Daily Roshni News

مصنوعی ذہانت سے انسانیت کے خاتمے کا 10 فیصد سے زائد امکان ہے، ایوان ہوبنگر

اینتھروپک کے ایک اعلیٰ سیفٹی ریسرچر نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اس قدر تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ ان کے خیال میں آئندہ 10 برسوں کے دوران اس کے تمام انسانوں کو ختم کر دینے کا امکان 10 فیصد سے زیادہ ہے۔

ایوان ہوبنگر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ فی الحال موجود ماڈلز سے لاحق خطرہ کم ہے تاہم انہیں تشویش ہے کہ یہ ٹیکنالوجی جلد ہی اس حد تک ترقی اور خود بہتری حاصل کر سکتی ہے جہاں یہ انسانیت کے لیے ایک وجودی خطرہ بن جائے۔

انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کے خیال میں مستقبل میں اے آئی نظام کس طرح انسانوں کے مکمل خاتمے کا باعث بن سکتے ہیں۔

تاہم ان کے تبصرے  اے آئی سے متعلق مسلسل بڑھتے جانے والے سنگین انتباہات کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہیں جہاں بحث اب اس بات پر نہیں رہی کہ آیا اے آئی واقعی کوئی خطرہ ہے یا نہیں بلکہ اس پر مرکوز ہو گئی ہے کہ یہ خطرہ کس حد تک بڑا ہے۔

ہوبنگر کا یہ ردعمل دراصل جیکب کوکسن کی ایک پوسٹ کے جواب میں آیا جو ایک اے آئی محقق ہیں اور حال ہی میں اینتھروپک چھوڑ چکے ہیں اور اس سے قبل اوپن اے آئی میں بھی کام کر چکے ہیں۔ جیکب کوکسن نے لکھا کہ ان کے خیال میں دونوں کمپنیاں (اینتھروپک اور اوپن اے آئی) ذمہ داری سے کام نہیں کر رہیں۔

انہوں نے مزید لکھا کہ جلد ہی یہ ایسے سپر ہیومن نظام بن جائیں گے جو کسی بھی چیز کو ہیک کر سکیں گے راتوں رات کسی بھی شعبے میں انقلاب برپا کر سکیں گے اور حقیقی طاقت و وسائل حاصل کر سکیں گے

Loading