Daily Roshni News

چراغِ رفتگاں

چراغِ رفتگاں

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )چراغِ رفتگاں کے روشن صحیفۂ یاد میں آج اُس عظیم ہستی کا اسمِ گرامی جگمگا رہا ہے، جسے تاریخِ پاکستان نے محسنِ پاکستان، بانیِ مملکت اور معمارِ وطن، قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کے نام سے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا ہے۔

وہ مردِ آہن، جس کے عزم نے شکستہ حوصلوں کو استقامت بخشی اور جس کی بصیرت نے ایک منتشر قوم کے خواب کو تعبیر کا پیکر عطا کیا۔

وہ صاحبِ کردار ہستی، جس نے اپنی متاعِ حیات قوم کے مستقبل پر نثار کردی اور اپنی آخری سانس تک پاکستان کی بنیادوں کو استحکام بخشنے میں مصروفِ عمل رہی۔

آج گیارہ ستمبر کی سوگوار ساعتوں میں چراغِ رفتگاں کے اوراق کھلتے ہیں تو ایک ایسا آفتابِ کردار سامنے آتا ہے، جو جسمانی طور پر غروب ہو کر بھی تاریخ کے افق پر ہمیشہ کے لیے روشن ہوگیا۔

قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ — ایک نام نہیں، ایک عہد؛ ایک شخصیت نہیں، ایک قومی استعارہ؛ ایک رخصت ہونے والا انسان نہیں، پاکستان کے حافظۂ تاریخ میں ہمیشہ فروزاں رہنے والا چراغ۔—– -ستمبر — وہ آفتاب جو غروب ہو کر بھی طلوع رہا

              ━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━                                                                                                                   قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ — تاریخ کے افق کا مردِ آہن     ━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

11گیارہ ستمبر کا دن جب تاریخ کے دریچے سے جھانکتا ہے تو پاکستان کے افق پر ایک گہری اداسی اتر آتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت کی پیشانی پر کسی عظیم عہد کی جدائی کا نوحہ لکھا ہو، جیسے تاریخ کے آسمان سے وہ ستارہ اوجھل ہوگیا ہو جس کی روشنی نے ایک منتشر قوم کو منزل کا راستہ دکھایا تھا۔ یہ وہ دن ہے جب قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے، مگر اپنے کردار، عزم اور فکر کا ایسا چراغ چھوڑ گئے جس کی لو آج بھی پاکستان کے قومی شعور میں روشن ہے۔

محمد علی جناحؒ محض ایک شخصیت کا نام نہیں؛ وہ ایک فکر، ایک عزم، ایک جدوجہد اور ایک قومی خواب کا استعارہ ہیں۔ وہ تاریخ کے اس باب کا روشن عنوان ہیں جس میں ایک بے قرار قوم نے اپنے مستقبل کی تلاش کی، اپنے حقوق کی آواز بلند کی اور بالآخر ایک آزاد وطن کی صورت میں اپنی منزل پائی۔

25 دسمبر 1876ء کو کراچی کی سرزمین نے اس مردِ درویش صفت کو جنم دیا جس کے مقدر میں برصغیر کی سیاسی تاریخ کا رخ بدلنا لکھا تھا۔ بظاہر ایک انسان، مگر ارادے میں کوہِ گراں؛ بظاہر ایک سیاست دان، مگر بصیرت میں ایک دور اندیش معمار؛ بظاہر ایک قانون دان، مگر درحقیقت ایک پوری قوم کے مقدمے کا وکیل۔

قانون ان کا پیشہ تھا، مگر اصول ان کی زندگی کا دستور۔ عدالت کے ایوانوں سے سیاست کے میدان تک ان کی شخصیت ایک ایسے قلم کی مانند رہی جس کی روشنائی صداقت، دیانت اور استقامت سے کشید ہوئی تھی۔ وہ جذبات کی تیز آندھیوں میں بہہ جانے والے رہنما نہ تھے؛ ان کی سیاست تدبر کے اس دریا کی مانند تھی جو شور سے نہیں، گہرائی سے اپنی قوت کا اظہار کرتا ہے۔

لندن سے قانون کی تعلیم حاصل کرکے جب وہ وطن واپس آئے تو شاید کسی کو اندازہ نہ تھا کہ یہی نوجوان آگے چل کر برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی تقدیر کا معمار بنے گا۔ ان کے لہجے میں خطابت کا شور کم تھا مگر دلیل کی صلابت ایسی تھی کہ مخالف بھی ان کے استدلال کی قوت کو نظرانداز نہ کرسکتا تھا۔

وہ جانتے تھے کہ قومیں محض نعروں سے وجود میں نہیں آتیں۔ قوموں کی تشکیل کے لیے فکر کی پختگی، کردار کی بلندی، نظم و ضبط کی پابندی اور مسلسل جدوجہد درکار ہوتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے مسلمانوں کے منتشر سیاسی شعور کو ایک مرکز عطا کیا اور بکھرے ہوئے قافلے کو منزل کا احساس بخشا۔

یہ سفر کسی گلزار کی سیر نہ تھا؛ راستے میں خار بھی تھے، سنگ بھی، مخالفت کے طوفان بھی اور سیاسی آزمائشوں کے صحرا بھی۔ مگر قائداعظم کے عزم کی پیشانی پر حالات کی آندھیاں کوئی شکن نہ ڈال سکیں۔ وہ طوفانوں کے سامنے چراغ لے کر کھڑے ہونے والے نہیں تھے؛ وہ خود ایک چراغِ راہ تھے۔

ان کی شخصیت میں عجب امتزاج تھا؛ فکر میں گہرائی، مزاج میں متانت، گفتگو میں وقار، فیصلوں میں استقامت اور مقصد میں ایسی یکسوئی کہ زمانے کی کروٹیں بھی ان کے عزم کو متزلزل نہ کرسکیں۔ ان کا سفر ایک ایسے مسافر کا سفر تھا جسے منزل کا یقین ہو اور راستے کی دشواریوں کا خوف نہ ہو۔

وقت گزرتا گیا، سیاسی حالات کروٹیں بدلتے گئے اور برصغیر کی تاریخ ایک فیصلہ کن موڑ کی طرف بڑھتی گئی۔ قراردادِ لاہور نے مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کے خواب کو ایک واضح سمت عطا کی اور پھر قائداعظم کی قیادت میں ایک ایسی جدوجہد کا آغاز ہوا جس نے تاریخ کے نقشے پر نئی لکیریں کھینچ دیں۔

یہ جدوجہد محض سیاسی مطالبے کی داستان نہ تھی؛ یہ ایک قوم کے شعور کی بیداری تھی۔ یہ ان آنکھوں کا خواب تھا جنہوں نے آزادی دیکھی نہ تھی، مگر آزادی کی خوشبو محسوس کرلی تھی۔ یہ ان دلوں کی آرزو تھی جنہوں نے اپنے لیے ایک ایسی سرزمین کا تصور کیا جہاں وہ اپنی تہذیب، اپنی اقدار اور اپنے سیاسی مستقبل کے ساتھ آزاد زندگی بسر کرسکیں۔

پھر وہ ساعتِ سعید آئی جس کا انتظار ایک طویل عرصے سے کیا جارہا تھا۔ 14 اگست 1947ء کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد مملکت کی حیثیت سے طلوع ہوا۔ یوں محسوس ہوا جیسے صدیوں کی شب کے بعد صبحِ امید نے افق پر اپنا پہلا قدم رکھا ہو۔ سبز ہلالی پرچم صرف ایک نئی ریاست کی علامت نہ تھا؛ وہ ایک خواب کی تعبیر، ایک جدوجہد کی سند اور ایک قوم کے عزم کی دستاویز تھا۔

مگر آزادی کی صبح اپنے دامن میں صرف پھول نہیں لائی تھی۔ اس کے ساتھ آزمائشوں کے کوہسار بھی تھے۔ لاکھوں مہاجرین کے قافلے، بے شمار انسانی المیے، انتظامی دشواریاں، مالی مشکلات اور ایک نوخیز ریاست کی تعمیر کا بے پناہ بوجھ قائداعظم کے سامنے تھا۔

جسم بیماری کے ہاتھوں نحیف ہوچکا تھا، مگر ارادہ اب بھی فولاد کی طرح مضبوط تھا۔ بدن کی شمع پگھل رہی تھی، مگر مقصد کا چراغ پوری آب و تاب سے روشن تھا۔ وہ اپنی زندگی کی آخری توانائیاں بھی پاکستان کی بنیادوں کو استحکام دینے میں صرف کرتے رہے۔

ان کے نزدیک پاکستان محض زمین کا ایک ٹکڑا نہ تھا۔ یہ ایک امانت تھا، ایک عہد تھا، ایک ذمہ داری تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ یہ ریاست قانون کی بالادستی، انصاف، شہری وقار، باہمی احترام اور نظم و ضبط کی بنیادوں پر استوار ہو۔

ان کے تصورِ ریاست میں قانون وہ سایۂ شجر تھا جس کے نیچے ہر شہری کو تحفظ ملنا چاہیے، انصاف وہ میزان تھا جس پر طاقتور اور کمزور دونوں کے حقوق تولے جانے چاہییں اور شہری مساوات وہ خوشبو تھی جو معاشرے کے ہر گوشے میں پھیلنی چاہیے۔

11 اگست 1947ء کی تقریر میں بھی ان کی فکر کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے کہ ریاستی زندگی میں شہری حقوق، مذہبی آزادی اور قانون کی حکمرانی کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔ ان کے نزدیک ایک مضبوط ریاست وہ تھی جہاں شہری اپنے فرائض ادا کریں اور دوسروں کے حقوق کا احترام کریں۔

پھر تاریخ کا وہ لمحہ آیا جس کا تصور بھی دل کو لرزا دیتا ہے۔ 11 ستمبر 1948ء کو کراچی کی فضا سوگوار ہوگئی۔ پاکستان کے معمار نے اس جہانِ فانی سے رخصت لی۔ ابھی وطنِ عزیز نے اپنی آزادی کی پہلی سالگرہ بھی پوری طرح نہ دیکھی تھی کہ اس کے سب سے بڑے رہنما کا سایۂ شفقت اٹھ گیا۔

ایسا محسوس ہوا جیسے نوخیز مملکت کے سر سے وہ تناور شجر اٹھ گیا ہو جس نے اسے ابتدائی طوفانوں سے بچایا تھا۔ جیسے ابھی ابھی روشن ہونے والے چراغستان کا سب سے بڑا چراغ اچانک خاموش ہوگیا ہو۔ مگر بڑے انسان جسمانی موت سے ختم نہیں ہوتے؛ وہ تاریخ کے حافظے میں زندہ ہوجاتے ہیں۔

قائداعظم بھی ایک فرد سے فکر بن گئے، ایک شخصیت سے نظریہ بن گئے اور ایک زندگی سے ایک قومی سبق۔ ان کا جسم مٹی میں آسودہ ہوا مگر ان کا کردار پاکستان کے شعور میں ہمیشہ کے لیے نقش ہوگیا۔

آج مزارِ قائد کی خاموش فضا میں کھڑے ہو کر محسوس ہوتا ہے کہ سنگِ مرمر کی وہ عمارت صرف ایک مزار نہیں بلکہ تاریخ کا ایک خاموش مدرسہ ہے۔ وہاں کوئی بلند آواز نہیں، مگر ہر طرف ایک سوال گونجتا ہے: اے وارثانِ پاکستان! کیا تم نے اپنے قائد کو سمجھا؟

کیا ہم نے اتحاد کو اپنی قوت بنایا؟ کیا ہم نے نظم و ضبط کو اپنی قومی زندگی کا حصہ بنایا؟ کیا دیانت ہمارے معاملات کی بنیاد بنی؟ کیا قانون ہمارے لیے یکساں رہا؟ کیا ہم نے پاکستان کو محض ایک وطن سمجھا یا ایک امانت بھی جانا؟

اگر قائداعظم آج ہمارے درمیان ہوتے تو شاید وہ ہماری تقریروں سے زیادہ ہمارے کردار کو دیکھتے۔ انہیں پھولوں کے انبار سے زیادہ ایک سچے عمل کی خوشبو عزیز ہوتی۔ انہیں نعروں کے شور سے زیادہ خاموش خدمت کی صدا پسند آتی۔ کیونکہ ان کی پوری زندگی ہمیں یہی درس دیتی ہے کہ قوموں کی تعمیر لفظوں کے محل سے نہیں، کردار کے سنگِ بنیاد سے ہوتی ہے۔

گیارہ ستمبر اس لیے صرف یومِ وفات نہیں؛ یہ یومِ احتساب بھی ہے۔ یہ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے، اپنی کوتاہیوں کا حساب کرنے اور اپنے قومی عہد کو تازہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

قائداعظم کا خواب کسی ایک نسل کی میراث نہیں۔ یہ ہر پاکستانی کے ضمیر پر رکھا ہوا ایک قرض ہے۔ اس قرض کی ادائیگی صرف یہ نہیں کہ ہم ان کی تصاویر آویزاں کریں، ان کے نام کے نعرے لگائیں یا تقریریں کریں؛ حقیقی خراجِ عقیدت یہ ہے کہ ہم اپنے کردار میں صداقت، معاملات میں دیانت، رویوں میں شائستگی، فیصلوں میں انصاف اور قومی زندگی میں نظم پیدا کریں۔

ہمیں نفرت کے خارزار کو محبت کے گلشن میں بدلنا ہوگا، انتشار کی شب کو اتحاد کی سحر میں ڈھالنا ہوگا، مایوسی کے صحرا میں امید کے چشمے جاری کرنے ہوں گے اور اپنے وطن کی پیشانی سے ہر وہ داغ مٹانا ہوگا جو اس کے معمار کے خواب سے متصادم ہے۔

قائداعظم تاریخ کے افق پر وہ آفتاب ہیں جو 11 ستمبر 1948ء کو جسمانی طور پر غروب ہوا، مگر اپنی روشنی سے آج بھی پاکستان کے راستے منور کیے ہوئے ہے۔

ان کی آواز خاموش ہوگئی، مگر ان کا پیغام خاموش نہیں ہوا۔ ان کا سفر ختم ہوگیا، مگر ان کا مشن ختم نہیں ہوا۔ ان کا مزار خاموش ہے، مگر ان کا کردار آج بھی ہمارے قومی ضمیر کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔

اے قائدِ اعظم! آپ نے ہمیں ایک وطن دیا، ایک پرچم دیا، ایک شناخت دی اور ایک خواب دیا۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس خواب کو تعبیر کا لباس پہنائیں، اس وطن کو ترقی و خوش حالی کا گلشن بنائیں اور اس پرچم کو دنیا کے افق پر عزت و وقار کے ساتھ بلند رکھیں۔

آپ رخصت ہوئے تو تاریخ کا ایک باب بند ہوا، مگر پاکستان کی تاریخ کا اصل امتحان شروع ہوگیا۔ آپ نے چراغ ہمارے ہاتھوں میں دیا تھا؛ اب اس کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔

گیارہ ستمبر کی یہ شام ہمیں ماتم سے زیادہ عہد کی طرف بلاتی ہے؛ ایسا عہد جو لفظوں میں نہیں، کردار میں دکھائی دے۔ ایسا عہد جس کی گواہی ہمارے اعمال دیں۔ ایسا عہد جو آنے والی نسلوں کو یہ کہنے کا حق دے کہ ہم نے اپنے قائد کے خواب کو صرف پڑھا نہیں، اسے جینے کی کوشش بھی کی۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ کا آفتاب غروب ضرور ہوا، مگر اس کی کرنیں آج بھی زندہ ہیں۔ ان کا چراغ خاموش نہیں، وہ ہر اس دل میں روشن ہے جو پاکستان کو محض نقشے پر موجود ایک ملک نہیں بلکہ ایک عظیم قومی امانت سمجھتا ہے۔

اللہ تعالیٰ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے درجات بلند فرمائے، ان کی جدوجہد کو شرفِ قبول عطا فرمائے اور ہمیں ایسا پاکستان بنانے کی توفیق دے جسے دیکھ کر اس عظیم معمار کی روح مسرور ہو۔ آمین۔      ━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

قائداعظم محمد علی جناحؒ کو سلام۔

پاکستان کے معمار کو سلام۔

پاکستان زندہ باد۔                                                         ━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━                                                                     از قلم:طَاھر اِقْبَال طَاھرؔ

Loading