مراتبِ اولیاء و مقاماتِ اہلِ اللہ
**قسط 08: ابدال
نظامِ کائنات کے باطنی محافظ اور تبدیل ہونے والے رجال
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )تصوف اور معرفت کے درجات میں “ابدال” کا منصب انتہائی جلیل القدر اور بااثر تسلیم کیا جاتا ہے۔ باطنی مراتب کی اس زنجیر میں ابدال وہ نفوسِ قدسیہ ہیں جن کا تذکرہ نہ صرف اکابرینِ صوفیاء کے کلام میں ملتا ہے، بلکہ کتبِ حدیث اور آثارِ صحابہ و تابعین میں بھی ان کے اوصاف وارد ہوئے ہیں۔
زمین کبھی خالی نہیں رہتی۔ جس دن کوئی نیک بندہ اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے، اسی لمحے، روایات کے مطابق، اللہ تعالیٰ کسی اور مخلص دل کو اٹھا کر اس کی جگہ کھڑا کر دیتا ہے، تاکہ خیر کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہو۔ اسی مسلسل تبدیلی اور تسلسل کی نسبت سے صوفیائے کرام نے ان برگزیدہ نفوس کو “ابدال” کا نام دیا۔
ابدال کون ہیں؟
“ابدال” لفظ “بدل” یا “بدیل” کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں بدلنے والا یا کسی کی جگہ لینے والا۔ اس نام کے پیچھے دو باطنی حکمتیں بیان کی جاتی ہیں.
ایک یہ کہ جب ان میں سے کسی کا وصال ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ فوراً کسی اور بندے کو اس کی جگہ متمکن فرما دیتا ہے، تاکہ یہ منصب کبھی خالی نہ رہے۔
دوسری یہ کہ روایات میں ان کی ایک صفت یہ بھی بیان ہوئی ہے کہ وہ اپنے احوال میں ایک خاص تحول رکھتے ہیں، گویا ان کی معنوی موجودگی ایک ہی وقت میں مختلف مقامات پر محسوس کی جا سکتی ہے۔
ابدال سے متعلق روایات
ابدال کا تذکرہ محض صوفیانہ اصطلاح نہیں بلکہ کتبِ حدیث میں بھی ملتا ہے، اگرچہ محدثین کے درمیان ان روایات کی سند کے بارے میں اختلاف رہا ہے .
بعض نے انہیں حسن یا قابلِ اعتبار قرار دیا، جبکہ بہت سے محققینِ حدیث نے ابدال سے متعلق مرفوع روایات کو ضعیف شمار کیا ہے۔ اسی لیے یہاں یہ روایات علمی امانت کے ساتھ، ان کی نسبت واضح کرتے ہوئے پیش کی جا رہی ہیں، نہ کہ قطعی نصِ صحیح کے طور پر۔
مسندِ احمد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا.
“الأَبْدَالُ يَكُونُونَ بِالشَّامِ، وَهُمْ أَرْبَعُونَ رَجُلًا، كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللَّهُ مَكَانَهُ رَجُلًا، يُسْقَى بِهِمُ الْغَيْثُ، وَيُنْتَصَرُ بِهِمْ عَلَى الأَعْدَاءِ، وَيُصْرَفُ عَنْ أَهْلِ الشَّامِ بِهِمُ الْعَذَابُ”
ابدال شام میں ہوتے ہیں، اور وہ چالیس مرد ہیں۔ جب ان میں سے کوئی وفات پا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے کو قائم فرما دیتا ہے۔ ان کے طفیل بارش برستی ہے، دشمنوں پر نصرت ملتی ہے، اور اہلِ شام سے عذاب ٹالا جاتا ہے۔
(مسند احمد)
شعب الایمان للبیہقی میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے.
“إن بدلاء أمتي لم يدخلوا الجنة بكثرة صلاة ولا صيام، ولكن دخلوا بسخاوة الأنفس، وسلامة الصدور، والنصيحة للمسلمين”
میری امت کے ابدال کثرتِ نماز و روزہ سے نہیں، بلکہ سخاوتِ نفس، سینوں کی سلامتی اور مسلمانوں کی خیرخواہی سے اعلیٰ منازل پاتے ہیں۔
(شعب الایمان)
طبرانی اور ابن عساکر کی روایت میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے کہ ابدال کی تعداد بعض روایات میں تیس اور بعض میں چالیس بیان ہوئی ہے، اور یہ کہ جب بھی ایک رخصت ہوتا ہے، دوسرا اس کا نعم البدل بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔
آثارِ صحابہ و تابعین
صرف مرفوع روایات ہی نہیں، صحابہ و تابعین کے اقوال میں بھی ابدال کی جھلک ملتی ہے۔ صفین کے موقع پر جب بعض لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اہلِ شام پر لعنت کی درخواست کی، تو آپؓ نے منع فرماتے ہوئے کہا کہ ان میں ابدال موجود ہیں اور انہی کے طفیل رزق و نصرت ملتی ہے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی یہ قول منقول ہے کہ دنیا میں ہمیشہ ایسے مقرب بندے موجود رہتے ہیں جن کے دل انبیاء کے دلوں کے مشابہ ہوتے ہیں۔
حضرت حسن بصریؒ سے جب ابدال کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ وہ سچے بندے ہیں جن کی دعا سے قحط اور مصیبتیں ٹل جاتی ہیں۔ اور امام شافعیؒ و امام احمد بن حنبلؒ جیسے جلیل القدر ائمہ بعض معاصر زاہدوں کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ اگر یہ ابدال میں سے نہیں تو زمین پر شاید ہی کوئی ابدال ہو۔
ابدال اس مقام تک کیسے پہنچے؟
یہ نکتہ خاص توجہ کا مستحق ہے، کیونکہ روایت خود اس کی وضاحت کرتی ہے.
ابدال کو یہ درجہ کثرتِ نماز و روزے سے نہیں ملا، بلکہ چار باطنی اوصاف سے ملا۔
سخاوتِ نفس، یعنی مال و دنیا سے بےنیازی؛ سلامتیِ صدر، یعنی دل کا کینے اور حسد سے پاک ہونا؛ خلقِ خدا کی خیرخواہی؛ اور رضا بالقدر، یعنی اللہ کے ہر فیصلے پر دلی رضامندی۔ یہ سبق خود اس بات کی دلیل ہے کہ ولایت کا اصل معیار ظاہری عبادت کی مقدار نہیں بلکہ باطن کی پاکیزگی ہے۔
ابدال کے مساکن اور باطنی وظائف
روایات میں ابدال کا مرکزی مسکن بلادِ شام بیان ہوا ہے، اگرچہ بعض دیگر خطوں میں بھی ان کے وجود کی نشاندہی ملتی ہے۔ ان کی برکت سے تین چیزیں خاص طور پر بیان کی گئی ہیں۔
بارش اور رزق کا نزول، دشمن کے مقابلے میں نصرت، اور زمین سے عذاب و بلا کا ٹلنا۔ صوفیانہ روایت کے مطابق، شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ اور داتا گنج بخش ہجویریؒ نے بھی اپنی تصانیف میں یہ بیان کیا ہے کہ ابدال کا باطنی تصرف کائنات کے معنوی توازن کو برقرار رکھتا ہے، اور جب انسان ظاہری اسباب سے مایوس ہو جاتا ہے، تو یہی گمنام بندے بارگاہِ الٰہی میں گڑگڑا کر امت کے لیے کشادگی کا دروازہ کھولتے ہیں۔
ابدال کی روایت سے سب سے بڑا سبق یہ ملتا ہے کہ اونچے روحانی مقامات کی چابی کثرتِ عبادت میں نہیں بلکہ باطن کی طہارت میں ہے۔
دل کا سخی ہونا، سینے کا صاف ہونا، مخلوق کی خیرخواہی، اور تقدیر پر راضی رہنا۔ یہ چار اوصاف کوئی خفیہ راز نہیں بلکہ ہر انسان کی دسترس میں ہیں، اگر وہ اپنے نفس کے ساتھ مخلصانہ محنت کرے۔
اے اللہ ہمیں سخاوتِ نفس، سلامتیِ صدر اور تیری تقدیر پر راضی رہنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمیں اپنے ان گمنام بندوں کے صدقے، جو زمین کی حفاظت کرتے ہیں، ہر بلا اور مصیبت سے محفوظ فرما۔
آمین یا رب العالمین
#Khaak_e_rawan
![]()

