انگوٹھا اٹھائیے۔ بازو سیدھا کیجیے۔ اب صرف بائیں آنکھ کھلی رکھیں، پھر صرف دائیں۔
انگوٹھا اپنی جگہ سے ہلتا ہوا نظر آئے گا۔ حالانکہ انگوٹھا ہلا نہیں۔ آپ کی آنکھ بدلی ہے۔
بس یہی وہ ترکیب ہے جس سے انسان نے پہلی بار کسی ستارے تک کا فاصلہ ناپا۔
دو ہزار سال پہلے کچھ یونانی عالموں نے کہا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ ان کے مخالفوں کے پاس ایک بہت مضبوط اعتراض تھا۔
اگر زمین واقعی چھ ماہ میں مدار کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچ جاتی ہے، تو ستاروں کو بھی تھوڑا سا ہلنا چاہیے۔ بالکل اسی طرح جیسے آنکھ بدلنے سے انگوٹھا ہلتا ہے۔
آسمان دیکھا گیا۔ کوئی ستارہ نہیں ہلا۔
اعتراض جیت گیا۔ اور یہ سوال دو ہزار سال تک لٹکا رہا۔
اصل بات یہ تھی کہ ستارے ہل تو رہے تھے۔ مگر اتنا کم کہ ننگی آنکھ کے بس کی بات ہی نہیں تھی۔
سوچیے آپ چلتی بس کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہے ہیں۔ ساتھ والا کھمبا تیزی سے پیچھے بھاگتا ہے۔ دور کا درخت آہستہ۔ اور افق پر کھڑا پہاڑ ہلتا ہی نہیں۔
یعنی چیز جتنی دور ہو، اتنا کم ہلتی ہے۔
ستاروں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ زمین چھ ماہ میں سورج کی دوسری طرف جا نکلتی ہے۔ ہماری “آنکھ” بدل جاتی ہے۔ اور قریب کا ستارہ، دور کے ستاروں کے مقابلے میں، ذرا سا کھسکا ہوا دکھائی دینے لگتا ہے۔
اسی کھسکنے کو parallax (اختلافِ منظر) کہتے ہیں۔
یہ زاویہ ایک بار ناپ لیا جائے، تو مثلث کی سادہ ریاضی باقی کام کر دیتی ہے۔
ایک منٹ رکیے۔ سیدھی بات صرف اتنی ہے: ستارے کا فاصلہ چھو کر نہیں، زاویہ ناپ کر معلوم کیا جاتا ہے۔
۱۸۳۸ میں جرمنی کے شہر کونگز برگ میں فریڈرک بیسل نے یہ زاویہ پکڑ لیا۔
اس نے ایک ستارہ چنا، جس کا نام 61 Cygni ہے۔ پھر ایک سال سے زیادہ، رات کے بعد رات، اُس کی جگہ ناپتا رہا۔
جو زاویہ اسے ملا، وہ ایک ڈگری کے تقریباً گیارہ ہزارویں حصے کے برابر تھا۔
اس عدد کو یوں سمجھیے۔ دو سینٹی میٹر کا ایک سکہ لیجیے۔ اسے تیرہ کلومیٹر دور رکھوا دیجیے، شہر کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک۔ اتنی دور سے وہ سکہ آسمان میں جتنی جگہ گھیرے گا، بیسل نے بس اتنا سا ہلنا ناپا تھا۔
جواب نکلا: وہ ستارہ تقریباً دس نوری سال دور ہے۔
آج کے آلات کہتے ہیں گیارہ نوری سال سے کچھ زیادہ۔ یعنی پہلی ہی کوشش میں بیسل تقریباً ٹھیک تھا۔
اور دو ہزار سال پرانا اعتراض اُسی دن ختم ہو گیا۔ ستارے ہلتے تھے۔ ہماری آنکھیں کمزور تھیں۔
آج یہی کام ایک خلائی دوربین کر رہی ہے، جس کا نام Gaia ہے۔ بیسل نے پوری زندگی میں ایک ستارے کا فاصلہ ناپا۔ Gaia ڈیڑھ ارب سے زیادہ اجسام کے فاصلے ناپ کر فہرست بنا چکی ہے۔
مگر طریقہ آج بھی وہی ہے جو آپ کے انگوٹھے کا ہے۔ ایک آنکھ، پھر دوسری آنکھ، اور بیچ کا فرق۔
مجھے یہ بات آج تک حیران کرتی ہے۔ جب اگلی بار آپ چھت پر چارپائی ڈال کر آسمان دیکھیں تو یہ یاد رکھیے۔ ہمارے پاس وہاں تک جانے کا کوئی راستہ نہیں۔ ناپنے کا راستہ ضرور ہے۔ اور وہ راستہ اتنا سادہ ہے کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ کے اپنے ہاتھ میں تھا۔
اگر آپ کو خلاء اور فلکیات کی ایسی باتیں پسند ہیں جو آسان زبان میں بتائی جائیں تو ستاروں سے آگے کو ابھی فالو کریں۔
ہر روز ایک نئی حیرت آپ کا انتظار کر رہی ہے۔
![]()

