Daily Roshni News

اصحابُ الاخدود۔۔۔وہ آگ جو ایمان کو نہ جلا سکی

اصحابُ الاخدود

وہ آگ جو ایمان کو نہ جلا سکی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )رات گہری تھی۔آسمان پر ستارے خاموش کھڑے تھے، جیسے کسی آنے والے فیصلے کے گواہ ہوں۔زمین پر ایک ایسی آگ جل رہی تھی جس کی لپٹیں دور سے بھی دکھائی دیتی تھیں۔ خشک لکڑیوں کے شعلے ہوا کے ساتھ بلند ہوتے، پھر جھک جاتے۔ آگ کے گرد کچھ لوگ بیٹھے تھے۔ ان کے چہروں پر خوف نہیں تھا۔ وہ کسی جشن میں شریک لوگوں کی طرح خاموشی سے بیٹھے ہوئے تھے۔

مگر یہ جشن نہیں تھا۔

یہ ظلم کا تماشا تھا۔

ان کے سامنے زمین میں لمبی، گہری خندقیں کھودی گئی تھیں۔ ان خندقوں میں لکڑیاں اور ایندھن بھرا گیا تھا۔ پھر انہیں آگ لگا دی گئی تھی۔

اور اب ان خندقوں کے سامنے انسان کھڑے تھے۔

کچھ بوڑھے۔

کچھ جوان۔

کچھ عورتیں۔

اور کچھ بچے۔

ان سب کے پاس ایک راستہ تھا۔

صرف ایک راستہ۔

اپنا ایمان چھوڑ دو…

یا آگ میں اتر جاؤ۔

ہوا میں دھوئیں کی بو تھی۔ آگ کی گرمی چہروں تک پہنچ رہی تھی۔ بچوں کی سسکیاں کبھی بلند ہوتیں، پھر کسی ماں کی آواز انہیں سینے سے لگا کر خاموش کرا دیتی۔

لیکن اس خوفناک منظر کے درمیان ایک عجیب چیز موجود تھی۔

ایمان۔

وہ ایمان جسے نہ تلوار شکست دے سکی، نہ دھمکی، نہ بادشاہت، نہ آگ۔

قرآن آج بھی اس منظر کو ہمارے سامنے رکھتا ہے:

قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُودِ ۝

النَّارِ ذَاتِ الْوَقُودِ ۝

إِذْ هُمْ عَلَيْهَا قُعُودٌ ۝

وَهُمْ عَلَىٰ مَا يَفْعَلُونَ بِالْمُؤْمِنِينَ شُهُودٌ ۝

“ہلاک ہوں خندق والے، وہ آگ والی خندقیں جن میں ایندھن بھرا تھا، جب وہ ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اور جو کچھ وہ اہلِ ایمان کے ساتھ کر رہے تھے اسے دیکھ رہے تھے۔”

لیکن سوال یہ ہے…

وہ لوگ یہاں تک پہنچے کیسے؟

ایک بادشاہ نے آخر ایسی کیا چیز دیکھی کہ اسے ایک نوجوان کے ایمان سے خوف آنے لگا؟

ایک نوجوان…

جس کے پاس نہ فوج تھی، نہ خزانہ، نہ محل، نہ کوئی سیاسی طاقت۔

صرف ایک یقین تھا۔

اللہ ہے۔

اور شاید یہی وہ یقین تھا جس سے ایک پوری سلطنت لرز گئی۔

کہانی کا آغاز خندق سے نہیں ہوتا۔

کہانی کا آغاز ایک نوجوان لڑکے سے ہوتا ہے۔

ایک ایسے لڑکے سے، جسے بادشاہ نے جادو سیکھنے کے لیے منتخب کیا تھا۔

وہ زمانہ ایسا تھا جب بادشاہت صرف حکومت نہیں ہوتی تھی۔ بادشاہ کا حکم قانون سمجھا جاتا تھا۔ اس کی مرضی کے خلاف جانا بغاوت تھا۔ اس کے سامنے سر جھکانا ضروری تھا۔

لوگ اس سے ڈرتے تھے۔

اس کے سپاہی ہر طرف موجود تھے۔

اس کے دربار میں دولت تھی، طاقت تھی اور ایسے لوگ تھے جو اس کے ہر حکم کو پورا کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔

اسی بادشاہ کے پاس ایک بوڑھا جادوگر بھی تھا۔

عمر گزر رہی تھی۔

ہاتھ کانپنے لگے تھے۔

آنکھوں کی روشنی کم ہو رہی تھی۔

اسے خوف تھا کہ اگر وہ مر گیا تو بادشاہ کے پاس اس کا کوئی جانشین نہیں ہوگا۔

ایک دن اس نے بادشاہ سے کہا:

“میرے لیے ایک ذہین نوجوان تلاش کرو۔ میں اسے اپنا علم سکھاؤں گا۔”

بادشاہ نے ایک لڑکا منتخب کیا۔

لڑکا روزانہ جادوگر کے پاس جانے لگا۔

صبح گھر سے نکلتا۔

راستے میں لوگوں کو دیکھتا۔

پھر جادوگر کے پاس پہنچتا۔

وہاں اسے جادو کے طریقے سکھائے جاتے۔

لیکن واپسی کے راستے میں ایک اور شخص اس کی زندگی بدلنے والا تھا۔

وہ ایک اللہ والا شخص تھا۔

روایت میں اسے راہب کہا گیا ہے۔

وہ کسی محل میں نہیں بیٹھا تھا۔

اس کے پاس نہ بادشاہ کی طاقت تھی، نہ جادوگر کا خوف۔

وہ خاموشی سے اللہ کی عبادت کرتا اور لوگوں کو حق کی طرف بلاتا تھا۔

لڑکا جب پہلی مرتبہ اس کے پاس سے گزرا تو شاید اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ اس ملاقات کے بعد اس کی پوری زندگی بدل جائے گی۔

وہ رک گیا۔

کچھ بات ہوئی۔

پھر اگلے دن بھی وہ وہاں رکا۔

پھر اس کے بعد بھی۔

اب اس کے سامنے دو راستے تھے۔

ایک طرف جادوگر تھا۔

دوسری طرف اللہ کا بندہ۔

ایک طرف بادشاہ کی دنیا تھی۔

دوسری طرف ایک ایسے رب کا تصور تھا جس کے سامنے بادشاہ بھی ایک بندہ ہے۔

لڑکا سوچنے لگا۔

اس نے سوال کرنا شروع کیے۔

اور کبھی کبھی انسان کی زندگی میں سب سے بڑی تبدیلی کسی جواب سے نہیں…

ایک سوال سے شروع ہوتی ہے۔

وہ لڑکا اب دونوں جگہ جانے لگا۔

جادوگر کے پاس بھی۔

اور راہب کے پاس بھی۔

لیکن ایک مشکل پیدا ہو گئی۔

اسے روزانہ راستے میں دیر ہو جاتی۔

گھر والے انتظار کرتے۔

جادوگر ناراض ہوتا۔

اور لڑکا اپنے اندر ایک نئی دنیا بنتی محسوس کرتا۔

اسے آہستہ آہستہ سمجھ آنے لگی کہ جادوگر جس طاقت کا دعویٰ کرتا ہے، وہ اصل طاقت نہیں۔

اصل طاقت کسی انسان کے پاس نہیں۔

اصل اختیار اللہ کے پاس ہے۔

لیکن ابھی اس کا ایمان ایک سفر میں تھا۔

وہ مکمل حقیقت تک پہنچنے کے مراحل سے گزر رہا تھا۔

پھر ایک دن اس کے سامنے ایک ایسا منظر آیا جس نے اس کے دل میں موجود آخری پردہ بھی ہٹا دیا۔

ایک بہت بڑا جانور لوگوں کا راستہ روک کر بیٹھ گیا۔

لوگ پریشان ہو گئے۔

کوئی آگے نہیں جا سکتا تھا۔

کوئی پیچھے نہیں ہٹ سکتا تھا۔

لوگ ایک دوسرے کا چہرہ دیکھ رہے تھے۔

لڑکا بھی وہیں تھا۔

اس نے دل میں سوچا:

“آج معلوم ہو جائے گا کہ جادوگر کا راستہ حق ہے یا اس اللہ والے کا۔”

اس نے ایک پتھر اٹھایا۔

آسمان کی طرف دل سے دعا کی:

“اے اللہ! اگر راہب کا معاملہ تیرے نزدیک جادوگر کے معاملے سے زیادہ پسندیدہ ہے تو اس جانور کو ختم کر دے، تاکہ لوگوں کا راستہ کھل جائے۔”

پھر اس نے پتھر پھینکا۔

جانور ہلاک ہو گیا۔

لوگوں کا راستہ کھل گیا۔

لوگ حیران تھے۔

لیکن اس نوجوان کے اندر اس سے بھی بڑا واقعہ ہو چکا تھا۔

اس نے پہلی مرتبہ اپنے دل سے محسوس کیا:

اللہ کی قدرت حقیقت ہے۔

وہ دوڑتا ہوا راہب کے پاس پہنچا۔

اس نے پورا واقعہ سنایا۔

راہب نے اسے غور سے دیکھا۔

پھر اسے ایک ایسی بات بتائی جو آنے والے دنوں کی خبر تھی۔

اس نے کہا کہ اللہ نے اسے ایک خاص مقام عطا کیا ہے۔

لیکن اس کے ساتھ آزمائش بھی آئے گی۔

اور اگر وہ اس آزمائش میں ثابت قدم رہا تو بہت سے لوگ اس کے ذریعے ہدایت پائیں گے۔

نوجوان شاید اس وقت اس بات کی پوری گہرائی نہ سمجھ سکا ہو۔

مگر وقت اسے سمجھانے والا تھا۔

کچھ عرصہ گزرا۔

نوجوان کی دعاؤں سے اللہ کے حکم سے بیماروں کو شفا ملنے لگی۔

لوگ اس کے پاس آنے لگے۔

وہ ہر مرتبہ ایک بات واضح کرتا:

“میں شفا نہیں دیتا۔ شفا اللہ دیتا ہے۔”

یہ جملہ بہت اہم تھا۔

کیونکہ کرامت دیکھ کر انسان خود کو طاقتور سمجھنے لگتا ہے۔

مگر یہ نوجوان جانتا تھا کہ وہ صرف ایک بندہ ہے۔

اصل طاقت اس کی نہیں۔

اس کے رب کی ہے۔

اسی دوران بادشاہ کے دربار کا ایک نابینا شخص بھی اس کے بارے میں سن کر اس کے پاس پہنچا۔

اس نے کہا:

“اگر تم مجھے میری بینائی واپس دلا دو تو میں تمہیں بہت کچھ دوں گا۔”

نوجوان نے جواب دیا:

“میں کسی کو شفا نہیں دیتا۔ اگر تم اللہ پر ایمان لے آؤ تو میں دعا کروں گا۔”

درباری نے ایمان قبول کیا۔

اس نے اللہ سے دعا کی۔

اور اللہ نے اس کی بینائی واپس لوٹا دی۔

یہ خبر چھپ نہ سکی۔

درباری واپس بادشاہ کے دربار میں پہنچا۔

بادشاہ نے اسے دیکھا۔

وہ حیران رہ گیا۔

“تمہاری بینائی کس نے واپس کی؟”

درباری نے جواب دیا:

“میرے رب نے۔”

بادشاہ کے چہرے پر شاید پہلی مرتبہ تشویش نمودار ہوئی۔

اس نے پوچھا:

“کیا میرے علاوہ بھی کوئی رب ہے؟”

درباری نے کہا:

“میرا اور تمہارا رب اللہ ہے۔”

بس…

یہی وہ جملہ تھا جس نے بادشاہ کے اندر چھپی ہوئی دشمنی کو ظاہر کر دیا۔

کیونکہ ایک ظالم حکومت کو سب سے زیادہ خوف اس وقت محسوس ہوتا ہے جب اس کے سامنے کوئی ایسا انسان کھڑا ہو جائے جو کہے:

“تم آخری اختیار نہیں ہو۔”

بادشاہ نے اسے گرفتار کر لیا۔

اس پر ظلم کیا۔

اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔

وہ نوجوان کا نام بتانے پر مجبور ہوا۔

پھر نوجوان کو لایا گیا۔

پوچھا گیا:

“تم نے یہ سب کہاں سے سیکھا؟”

نوجوان نے حق کا راستہ نہ چھوڑا۔

پھر راہب کو بھی لایا گیا۔

اس سے بھی ایمان چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا۔

لیکن وہ بھی ثابت قدم رہا۔

بادشاہ نے دونوں کو قتل کروا دیا۔

ایک ایک کر کے۔

خاموشی سے۔

شاید بادشاہ کو لگا کہ مسئلہ ختم ہو گیا ہے۔

مگر وہ ایک بنیادی حقیقت نہیں سمجھ رہا تھا۔

ایمان انسان کے جسم میں نہیں رہتا۔ ایمان دل میں رہتا ہے۔

جسم کو قتل کیا جا سکتا ہے۔

یقین کو نہیں۔

اب بادشاہ کے سامنے صرف نوجوان باقی تھا۔

اسے بھی ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔

اسے سپاہیوں کے حوالے کیا گیا۔

حکم دیا گیا:

“اسے پہاڑ پر لے جاؤ۔ اگر اپنا دین نہ چھوڑے تو اسے پہاڑ سے گرا دو۔”

سپاہی اسے لے گئے۔

نوجوان نے پہاڑ کی بلندی دیکھی۔

نیچے گہری وادی تھی۔

سامنے موت کھڑی تھی۔

لیکن اس نے اللہ سے دعا کی:

“اے اللہ! جس طرح تو چاہے، مجھے ان سے بچا لے۔”

پھر پہاڑ لرز اٹھا۔

سپاہی گر گئے۔

اور نوجوان بچ گیا۔

وہ واپس بادشاہ کے پاس پہنچا۔

بادشاہ حیران تھا۔

پھر اس نے دوسرے سپاہیوں کو حکم دیا:

“اسے کشتی میں لے جاؤ۔ سمندر کے بیچ لے جا کر پھینک دو۔”

نوجوان کو سمندر تک لے جایا گیا۔

کشتی لہروں پر ہچکولے کھا رہی تھی۔

چاروں طرف پانی تھا۔

آسمان خاموش تھا۔

اور ایک مرتبہ پھر نوجوان نے اپنے رب کو پکارا۔

اللہ نے اسے بچا لیا۔

وہ پھر بادشاہ کے سامنے کھڑا تھا۔

اب بادشاہ کے لیے یہ نوجوان صرف ایک شخص نہیں رہا تھا۔

وہ ایک خطرہ بن چکا تھا۔

لیکن خطرہ اس کی طاقت نہیں تھا۔

خطرہ اس کا ایمان تھا۔

اور پھر نوجوان نے وہ بات کہی جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔

اس نے بادشاہ سے کہا:

“آپ مجھے اس وقت تک قتل نہیں کر سکتے جب تک وہ طریقہ اختیار نہ کریں جو میں آپ کو بتاتا ہوں۔”

بادشاہ نے پوچھا:

“کیا طریقہ؟”

نوجوان نے کہا:

“لوگوں کو ایک کھلے میدان میں جمع کرو۔ مجھے ایک لکڑی کے تنے سے باندھ دو۔ پھر میرے ترکش سے ایک تیر نکالو۔ اسے کمان میں رکھو۔ اور لوگوں کے سامنے کہو:

اللہ کے نام سے، جو اس نوجوان کا رب ہے۔

پھر تیر چلانا۔”

بادشاہ نے شاید سوچا ہوگا کہ آخرکار نوجوان خود اپنے قتل کا طریقہ بتا رہا ہے۔

اسے کیا معلوم تھا کہ نوجوان اپنی موت نہیں…

اپنے بعد آنے والی زندگیوں کا راستہ بنا رہا ہے۔

اگلے دن میدان لوگوں سے بھر گیا۔

لوگوں کو شاید معلوم نہیں تھا کہ انہیں کیوں بلایا گیا ہے۔

بادشاہ موجود تھا۔

سپاہی موجود تھے۔

نوجوان کو لایا گیا۔

اسے باندھا گیا۔

لوگ خاموش تھے۔

بادشاہ نے کمان اٹھائی۔

تیر نکالا۔

کمان میں رکھا۔

اور پھر وہ الفاظ کہے جنہیں نوجوان چاہتا تھا کہ پوری قوم سنے:

“اللہ کے نام سے، جو اس نوجوان کا رب ہے۔”

تیر چلا۔

نوجوان شہید ہو گیا۔

ایک لمحے کے لیے میدان خاموش رہا۔

پھر اچانک لوگوں کے دلوں میں جیسے بند ٹوٹ گیا۔

وہ پکار اٹھے:

“ہم اس نوجوان کے رب پر ایمان لائے!”

بادشاہ نے جسے اپنی فتح سمجھا تھا…

وہی اس کی سب سے بڑی شکست بن گئی۔

اس نے ایک نوجوان کو مارا تھا۔

لیکن اس کے ساتھ ایک نوجوان کا ایمان نہیں مرا تھا۔

وہ سینکڑوں دلوں میں منتقل ہو چکا تھا۔

اور اب بادشاہ کے سامنے ایک نوجوان نہیں…

ایک ایمان رکھنے والی قوم تھی۔

بادشاہ بوکھلا گیا۔

اس نے حکم دیا:

خندقیں کھودو۔

ان میں آگ جلاؤ۔

جو ایمان سے نہ پھرے…

اسے آگ میں ڈال دو۔

اور پھر وہ خندقیں وجود میں آئیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے قرآن میں محفوظ کر دیا۔

اصحابُ الاخدود۔

وہ لوگ جو آگ کے سامنے کھڑے تھے۔

اور آگ کے دوسری طرف…

اللہ کی رضا تھی۔

لیکن کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔

اصل امتحان اب شروع ہوا تھا۔

کیونکہ آگ کے سامنے کھڑا ہونا آسان لفظ ہے…

مگر جب آگ واقعی سامنے ہو تو ایمان کی حقیقت کھلتی ہے۔

کون قدم بڑھائے گا؟

کون رک جائے گا؟

کون ایمان بچائے گا؟

اور کون اپنی جان بچانے کے لیے ایمان چھوڑ دے گا؟

اور ان خندقوں کے کنارے ایک ایسا منظر بھی آنے والا تھا…

جسے صدیوں بعد بھی پڑھا جائے تو دل کانپ اٹھتا ہے۔

ایک ماں۔

اس کی گود میں ایک بچہ۔

سامنے دہکتی ہوئی آگ۔

پیچھے ظالموں کا حکم۔

اور درمیان میں…

ایمان کا فیصلہ۔

وہ ماں ایک لمحے کے لیے رک گئی تھی۔

آخر وہ ماں تھی۔

اپنے بچے کو آگ میں جاتا دیکھنا کسی انسان کے لیے کیسے آسان ہو سکتا تھا؟

لیکن پھر اس بچے نے وہ بات کہی…

جس نے تاریخ میں ایمان کی ایک ایسی تصویر بنا دی جسے کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔

آخر اس بچے نے اپنی ماں سے کیا کہا؟

اور خندق کی آگ کے سامنے اس ماں نے کیا فیصلہ کیا؟

یہ ہم اگلی قسط میں پڑھیں گے۔

جاری ہے…

اگر آپ کو یہ داستانِ ایمان دل کو چھو گئی ہے تو پوسٹ کو لائک کریں، اپنے دوستوں اور اہلِ خانہ کے ساتھ شیئر کریں، اور کمنٹ میں ضرور لکھیں کہ اصحابُ الاخدود کے واقعے کا کون سا پہلو آپ کے دل کو سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے؟

ایسی مزید ایمان افروز اور تاریخی تحریروں کے لیے ہمارا پیج فالو کرنا نہ بھولیں۔

Loading