیں یا کہاں باندھنے ہیں لیکن نماز ادا نہیں کرتے۔انسان خلوص نیت سے اپنے علم کے مطابق کوئی بھی عمل کرے ، اللہ تعالیٰ قبول کرنے والے ہیں چاہے کوئی غلطی بھی ہو کیونکہ وہ ہمارے دلوں میں پنپنے والے خیالات تک سے واقف ہیں۔ جھوٹ، چوری، حق تلفی، رشوت، فحاشی اور ایسے دوسرے اعمال گناہ ہیں اور ہر فرقہ تسلیم کرتا ہے لیکن ان پر عمل ہوتا ہے اور نہ بحث۔ ہم ایک جسم کی طرح تھے اور تمام عضو مل کر ایک مقصد رکھتے تھے لیکن اب ہر کسی نے اپنی ڈھائی اینٹ کی مسجد بنا لی ہے۔ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ ہماری مساجد جنہیں اللہ تعالیٰ کا گھر کہا جاتا ہے وہ بھی فرقوں کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ یہ سب کر کے بھی ہم دنیا و آخرت میں سرخرو ہونے کا خواب دیکھتے ہیں۔
دوسرے مذاہب کے بھی فرقے ہیں اور جب ان سے اس پر بات ہو خود کو زیادہ شرمندگی ہوتی ہے کیونکہ ان کے فرقوں کی تعداد ہمارے مقابل بہت ہی کم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اللہ کی نزدیک دین تو صرف اسلام ہے۔ ہم نے اس دین کی کیا حالت کر دی ہے کہ ہمیں خود نہیں پتہ کہ ہم کون سے مسلمان ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن عطا کیا کہ یہ فیصلہ کرے گا جب کوئی تنازعہ ہو مگر افسوس ہم اس کتاب کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے اور بجائے اس کی پیروی کرنے کے ، ہم روایات اور مختلف شخصیات کو اہمیت دے کر ، اسی کے مطابق اپنا مکتبہ فکر بنا کر دوسروں کو غلط قرار دینا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ بہت ہی تشویش اور افسوس کی بات ہے۔ ذرا سوچیے
![]()

