شباب کی باتیں
*صدا تو آئی تھی لیکن کوئی دہائی نہ تھی*
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں۔۔۔ صدا تو آئی تھی لیکن کوئی دہائی نہ تھی ۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔ مشتاق شباب مشتاق شباب)یہ تو ہمیں نہیں معلوم کہ دنیا میں کتنے ایسے بادشاہ گزرے ہیں جو پاگل تھے؟ ایک کے بارے میں البتہ ہم یہ سوچ سکتے ہیں کہ یقینا اگر وہ مکمل پاگل نہیں تھا، تو ذرا سا کھسکا ہوا ضرور تھا۔ اور دنیا اسے نیرو کے نام سے جانتی ہے، جو 18ء (سن عیسوی) میں رومن قوم پر مسلط رہا ہے اور جسے موسیقی سے اس قدر لگاؤ تھا کہ وہ ہر قسم کی نئی آوازوں اور تانوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے، بعض اوقات انسانی اقدار کو پامال کرنے سے بھی دریغ نہ کرتا۔ کہتے ہیں ایک بار وہ اپنے محل کی سیڑھیاں اتر رہا تھا کہ سامنے سے آنے والی ایک کنیز، جو امید سے تھی، گھبرا کر بادشاہ کو راستہ دینے کے لیے ایک سائیڈ پر ہوئی تو غلطی سے ایک ستون سے جا ٹکرائی اور درد کے مارے اس کی چیخیں نکل گئیں، اس کی فریاد بھری چیخیں سن کر نیرو کو ان چیخوں کے نتیجے میں کنیز کی آواز میں جو “موسیقیت” محسوس ہوئی, اسے ایک نئے آہنگ کی صورت میں محسوس کر کے، اس نے اس کنیز کو دربار میں طلب کر کے، ایک غلام کو اس کے پیٹ پر آہستہ آہستہ کوڑے برسانے کا حکم دیا۔ کوڑے کی ہر ضرب پر بیچاری کنیز کے منہ سے نکلنے والی فریاد میں نیرو کو جس “ترنگ” کا احساس ہوتا، وہ اس سے لطف اندوز ہوتا رہا اور یہ سلسلہ تب رکا جب بیچاری کنیز نے دم توڑ دیا۔
*کسے پکار رہا تھا وہ ڈوبتا ہوا دن؟*
*صدا تو آئی تھی لیکن کوئی دہائی نہ تھی*
نیرو کے پاگل پن کے حوالے سے انفرادی سزاؤں پر عمل کے علاوہ ایسے اور بھی کئی واقعات تاریخ کا حصہ ہیں، تاہم اجتماعی سزا کے نفاذ کے حوالے سے لوگوں کی چیخ و پکار اور فریاد سے جنم لینے والی “موسیقی” کا ایک اور واقعہ اس قدر مشہور ہے کہ اس نے تاریخ کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہوا ہے۔ اگرچہ اب گوگل پر جو معلومات درج ہیں ان کے مطابق محولہ واقعہ کے دستاویزی ثبوت یا تو ہیں نہیں یا بہت کمزور دلائل پر مبنی ہیں، تاہم اس واقعے کی وجہ سے دنیا کی تقریبا ہر زبان میں یہ داستان محاورے میں ڈھل چکی ہے۔ اور واقعہ کچھ یوں ہے کہ اپنی موسیقی سے لگاؤ نے نیرو کو ایک نئی سوچ سے ہمکنار کرتے ہوئے اس بات پر مجبور کیا کہ وہ شہر کے باہر ایک ٹیلے پر بیٹھ کر بانسری پر دھنیں بجا رہا تھا جبکہ نیچے شہر کو اس نے ہر طرف سے گھیر کر آگ لگوا دی اور جب آگ میں گھرے ہوئے بے بس انسانوں کی فریاد بھری چیخیں ابھر رہی تھیں تو ان کی فریاد کے نتیجے میں “جنم لینے والی” موسیقی کو “بانسری کے تانوں” سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اس کی خوشی دیدنی تھی۔ خدا جانے گوگل نے، صدیوں سے سینہ بہ سینہ اور بعد میں تحریری طور پر منتقل ہونے والی، اس داستان کو فرضی کیوں قرار دیا ہے؟ تاہم اس سے نیرو پر پاگل پن کے الزامات آسانی سے نہیں دھوۓ جا سکتے کہ بقول شاعر
*مزاج یار میں رنگوں کا اختلاف تو دیکھ*
*سفید جھوٹ ہے ظالم کے سرخ ہونٹوں پر*
نیرو سے پہلے یا بعد میں کسی اور پاگل بادشاہ کا بھی تاریخ میں کہیں تذکرہ موجود ہے یا نہیں؟ اس بارے میں ہماری معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں. البتہ ایک اور پاگل بادشاہ یا سربراہ مملکت کے بارے میں معلومات سامنےآرہی ہیں اور ایک امریکی سینیٹر، برنی سینڈرز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ “ٹرمپ آپ صدر ہیں،
پاگل بادشاہ نہیں ہیں، اس لیے صدر کے طور پر ہی کام کریں!”
برنی سینڈرز کے اس بیان کا پس منظر یہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں آبنائے ہرمز کا نام آبنائے امریکہ رکھنے کا جو عندیہ دیا تھا اور اس کے بعد اسے اپنے طور پر آبنائے ٹرمپ کرنے کی بات کی، تو اس پر سینیٹر برنی سینڈرز نے صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “امریکی عوام نہیں چاہتے کہ آبنائے ہرمز کو آبنائے ٹرمپ کا نام دیا جائے”.
ادھر ایک ایرانی تجزیہ کار نے کہا ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات قریب آنے والے ہیں اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں ردوبدل کے باعث آبنائے ہرمز اور ایران کے ساتھ جاری تنازع میں امریکہ کی حکمت عملی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ایرانی تجزیہ کار نے جس مسئلے کی جانب اشارہ کیا ہے اس میں صدر ٹرمپ کی حکمت عملی واضح طور پر امریکی مڈ ٹرم انتخابات سے پیوست نظر آتی ہے۔ اس قسم کی چھوٹی حرکتیں کر کے دراصل صدر ٹرمپ جو بقول ایک فلمی شاعر، پبلک ہے سب جانتی ہے، کے مصداق اندر کی سب باتیں اچھی طرح جانتے تو ہیں، یعنی کہ امریکی رائے عامہ اب اس کے ساتھ نہیں ہے، اس لئے موصوف کو فکر پڑی ہے کہ آنے والے مڈ ٹرم انتخابات میں امریکی عوام نے اس کا کیا حشر کرنا ہے، اس صورتحال سے بچنے کے لیے اس نے بھارتی پردھان منتری، نریندر سنگھ مودی کی حکمت عملی کو اپنانے کی سوچ اختیار کر لی ہے۔ اور جس طرح انتخابات سے قبل نریندر مودی، پاکستان کے خلاف فالس فلیگ آپریشن کا بہانہ بنا کر، بھارتی عوام کو سیاسی طور پر بلیک میل کرنے اور پاکستان کا خوف دلا کر کہ، اگر مودی نہ رہا تو پاکستان کے مبینہ فرضی حملوں کو کون روکے گا؟ اسی طرح جنگ بندی پر دستخط کر نے اور ایران کے ساتھ صلح کرنے کے باوجود، صدر ٹرمپ بار بار ایران پر حملے شروع کر دیتا ہے اور آبنائے ہرمز کو بھی آبنائے امریکہ اور کبھی آبنائے ٹرمپ کے ناموں سے موسوم کر کے، امریکی عوام کی بڑھتی ہوئی مخالفت کو اپنی حمایت میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ حکم نامے وہ یوں جاری کرتا ہے گویا وہ بقول برنی سینڈرز صدر نہیں کوئی مطلق العنان بادشاہ ہے، جو پاگل پن کا شکار ہو چکا ہے، اب دیکھتے ہیں کہ گوگل اس صورتحال میں صدر ٹرمپ کو کس فہرست میں رکھتا ہے بقول برنی سینڈرز، پاگل بادشاہ قرار دیتا ہے یا پھر نیرو کی طرح رعایتی نمبر دے کر اس پر لگائے جانے والے الزامات کی صفائی کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کو بھی یہ پیغام دیتا ہے کہ
*میں دیکھوں تو سہی دنیا تمہیں کیسے ستاتی ہے؟* *کوئی دن کے لیے اپنی نگہبانی مجھے دے دو*
![]()

