شباب کی باتیں
*میں پشاور میں پشاور کو بہت ڈھونڈتا ہوں*
باریاں تو لگی ہوئی ہیں، کون جانے کس کی باری کب آئے؟ کہ اس سے مفر نہیں ہے، آب حیات تھوڑی کسی نے پی رکھی ہے کہ وہ سدا جیتا رہے گا؟ خواہ اس کی ملاقات خضر علیہ السلام سے ہی کیوں نہ ہو جائے کہ حضرت خضر کو بھی اجازت نہیں دی گئی کہ وہ آب حیات کی نشاندہی کرے، وگرنہ مرزا غالب کو الزام نہ لگانا پڑتا کہ
*کیا کیا خضر نے سکندر سے؟*
*اب کسے رہنما کرے کوئی؟*
جب مشیت ایزدی ہی نہ ہو تو اس میں حضرت خضر کی کیا مجال کہ چشمہء آب حیواں کی نشاندہی کرے، یا ایک قطرہ ہی سہی اس چشمے سے کسی کو پینے کا موقع فراہم کرے۔ اس لیے تو کہتے ہیں آج وہ کل ہماری باری ہے۔
یار طرحدار، ہمدم دیرینہ، دوست ہردل عزیز، پروفیسر ڈاکٹر نذیر تبسم کو بچھڑے ہوئے اب تو دوسرا سال بھی شروع ہو گیا ہے۔ ہنستا مسکراتا،محفل یاراں میں قہقہے بکھیرتا ہوا، یوں رخصت ہو گیا کہ احساس تک نہ ہونے دیا، بلکہ اپنے بارے میں جو پیشگوئی اس نے کی تھی، اس وعدے کو نبھانے میں بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی اور ثابت کر دیا کہ
*چلا جاؤں گا دامن جھاڑ کر اک دن اچانک*
*تبسم میں تو ویسے بھی قلندر آدمی ہوں*
جیسا کہ میں ان کی رحلت کے بعد بھی کسی کالم میں کہہ چکا ہوں کہ بہت سوں کے لیے وہ پروفیسر تھا، ادب و شعر کے میدان کا ڈاکٹر تھا، استاد الاساتذہ تھا کہ اس کے لا تعداد شاگرد اب خود بھی ادب کے میدان کے ڈاکٹر (پروفیسر) بن کر اپنے اپنے شاگردوں کی جھرمٹ میں بیٹھے ہوئے پڑھا رہے ہیں، اور علم کی آبیاری کر رہے ہیں۔ مگر ہم چند انتہائی قریبی دوستوں، یاروں کے لیے وہ کیا تھا؟ بہت کچھ۔۔۔۔ بلکہ اس سے بھی آگے کی چیز، الفاظ جس کا احاطہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ جان جگر، یار طرحدار، عزیز از جان یا مزید الفاظ جو لغت سے چن کر اس کی شخصیت پر منطبق کیے جائیں، مگر ان الفاظ کی حدیں جہاں ختم ہو جاتی ہیں وہیں سے نذیر تبسم کی شخصیت کی محبتوں کی پرتیں کھلنا شروع ہو جاتی ہیں اور اسے لامحدودیت کی لامتناہی وسعتوں سے ہمکنار کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ کم از کم میں ان کہکشاؤں کی بسیط محبتوں کی غواثی کا دعوی نہیں کر سکتا، بالکل اس پھول کی مانند جس کی کھوج میں اس کے اندر سے ایک اور پھول نکل آتا ہے۔
*ہے کون سی صورت یہ اداسی کی سر شام؟*
*ہیں ساتھ میرے یار طرحدار بھی مغموم*
*اک تو ہی نہیں صورت احوال سے بے کل*
*ہیں یار تبسم تیرے دلدار بھی مغموم*
نذیر تبسم کی ہر دلعزیزی کا یہ عالم ہے کہ کل بھی جب اس کی رحلت کی جانکاہ خبر نے آنا” فانا” میڈیا اور سوشل میڈیا پر کہرام مچایا تو اس کے دوستوں، بہی خواہوں اور شاگردوں کے تعزیتی پیغامات نے موبائل فون کو ایک لمحے کے لیے بھی چین لینے نہ دیا۔ ایک کے بعد ایک، اوپر نیچے تعزیتی خبریں، تبصرے اور تجزیوں کی بھرمار تھی۔ اور یہ سلسلہ وقتاً فوقتاً اب بھی جاری ہے۔ ابھی گزشتہ روز ہی اس کی پہلی برسی کا دن تھا۔ مختلف ادبی گروپوں، حلقوں، دوستوں اور ادب نواز شخصیات نے اس کی یاد کو یوں تازہ کرنا شروع کر دیا گویا نذیر تبسم کو رخصت ہوئے سال نہیں چند روز ہی ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر نذیر تبسم اپنی ذات میں ایک انجمن تو تھے ہی، وہ اپنی جنم بھومی پشاور کے ان عشاق میں شامل تھے جن کے اندر پشاور لمحہ لمحہ بسا ہوا تھا۔
*اپنے روٹھے ہوئے دلبر کو بہت ڈھونڈتا ہوں*
*میں پشاور میں پشاور کو بہت ڈھونڈتا ہوں*
*قامت و قد میں جو اونچے تھے ہمالہ سے نذیر*
*میں ان احباب سخنور کو بہت ڈھونڈتا ہوں*
ڈاکٹر نذیر تبسم اردو ہی کے نہیں اپنی ماں بولی، ہندکو زبان کے بھی بہت اچھے شاعر تھے اور ہندکو زبان کی آبیاری کے حوالے سے بھی ان کی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاۓ گا۔ وہ جہاں اردو شاعری کے کئ ایک خوبصورت مجموعے اردو ادب کو دے گئے ہیں وہیں ان کی ہندکو شاعری، جو خاص طور پر پشاور ٹیلی ویژن کے لیے انہوں نے کی، ان تخلیقات کی تعداد بھی اتنی ہے کہ اگر ان کو مرتب کیا جائے تو ایک ضخیم مجموعہء کلام کی صورت میں ہندکو ادب میں خوبصورت اضافہ ہو سکتا ہے۔ شنید ہے کہ اس حوالے سے وہ اپنے ہندکو کلام کو مرتب کرنے میں مصروف تھے، مگر اچانک رحلت کر جانے سے یہ کام ادھورا رہ گیا۔ اب ان کی دختر نیک اختر ڈاکٹر صدف عنبرین سے یہی گزارش کی جا سکتی ہے کہ وہ خود ہی اس ادھورے منصوبے کو پورا کرنے پر توجہ دیں، تاکہ نہ صرف ان کی خواہش کی تکمیل ہو سکے بلکہ ہندکو زبان ان کے اس مجموعہء کلام سے مزید ثمر بار ہو سکے۔
اسے اتفاق کہیے یا کچھ اور کہ جب نذیر تبسم رخصت ہوئے تو دوست مکرم، ناصر علی سید تب بھی ملک سے باہر تھے اور آج جب ہم ان کی پہلی برسی پر ان کی یاد میں تقریب بپا کیے ہوئے ہیں، تب بھی ناصر امریکہ میں ہے اور چند روز بعد ہی واپس آئے گا، تب ہم اس تعزیتی ریفرنس کی یادیں ان کے ساتھ شیئر کریں گے اور انہیں اپنا ہی شعر دہرانا پڑے گا کہ
*تقریب تیری یاد کی کمرے میں بپا تھی*
*میں صدر بھی، سامع بھی تھا خود بول رہا تھا*
نذیر تبسم اپنے شہر پشاور سے عقیدت کی حد تک جس طرح محبت کرتا تھا اس کو انہوں نے مختلف غزلوں، نظموں میں کس خوبصورتی سے ڈھالا ہے، وہ ملاحظہ فرمائیں ۔
*قہوہ خانوں میں بھی رونق سی لگی رہتی تھی*
*قصہ خوانی میں چلے آتے تھے مہکے ہوئے لوگ*
*استعارہ ہیں کسی شہر خموشاں کا نظیر*
*یہ میرا شہر پشاور، میرے مرتے ہوئے لوگ*
![]()

