Daily Roshni News

سچ کی سچائی۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔  سید اسلم شاہ

سچ کی سچائی

تحریر  ۔۔۔۔۔۔  سید اسلم شاہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ سچ کی سچائی۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔  سید اسلم شاہ)٭ مائیکل جیکسن کا گانا i am bad, i am bad چل رہا ہے، ایک کہتا ہے کہ گانا بہت اچھا ہے، مائیکل جیکسن کی آواز بہت سریلی ہے اس کے گلے میں خدا بولتا ہے، دوسرا کہتا ہے کہ گانا بول کی طرح بہت ہی برا ہے، مائیکل کی آواز بہت ہی بری ہے اور اس کے گلے میں خدا نہیں شیطان بولتا ہے، اب گانا ایک ہی ہے، آواز ایک ہی ہے، ایک ہی سی ڈی پلیری میں ایک ہی وقت میں اسے بلکل اسی طرح سے سن رہے ہیں، اپنی پسند اور ناپسند کی بنا پر دونوں ہی سچ بول رہے ہیں۔

٭ ماں نے سیب کاٹا اور آدھا آدھا دونوں بچوں کو دیا ، ایک کو سیب بہت پسند آیا دوسرا سیب کو آسیب سمجھتا ہے۔ ایک مزے سے کھانے لگا دوسرے نے منہ بنا لیا۔ ایک کہتا ہے سیب بہت مزیدار ہے دوسرا بولا بہت بد مزہ ہے۔ اپنے اپنے ذائقے کی پسند اور نہ پسند کے مطابق دونوں ہی سچ بول رہے ہیں۔

٭ ایک لڑکی بولی “مجھے سرخ گلاب پسند ہے”، دوسری بولی مجھے گلاب بہت برے لگتے ہیں اور جسے تم سرخ بول رہی ہو وہ سرخ نہیں بلکہ گرے رنگ کا ہے۔ اس مثال میں بھی دونوں ہی سچ بول رہے ہیں کیونکہ دوسری لڑکی کلر بلائنڈ ہے، اسے ہر سرخ رنگ گرے ہی نظر آتا ہے، دوسری لڑکی کلر بلائنڈ نہ بھی ہو تو اسے بھی سرخ رنگ سے نفرت ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں یہ نفرت ہی اس کا سچ ہے۔

ہر انسان کا اپنا ایک سچ ہوتا ہے۔ سچ ہمیشہ پرائیویٹ اور پرسنل ہوتا ہے۔ اتنا ہی پرائیویٹ اور پرسنل کہ اسے بیان کرنا ہی اسے جھوٹ بنا دینا ہے۔ ایک انسان کا سچ دوسرے کے لیے جھوٹ ہے۔

٭ لاؤتزو نے اسی لیے کہا تھا کہ “سچ کو بیان نہیں کیا جاسکتا اور جسے بیان کیا جائے وہ سچ نہیں”۔

پونٹس پائلٹ نے جب عیسٰی ابن مریم سے پوچھا کہ سچ کیا ہے؟ “تو عیسٰی خاموش رہے”۔

اس پر نطشے نے عیسٰی ابن مریم کی شدید مزمت کی اور اصرار کیا ہے کہ عیسٰی کو اس موقعہ پر اپنا دفاع کرنا چاہیئے تھا اور سچ کو بیان کرنا چاہیئے تھا۔ عیسیٰ کیا بتاتے؟ سچ کا زیادہ سے زیادہ اظہار خاموشی ہے اور عیسٰی نے یہی کیا، سچ کی اس سے خوبصورت ”تعریف” ممکن ہی نہیں۔

٭ خلیل جبران نے کہا تھا: ”جو بھی میں کہتا ہوں وہ کافی حد تک بے معنی ہوتا ہے لیکن میں پھر بھی اسے بیان کرتا ہوں تاکے ان باتوں کا جو حصہ صحیح ہو وہ آپ تک پہنچ جائے”۔

٭ ﺳﭻ ﮐﻮ ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﺳﯿﮑﺮﭦ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ. ﮨﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺳﭻ ﺻﺮﻑ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺳﭻ ﮨﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻧﮩﯿﮟ، مسئلہ ﻭﮨﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﭻ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﭘﺮ ﻣﺴﻠﻂ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺮﺍﺋﯿﻮﯾﭧ ﺳﭻ ﮐﻮ ﭘﺒﻠﮏ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﭼﮑﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﭻ ﮐﻮ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﺎﺋﯿﮑﻞ ﺟﯿﮑﺴﻦ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺍﯾﮏ ﺳﺮﯾﻠﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺍﺳﮑﺎ ﺳﭻ ﮨﮯ، ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﺪﯼ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﺎ ﺳﭻ ﮨﮯ ﺍﺏ ﺍﮔﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﻣﺎﺋﯿﮑﻞ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﺮﯾﻠﯽ ﻣﻨﻮئے ﮔﺎ ﺗﻮ ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺟﮭﻮﭦ ﮨﯽ ﮐﮩﻠﻮﺍئے ﮔﺎ۔ ﺍﺏ ﺟﺴﮯ ﺳﯿﺐ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﺯﺑﺮﺩﺳﺘﯽ ﮐﮭﻼﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺟﮭﻮﭦ ﮨﯽ ﺍﮔﻠﻮﺍﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ. ﺟﺴﮯ ﺳﺮﺥ ﮔﻼﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺴﻨﺪ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﮔﺮ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ﺟﺎئے ﮔﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺟﮭﻮﭦ ﮨﯽ ﺑﻠﻮﺍﯾﺎ ﺟﺎئے ﮔﺎ۔

سچ اور فیکٹ میں فرق

————————-

٭ عموماََ فیکٹ کو ہی سچ سمجھا جاتا ہے، سچ اور فیکٹ میں زمین و آسمان کا فرق ہے، فیکٹ کو ہی وسیع تر معنوں میں (Reality) کہا جاتا ہے جسکا اردو میں انتہائی بھونڈا ترجمہ حقیقت کیا جاتا ہے۔ سچ کا متبادل حقیقت تو ہو سکتا ہے، مگر فیکٹ کا ترجمہ حقیقت نہیں ہو سکتا۔ نالج اور دزڈم کی طرح چونکہ سچ اور فیکٹ کو بھی گڈمڈ کر دیا گیا ہے اسی لئے فیکٹ کا ترجمہ حقیقت کیا جاتا ہے۔

سچ اور فیکٹ کو پرکھنے کا پیمانہ: “جو بھی چیزجیسے دکھائی یا سنائی دے وہ فیکٹ ہے اور جو چیز اصل میں جیسے ہو وہ سچ ہے”۔

مثلا :زمین سے قریب ترین ستارہ چار نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ روشنی ایک سال میں جتنا فاصلہ طے کرتی ہے اسے نوری سال کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس قریب ترین ستارہ کی روشنی زمین تک پہنچنے میں چار سال لگتے ہیں۔ آج ہم جو روشنی دیکھ رہے ہیں وہ اس ستارے سے چار سال قبل چلی تھی۔ فرض کریں کہ یہ ستارہ آج تباہ ہو جاتا ہے، ٹوٹ پھوٹ کر بکھر جاتا ہے اس کا نام و نشان تک مٹ جاتا ہے لیکن حیرت انگیز طور پر یہ ستارہ آئیندہ چار سال تک ہمیں اپنی جگہ پر یونہی چمکتا ہوا نظر آئیگا۔ کائنات میں کروڑوں ستارے ایسے ہیں کہ جن کی روشنی ہم تک اربو ں سالوں میں پہنچتی ہے اور ان میں ہزاروں تباہ ہو چکے ہونگے اس کے با و جود ہمیں ہر رات لشکارے مارتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔ ایسے کسی ستارے کا نظر آنا فیکٹ ہے لیکن حقیقت میں وہ اس وقت وہاں موجود نہیں ہے، اس کا اپنی جگہ نہ ہونا سچ ہے۔ جس طرح ستارے نہ ہوتے ہوئے بھی ہمیں نظر آتے ہیں بالکل اسی طرح بعض اوقت کچھ چیزیں ہوتے ہوئے بھی ہمیں نظر نہیں آتے۔

مثلا : میں گھر میں کوئی چیز رکھ کر بھول گیا، ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گیا لیکن کہیں نہیں مل رہی۔ وہ چیز ہے تو گھر میں ہی ، یہ تو میں جانتا ہوں، یہ سچ ہے لیکن وہ مل نہیں رہی، دکھائی نہیں دے رہی یہ فیکٹ ہے۔

٭ ٹی وی چینلز کی نشریات ریڈیائی لہروں کی صورت میں یہاں موجود ہیں، میں جانتا ہوں، یہ سچ ہے۔ لیکن دیکھائی نہیں دے رہی، سنائی نہیں دے رہیں، یہ فیکٹ ہے، فیکٹ دیکھنے سننے کا محتاج ہے، اسے پھر ہی تسلی ہوتی ہے۔ ٹی وی آن کرتے ہی یہ ریڈیائی لہریں تصویروں کی شکل میں سکرین پر نموراد ہو جاتی ہیں۔ فیکٹ (Reality) بن گیا۔ اب اس فیکٹ کی (Reality) ٹی وی کی کوالٹی پر بھی منحصر ہے، بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی پر تصویر بھی کالی چٹی ہوگی، ڈیجیٹل اور لاگ ٹی۔وی پر تصویری اثرات مختلف ہونگے۔ ہر دیکےٹی والا ان تصویروں کو مختلف انداز سے دیکھے گا۔ کسی کو وہ تصویر اچھی لگے گی تو کسی کو بہت بری۔ جب تک یہ تصویر ریڈیائی لہروں کی شکل میں تھیں انکے بارے میں مختلف آراء نہیں تھیں، جونہی یہ سچ بیان ہوا، (Reality) بنا، جھوٹ بن گیا۔ اب ہر آدمی اسے اپنے اپنے حساب سے دیکھے گا۔

٭ سچ کا اظہار بدلتے ہی اس کا اعتبار بھی بدل جاتا ہے۔ اب سب لوگ ایک ہی تصویر کو ایک ہی انداز سے نہیں دیکھ سکتے۔ ہر انسان کا دیکھنے کا اپنا انداز ہے، اپنا سچ ہے، اور یہ سچ اسکا اپنا ہے، پرائیویٹ اور پرسنل ہے۔ ایک سچ کو تصویری شکل میں بیان، نشر اور پبلک کرنے سے لوگوں کا پرائیویٹ سچ پبلک نہیں کیا جاسکتا کیونکہ سچ بیان ہوتے ہی، نشر ہوتے ہی، پبلک ہوتے ہی جھوٹ بن جاتا ہے۔ کسی ایک تصویر پر تمام ناظرین کی ایک جیسی رائے نہیں ہوسکتی۔ گو کہ دکھائی جانے والی تصویر ایک ہی ہے لیکن دیکھی جانے والی تصویر مختلف ہے۔

اب اگر کوئی ٹی۔وی چینل اپنے ناظرین پر یہ پابندی لگا دے کہ اس کی تصویر کو اسی کے انداز دیکھا جائے کہ جیسے وہ دکھائی جاتی ہے تو یہ یقینا انتہائی مضحکہ خیز ہوگا۔ ٹی۔وی جو ریڈیائی لہریں وصول کر رہا ہے یعنی جو خود دیکھ رہا ہے وہ تو سچ ہے لیکن جو ہمیں دکھا رہا ہے وہ فیکٹ ہے۔ اب ہم تصویر دیکھ کر ریڈیائی لہروں کا تصور کیسے کریں؟ فیکٹ دیکھ حقیقت کیسے جانے؟ جھوٹ دیکھ کر سچ کیسے پہچانیں؟ محض روشنی دیکھ کر ستارہ کیسے مانیں؟ چابیاں نظر نہ آنے پر انکے وجود کا انکار کیسے کردیں؟

٭ ٹی وی چینلز کی جس حرکت کو ابھی ہم نے انتہائی مضحکہ خیز قرار دیا ہے، پنڈت، پادری، مولوی صدیوں سے یہ مضحکہ خیز حرکت کئے چلے جارہے ہیں اور مضحکہ خیز طور پر کوئی اسے مضحکہ خیز بھی قرار نہیں دیتا۔ ٹی وی کم از کم خود تو سچ دیکھتا ہے گو کے ہمیں فیکٹ دکھاتا ہے لیکن یہ فراڈیہ پنڈت، پادری، مولوی سچ کے تو قریب تک نہیں پھٹکا، دوسروں کے فیکٹ کو ہی اپنا سچ بنا بنا کر پیش کئے جا رہا ہے اسی لیے ڈنڈا لیکر لوگوں سے منوانا پڑتا ہے۔ انبیاء و صوفیاء نے خود سچ دیکھا، چکھا محسوس کیا تاہم انہوں نے بھی جو سچ بیان کیا وہ بھی ہم تک پہنچتے پہنچتے فیکٹ ہی بن گیا۔ کیونکہ ہر سچ بیان ہوکر فیکٹ بن جاتا ہے، اور فیکٹ موجود بھی ہو سکتا ہے اور نہیں بھی۔ انہوں نے اپنا سچ اس انداز سے بیان کیا کہ ہم تک پہنچتے پہنچتے یہ فیکٹ ایک ٹریگر بن جائے اور ہمارے اندر کے سچ کو بیدار اور متحرک کر سکے۔ اسی لیے پنڈت، پادری، مولوی ہماری مانو، ہماری مانو کی بھرمار کرتے ہیں جبکہ بنی و صوفی خود جانو، خود جانو پر اصرار کرتے ہیں۔ فیکٹ ہمیشہ مانا جاتا ہے، سچ ہمیشہ خود سے جانا جاتا ہے۔ جو دوسرے سے مانا جائے وہ فیکٹ ہے اور جو خود سے جانا جائے وہی سچ ہے۔

Loading