Daily Roshni News

ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی

ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کو صرف اپنے جانشین کے لیے 3 شادیاں کرنا پڑی اور جب قدرت نے مستقبل کا بادشاہ عنایت کیا تو بادشاہ خود بیمار پڑگیا اور عارضی شہنشاہ کا عہدہ بیوی کو دینا پڑا تاکہ جانشین کی 21 سال عمر سے پہلے بادشاہ نہ رہا تو اقتدار پہلوی خاندان میں رہے لیکن قسمت کا رنگ ایسا رچا کہ جب بیٹا اقتدار سنبھالنے کے قابل ہوا تو ایرانی بادشاہت چھین گئی اور شہزادہ دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوا۔
1906 میں جب نیا ایرانی آئین بنا تو قانون میں لکھا گیا کہ صرف مرد ہی بادشاہ کا وارث اور تخت سنبھال سکتا ہے اور جانشین قاجار خاندان سے نہیں ہوسکتا اور اسکا بظاہر مقصد بادشاہت کو پہلوی خاندان کے پاس رکھنا تھا لیکن آگے چل کر یہی آئین رضا شاہ پہلوی کے مشکلات کا باعث کیونکہ انہیں اقتدار تو 1941 تا 1979 ملا لیکن انکی شادی بطور شہزادہ 1939 میں مصری شہزادی فوزیہ سے ہوئی جوکہ مکمل ارینج اور مصر اور ایران کے تعلقات کو فروغ دینے کی نیت سے ہوئی لیکن اگلے ہی سال فوزیہ نے شہناز کی صورت میں بیٹی پیدا کی تو بادشاہ کو وارث نہ ملا اور اسی پریشانی کو لے کر رضا شاہ پہلوی اور فوزیہ کے تعلقات خراب ہوئے تو فوزیہ 1945 میں واپس قاہرہ چلی گئی اور 1948 میں انکی طلاق ہوگئی۔
بادشاہ نے دوسری شادی 1951 میں پسند کی صوریہ اصفندری سے کی جو ایران کے طاقتور قبیلے بختاری سے تعلق رکھتی تھی اور جب انکی شادی ہوئی تو انکی آنکھوں کی غیر معمولی چمک کے باعث اداس آنکھوں والی شہزادی کا نام دیا گیا لیکن بعدزاں طبی ماہرین کے مطابق صوریہ کبھی ماں نہیں بن سکتی اور بادشاہ کو وارث ہر صورت درکار تھا اور اسکی عمر بھی 30 سے اوپر ہوچکی تھی لیکن بادشاہ صوریہ کو چھوڑنا بھی نہیں چاہتے تھے کیونکہ وہ انکی من پسند عورت تھی لیکن صوریہ انکی دوسری شادی کے حق میں بھی نہ تھی تو پھر مجبوری میں یہ طلاق 1958 میں ہوئی۔
فرح دیبا سے شاہ ایران نے 1959 میں شادی کی اور انکا تعلق ایک فوجی خاندان سے تھا اور محمد رضا شاہ پہلوی نے دیبا کو پیرس کے دورے میں ایک تقریب میں پسند کیا۔
اکتوبر 1960 میں شاہ ایران کو 41 سال کی عمر میں اپنے تخت کا وارث شہزادہ رضا مل گیا اور پہلوی خاندان کے مستقبل پر چھائے بادل جھٹ گئے لیکن قسمت کو کچھ اور منطور تھا۔
1963 میں فرح دیبا نے اپنی دوسری اولاد بیٹی فرح ناز اور پھر 1966 میں بادشاہ کو دوسرے بیٹے علی رضا اور 1970 میں شہزادی لیلا کی پیدائش ہوئی لیکن بادشاہ نے 1967 میں فرح دیبا کو شہنشاہ کا خطاب دے دیا تھا اور اسکا مقصد اگر بادشاہ فوت ہو جائے اور جانشین بیٹا رضا پہلوی 21 سال کی عمر کو نہیں پہنچا ہوا تو اس عرصے میں ملک فرح دیبا چلائیں گی لیکن یہ موقعہ نہ فرح دیبا کو ملا اور نہ شہزادہ رضا پہلوی کیونکہ ایران میں خمینی انقلاب 1979 میں آگیا اور بیمار بادشاہ کو جلاوطنی کے دوران ہی 1980 میں موت نے گھیر لیا اور اسکا جانشین رضا پہلوی جو نہایت حفاظت اور شاہانہ انداز میں پالا گیا تھا وہ فوجی مہارتوں کو سیکھنے کے بعد ایڈوانس لیول کا پائلٹ بننے ٹیکساس 1978 کو پہنچا اور پھر کبھی واپس اپنے ملک ایران نہ جاسکا اور آج بھی ایرانی بادشاہت کا وارث ہونے کا دعویدار ہے۔
باقی محمد رضا شاہ پہلوی کی پانچوں اولادوں میں سے بڑی بیٹی شہناز 86 سال کی عمر میں سوئٹزر رہتی ہے، جانشین بیٹا 66 سال کی عمر میں امریکہ کا رہائشی ہے اور منظر عام پر بھی ہے جبکہ 63 سالہ بیٹی فرح ناز امریکہ میں گمنام زندگی اپنی ماں فرح دیبا کے ساتھ گزار رہی ہیں اور دوسرا بیٹا علی رضا پہلوی نے 2011 میں خودکشی کرلی اور سب سے چھوٹی بیٹی لیلی 31 سال کی عمر میں لندن میں اپنے کمرے میں زیادہ دوائی لینے کی وجہ سے انتقال کرگئی تھی۔

فی الحال رضا پہلوی امریکہ سے ایران میں جمہوری انقلاب کے لیے اپنی جدوجہد کر رہے ہیں لیکن یہ طے ہے کہ جب بھی ایران میں جمہوریت کی مکمل اور آزادانہ واپسی ہوئی تو پہلوی خاندان کے وارثان اپنے ملک واپس آ کر اقتدار کے حصول کے لیے عوامی رائے کے استعمال کی کوشش کریں گے۔
باقی دنیا میں کوئی چیز، فرد، آئین و قانون اور حتی کہ آب و ہوا تک بھی حتمی یا دائم نہیں ہوتی۔۔۔

(ک ا پ ی)
#foryou

Loading