راسخون فی العلم
وہ جنہیں تاویل کا نور ملا
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ راسخون فی العلم ۔۔۔ وہ جنہیں تاویل کا نور ملا)قرآنِ حکیم الفاظ کا کوئی عام مجموعہ نہیں، بلکہ یہ ربِ ذوالجلال کا وہ ازلی و ابدی کلام ہے جس کے ظاہر میں بھی شفا ہے اور جس کے باطن میں معرفت کے بے شمار جہان پوشیدہ ہیں۔
انسانی عقل جب قرآن کی تلاوت کرتی ہے، تو وہ اس کے ظاہری احکام، اوامر و نواہی اور قصص و امثال تک تو آسانی سے پہنچ جاتی ہے،
لیکن جہاں کلامِ الٰہی میں اسرار و رموز کے پردے حائل ہوتے ہیں، وہاں عقلِ حسی کے قدم لڑکھڑانے لگتے ہیں، اور وہ ساحل پر کھڑی رہ جاتی ہے جبکہ حقیقت کے موتی سمندر کی تہہ میں چمک رہے ہوتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآنِ مجید نے انسانوں کے فکری اور روحانی طبقات کو الگ الگ کر کے ایک خاص طبقے کا تعارف کروایا ہے، جسے “راسخون فی العلم” کہا جاتا ہے۔
سورۃ آلِ عمران میں باری تعالیٰ نے اپنے کلام کی دو بنیادی قسمیں بیان فرمائی ہیں؛ ایک محکمات، وہ آیات جن کا معنی چاندنی رات کی طرح روشن اور واضح ہے، اور دوسری متشابہات، وہ آیات جو اسرار و رموز کے حجاب میں لپٹی ہوئی ہیں۔
عام عقل رکھنے والے اور جن کے دلوں میں کجی ہوتی ہے، وہ متشابہات کے ظاہری لفظوں میں الجھ کر فتنے کی تلاش میں رہتے ہیں، لیکن جن کے سینوں کو ربِ کائنات نے اپنے خاص نور سے منور فرمایا ہوتا ہے،
ۃ
ان کا حال قرآن یوں بیان فرماتا ہے:
وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ ۗ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ۔
یعنی اس کی تاویل کوئی نہیں جانتا بجز اللہ کے، اور پختہ علم والے کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے، اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے — سورۃ آلِ عمران، آیت 7۔
مفسرینِ کرام اور اہلِ معرفت نے اس آیتِ مبارکہ کے تحت ایک نہایت لطیف اور گہرا نکتہ بیان فرمایا ہے۔ یہاں والراسخون فی العلم کا جوڑ بارگاہِ الٰہی سے ایسا مربوط ہے کہ علمِ باطن کے حاملین کو تاویلِ قرآن کا وہ حصہ عطا کیا جاتا ہے جو عام گہرے مطالعہ کرنے والوں کو بھی نصیب نہیں ہوتا۔
“رسوخ” کے لغوی معنی ہیں کسی چیز کا اتنی گہرائی میں اتر جانا کہ وہ اپنی جگہ سے ہل نہ سکے، جیسے چٹان زمین میں پیوست ہو جائے اور طوفان بھی اسے جنبش نہ دے سکے۔
اس قرآنی اصطلاح کو سمجھنے کے لیے ایک مادی تمثیل پر غور کیجیے۔ ایک درخت وہ ہوتا ہے جس کی جڑیں زمین کی اوپری سطح پر ہوں؛ ہلکی سی تیز ہوا آئے تو وہ اکھڑ جاتا ہے، اور اگر سطح پر پانی نہ ملے تو خشک ہو جاتا ہے۔
لیکن ایک وہ درخت ہے جس کی جڑیں زمین کا سینہ چاک کر کے نیچے اتھاہ گہرائی میں موجود میٹھے پانی کے قدرتی ذخیرے اور چٹانوں تک پہنچ چکی ہوں۔ باہر قحط پڑے یا طوفان آئے، اس درخت کے پتے ہمیشہ سبز رہتے ہیں اور وہ تازہ پھل دیتا ہے۔
علمِ ظاہر کے عالم کی مثال اس اوپری جڑ والے درخت جیسی ہے جو صرف کتابی نصوص کی اوپری سطح سے سیراب ہوتا ہے، جبکہ “راسخون فی العلم” وہ اہلِ باطن ہیں جن کے علم کی جڑیں “علمِ لدنی” کے اس ازلی چشمے تک پہنچ چکی ہیں جو براہِ راست عرشِ الٰہی سے جاری ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، جنہیں سرکارِ دو عالم ﷺ نے اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ اے اللہ اسے دین کی فہم اور تاویل کا علم عطا فرما۔
کی دعا سے سرفراز فرمایا تھا، اس آیت کے بارے میں خود فرماتے ہیں کہ وہ انہی راسخین فی العلم میں سے ہیں جو قرآن کی تاویل کا علم رکھتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ تاویلِ قرآن محض لغوی قواعد کا نام نہیں، بلکہ یہ وہ باطنی تاویل ہے جو بارگاہِ رسالت سے ملنے والی دعا اور تزکیہِ قلب کے فیض کا ثمر ہوتی ہے۔
امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ اپنی “تفسیرِ کبیر” میں اور حجۃ الاسلام امام محمد غزالی علیہ الرحمہ “احیاء علوم الدین” میں تحریر فرماتے ہیں کہ رسوخِ علم صرف کثرتِ حفظ یا فنون میں مہارت سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے تین بنیادی شرطیں ہیں۔
طہارتِ قلب، تقویٰ کی کامل حالت، اور نفس کی خواہشات سے مکمل آزادی۔ جب انسان ان منازل کو طے کر لیتا ہے، تو اس کا علم محض عقل کا استدلال نہیں رہتا بلکہ وہ “نورِ فراست” میں تبدیل ہو جاتا ہے، اور الفاظ کے پیچھے چھپے معانی خود بخود اس کے دل کے دریچوں سے جھانکنے لگتے ہیں۔
اس باطنی تاویل اور رسوخ کا ایک حیرت انگیز واقعہ اسلاف کی تاریخ میں ملتا ہے۔ سیدنا فاروقِ اعظم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی مجلس میں جہاں بدر کے بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرام موجود ہوتے تھے، وہاں آپ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بھی اپنے پاس بٹھایا کرتے تھے۔ بعض اکابر نے دل میں سوچا کہ اتنے کمسن نوجوان کو اس علمی مرتبے میں کیوں شامل کیا جاتا ہے؟
ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تمام اکابر صحابہ کی موجودگی میں سورۃ النصر کی تفسیر پوچھی۔ سب نے ظاہری معنی بتائے کہ اس میں مکہ کی فتح اور لوگوں کے اسلام میں داخل ہونے پر اللہ کی حمد و استغفار کا حکم ہے۔
مگر جب حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا، تو انہوں نے فرمایا کہ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ان کی ظاہری حیاتِ مبارکہ کے مکمل ہونے اور وصالِ باکمال کی خبر دی ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تڑپ کر فرمایا کہ جو کچھ تم سمجھے ہو، اس سورت سے میں بھی وہی سمجھتا ہوں۔
غور کیجیے، سورت کے الفاظ میں کہیں وصال کا لفظ نہیں تھا، علمِ ظاہر کی حد فتحِ مکہ تک تھی، لیکن “راسخون فی العلم” کی باطنی بصیرت نے الفاظ کے پردے کے پیچھے چھپی الٰہی راز کی حقیقت کو دیکھ لیا تھا۔ یہی وہ علمِ لدنی ہے جو تاویل کا نور بن کر اولیاء اور راسخین کے سینوں میں نازل ہوتا ہے۔
سیدنا غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ “سر الاسرار” میں اس حال کو یوں بیان فرماتے ہیں کہ قرآن کے ہر حرف کے نیچے حکمت کے ستر سمندر موجزن ہیں، علمائے ظاہر ساحل پر بیٹھ کر سیپیاں چنتے رہتے ہیں، جبکہ راسخون فی العلم غواص بن کر ان سمندروں کی تہوں سے تاویل اور باطنی معارف کے موتی نکالتے ہیں، اور جو شخص محض ظاہری الفاظ پر جم گیا اور باطن کا انکاری ہوا، وہ قرآن کے فیض کے اصل جوہر سے محروم ہی رہ گیا۔
شیخِ اکبر علامہ ابنِ عربی علیہ الرحمہ اس حقیقت کو اور کھول کر بیان کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ راسخ علم کا حامل شخص وہ ہے جو کائنات کے ہر ذرے میں قرآن کی آیات کا عملی مشاہدہ کرتا ہے۔ اس کی نظر صرف لکھی ہوئی سیاہی پر نہیں ہوتی، بلکہ وہ صاحبِ کلام کی تجلیات کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ جب وہ “وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَمَا كُنتُمْ” اور وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں کہیں تم ہو پڑھتا ہے، تو عقل اسے ایک علمی عقیدہ مانتی ہے، مگر راسخ فی العلم کا دل اس الٰہی معیت کو ہر لمحہ اپنے اندر اور باہر محسوس کر رہا ہوتا ہے، گویا وہ الفاظ نہیں پڑھتا بلکہ ایک حضوری میں جیتا ہے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باہو علیہ الرحمہ اپنے مخصوص رقت انگیز انداز میں فرماتے ہیں کہ علم کی دو اقسام ہیں۔ ایک وہ علم جو کاغذ کی سیاہی سے پڑھا جاتا ہے اور انسان کو بحث و مباحثے کا قیدی بنا دیتا ہے، اور دوسرا وہ علمِ باطن جو نقطۂ توحید کی صورت میں دل میں اترتا ہے۔ آپ کے نزدیک راسخ فی العلم وہی ہے جسے تصورِ اسمِ اللہ ذات سے وہ پختگی ملی ہو کہ دنیا کا کوئی وسوسہ، کوئی ظاہری تشکیک اور عقل کا کوئی اعتراض اس کے ایقان کو متزلزل نہ کر سکے۔
پس ثابت ہوا کہ “راسخون فی العلم” وہی نفوسِ قدسیہ ہیں جو علمِ ظاہر کے دروازے سے داخل ہو کر علمِ لدنی کے ایوانِ خاص تک پہنچے ہیں۔ انہوں نے شریعت کو اپنا لباس بنایا، طریقت کو اپنا راستہ، اور حقیقت کو اپنا مسکن۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے ذریعے ہر دور میں قرآن کے باطنی علوم زندہ رہے اور امت کو ہدایت کی روشنی ملتی رہی۔
علم میں رسوخ اور باطنی تاویل کا نور حاصل کرنے کی بنیادی چابی “استغفار” اور “عاجزی” ہے۔ جب بھی آپ قرآنِ مجید کی تلاوت کریں، تو صرف الفاظ کی ادائیگی یا ظاہری ترجمے پر بس نہ کریں۔ تلاوت سے پہلے بارگاہِ الٰہی میں عاجزی سے التجا کریں۔ءح حدیث “یااللہ یہ تیرا کلام ہے اور میں ایک بے بس و کم علم بندہ ہوں۔ مجھے اپنے کلام کی تاویل، اس کے باطنی انوار اور وہ فہم عطا فرما جو تو نے اپنے راسخین اور اولیاء کو عطا فرمایا ہے۔” تلاوت کے بعد، آیتِ مبارکہ “وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا” کو سات بار پڑھ کر اپنے سر اور سینے پر دم کریں اور یہ تصور کریں کہ آپ کے دل سے نادانی کی تاریکی دور ہو رہی ہے اور ربانی حکمت کے چشمے جاری ہو رہے ہیں۔
#Khaak_e_rawan
![]()

