Daily Roshni News

سلسلہ عظیمیہ  کے خانوادہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمیؒ کے ارشادات کی روشنی میں ایک رہنما تحریر۔۔۔ با ادب با نصیب

سلسلہ عظیمیہ  کے خانوادہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمیؒ کے ارشادات کی روشنی میں ایک رہنما تحریر۔۔۔ با ادب با نصیب

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ سلسلہ عظیمیہ  کے خانوادہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمیؒ کے ارشادات کی روشنی میں ایک رہنما تحریر۔۔۔ با ادب با نصیب ) آداب مرشد کا مطلب یہ ہے کہ بزرگوں اوراستاد کا ادب کیا جائے۔ حضور قلندر بابا اولیاء نے جب میرے لیے (اپنے شاگرد حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی ) درس کا آغاز کیا تور جسٹر پر یہ لکھا:

با ادب با نصیب، بے ادب بے نصیب ادب کے بغیر انسان کی شناخت مکمل نہیں ہوتی۔ اگر ادب نہ رہے تو چھوٹے بڑے کا فرق مٹ جاتا ہے، ماں باپ، بھائی، استاد یا ذمہ دار شخصیت کی پہچان دھندلا جاتی ہے۔ ادب ہی وہ وصف ہے جو انسان کو نظیم رشتہ اور شعور ذمہ داری عطا کرتا ہے۔ جہاں ادب نہیں، وہاں انسان اپنی بلند حیثیت سے گر کر محض جبلتی سطح پر رہ جاتا ہے۔

ادب کا تقاضا یہ ہے کہ جس سے تعلق ہو، اس کے لیے دل میں احترام ہو۔ بچوں کا بھی احترام ہو اور والدین کا بھی۔ اگر گھر میں ادب نہ ہو تو نئی نسل بھی اسی روش پر چلتی ہے؛ جو بینا اپنے باپ کا ادب نہیں کرتا، اس کی آئندہ نسل بھی یہی طرز اختیار کرتی ہے۔

ادب کی سادہ تعریف یہ ہے کہ دوسرے کو عزت دی جائے، اس کی بات کو اہمیت دی جائے، اور اس کی شخصیت کو رہنمائی کا ذریعہ سمجھا جائے۔ تصوف میں اسے آداب مریدین یا آداب مرشدین کہا گیا۔ حقیقت میں یہ استاد کے ادب ہی کی توسیع ہے۔

ہم اپنے بچوں کو اسکول اس لیے بھیجتے ہیں کہ وہ استاد سے سیکھیں۔ استاد جو زبان پڑھاتا ہے، شاگرد اسے دہرا کر سیکھتا ہے۔ اگر بچہ اپنی طرف سے ترتیب بدلنے لگے تو وہ کچھ نہیں سیکھ پائے گا۔ مثلاً انگریزی سیکھنی ہو تو ABCD سے آغاز ہو گا، اردو سیکھنی ہو تواب ج د سے۔ سیکھنے کی ابتدا میں شاگرد کا کام دہرانا اور ماننا ہے، نہ کہ اپنی ذہانت کا اظہار کرنا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کسی فن میں ماہر ہو، مگر نیا علم سیکھنا چاہے تو اسے ابتدا سے استاد کے مطابق چلنا پڑتا ہے۔ اگر وہ اپنی سابقہ ڈگری یا علمی فضیلت کو درمیان میں لائے تو آگے نہیں بڑھ سکتا۔ یہی اصول ہر علم میں ہے، چاہے زبان ہو ، سائنس ہو یا کوئی اور فن۔ جس طرح دنیاوی علوم سیکھنے کے لیے یہ طریقہ لازم ہے، اسی طرح پروحانیت بھی ایک علم ہے، اور اس میں بھی ادب اور تعمیل بنیادی شرط ہیں۔

اب جب شاگرد روحانی استاد کے سامنے بیٹھتا ہے تو وہ ایسی بات سنتا ہے جو اس نے نہ کسی کتاب میں پڑھی ہوتی ہے، نہ گھر والوں سے سنی ہوتی ہے اور نہ ہی تعلیمی اداروں میں اس کا ذکر ہوا ہوتا ہے۔ فوراً اس کے ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ یہ بات ہم نے پہلے کبھی نہیں سنی، پھر اسے کیسے مان لیں؟ اگر یہی طرز فکر غالب رہے تو نتیجہ وہی ہو گا جو کسی زبان یافن کو سکھتے وقت ہوتا ہے: جب تک آدمی سیکھنے کے اصول کے مطابق خود کو نہ ڈھالے ، وہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اسی طرح روحانیت بھی نہیں سیکھی جاسکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلسل شبہ اور مزاحمت کے ساتھ کوئی علم حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ سیکھنے کے لیے اعتماد اور تسلیم کی ایک حد درکار ہوتی ہے، ورنہ آدمی دروازے پر ہی کھڑا رہ جاتا ہے۔

مر شد، استاد، ٹیچر یا پر وفیسر …. نام کچھ بھی ہو، اصل کام ہدایت کی طرف راغب کرنا ہے۔ مرشد کے بارے میں جو خوف پیدا کر دیا جاتا ہے کہ اگر اس کی بات نہ مانی تو تباہی آجائے گی، یہ درست تصور نہیں۔ مرشد کوئی ڈراؤنی ہستی نہیں بلکہ علم کا ذریعہ ہے۔ مرشد تو محض ایک وسیلہ ہے جو بندے کو اللہ سے قریب ہونے کے طریقے سکھاتا ہے، جیسے سائنس کا استاد طبیعی قوانین سمجھاتا ہے تاکہ شاگرد حقیقت کو پہچان سکے۔ مرشد یہ سمجھاتا ہے کہ انسان کی تخلیق محض دنیاوی مشاغل کے لیے نہیں بلکہ اللہ کی معرفت کے لیے ہے۔

اللہ نے انسانوں کو اور جنات کو اس لیے تخلیق کیا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں۔ [ سور کذاریات: 56] یعنی انسان اور جن کی پیدائش کا مقصد بندگی اور پہچان حق ہے۔ روحانی استاد اسی مقصد کی طرف رہنمائی کرتا ہے، تا کہ انسان دنیا میں رہتے ہوئے اپنے رب سے واقفیت حاصل کر سکے۔

مر شد بتاتے ہیں کہ اگر زندگی کا مقصد صرف کھانا پینا اور دنیاوی ضروریات پوری کرنا ہے تو پھر انسان اور دوسرے جانداروں میں کیا فرق رہ جاتا ہے ؟ کھانا، پینا، سونا، نسل بڑھانا، اپنی حفاظت کرنا …. بیه سب باتیں انسان اور حیوان دونوں میں مشترک ہیں۔ مادی اور جسمانی اعتبار سے دیکھیں تو انسان اور دوسرے جانداروں کی زندگی کے بہت سے پہلو مشترک ہیں۔ بعض اوقات لوگ وفاداری یا جس کی تیزی کے حوالے سے جانوروں کی مثال دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف جسمانی یا طبعی صلاحیتوں کی بنیاد پر انسان اپنی برتری ثابت نہیں کر سکتا۔ اگر معیار صرف بقا اور جبلت ہو تو فرق نمایاں نہیں رہتا۔ شیر کو ہم درندہ کہتے ہیں، مگر وہ اپنی فطری حدود سے باہر جا کر تخریب نہیں کرتا۔ انسان، جسے اشرف المخلوقات کہا گیا، آپ کہیں گے انسان میں عقل ہے، اسی لیے وہ افضل ہے۔ صرف عقل انسان کی برتری کا معیار نہیں اصل امتیاز کسی اور مقام پر ہے، جو اسے محض جسمانی اور بادی اشتراک سے بلند کرتا ہے۔ انسان کو حیوانی سطح سے ممتاز کرنے کے لیے انبیاء کرام نے خیر وشر کا تصور دیا۔ بتایا کہ زندگی کے دورخ ہیں: ایک اچھائی اور ایک برائی۔ جب انسان نے اس حقیقت کو سمجھ لیا تو وہ محض جبلت کے دائرے سے نکل کر اخلاق کے دائرے میں داخل ہوا۔ ستر پوشی کو خیر اور بے پردگی کو شر قرار دیا گیا، حق تلفی کو برائی اور امانت داری کو نیکی بتایا گیا۔ لباس صرف جسم کی ضرورت نہیں بلکہ اخلاقی شعور کی علامت بن گیا۔ جانور اپنی فطرت کے مطابق زندگی گزارتے ہیں، انہیں حق و باطل یا ملکیت و ذمہ داری کا شعور نہیں ہوتا۔ انبیاء نے انسان کو بتایا کہ دوسروں کے۔۔۔جاری ہے۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ مارچ 2026

Loading