شباب کی باتیں
*رو برو ہو جب ادب کا آفتاب*
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں۔۔۔ رو برو ہو جب ادب کا آفتاب۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔ مشتاق شباب مشتاق شباب) انجینیئر عتیق الرحمن نے, کہ جو فی البدیہہ کہنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، ناصر علی سید کو “ادب کا آفتاب” قرار دیتے ہوئے، ان کو یوں سراہا۔
*خوبصورت، پرکشش اور لاجواب*
*گفتگو شیریں کہ جیسے اک رباب*
*فکر و دانش کا ہے دریا موجزن*
*روشنی علم و ادب کی بے حساب*
*روشنی سے دل منور کیوں نہ ہو؟*
*روبرو ہو جب ادب کا آفتاب*
بقول غالب تقریب کچھ تو بہر ملاقات کچھ یوں تھی کہ اب کی بار ناصر علی سید پورے نو ماہ کے بعد ادبی سفر طے کرنے کے بعد اپنے وطن واپس آئے تھے۔ سو اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے حلقہ ارباب ذوق پشاور کے دوستوں نے ان کی آمد کو یادگار بنانے کے لیے ایک خوبصورت تقریب کا ڈول ڈالا۔ حلقہ کے سیکرٹری ڈاکٹر فضل کبیر اور جوائنٹ سیکرٹری مسرور حسین نے تقریب کے انعقاد میں جس دلچسپی کا اظہار کیا اسے دیکھتے ہوئے خواتین کی ادبی تنظیم “کاروان حوا” کی روح و رواں اور مقبول شاعرہ بشری’ فرخ نے بھی تقریب کو یادگار بنانے کے لیے اپنی تنظیم کی جانب سے اشتراک کی پیشکش کی، جسے حلقہ کی مجلس عاملہ نے فراخ دلی سے قبول کرتے ہوئے خوش آمدید کہا اور یوں اس تقریب کے انعقاد کے لیے دونوں تنظیموں نے خلوص و مروت کے لمحات کو یادگار بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔
*کمال رنگ تیری شخصیت کے ہیں ناصر*
*گلوں نے رنگ بھی تجھ سے ہی مستعار لیے*
*رہی ہے سنگ تیرے ہی ہے یہ گماں میرا*
*جو آرہی ہے صبا آنکھ میں خمار لیے*
*جہاں کہیں بھی گیا تو بدل دیا مو سم*
*کہ گھومتا ہے تو آغوش میں بہار لیے*
انجینیئر عتیق الرحمن کی اس بات میں کسی شک کا گزر ممکن ہی نہیں کہ ناصر جہاں بھی جاتا ہے، وہاں کا ادبی اور سماجی موسم بدل کر رکھ دیتا ہے۔
ناصر جب سے امریکہ اور کینیڈا کے ادبی سفر پر نکلا تھا، پشاور کی ادبی فضا میں وہ ارتعاش دیکھنے میں نہیں آرہا تھا جو اس کی موجودگی سے عبارت تھا۔ یہ نہیں کہ یہاں پر خدانخواستہ کوئی ادبی جمود پیدا ہو گیا تھا، سرگرمیاں جاری تھیں اور ہر ادبی تنظیم اپنے اپنے طور پر فعالیت کا مظاہرہ بھی کر رہی تھی، تاہم ان مجلسوں کے دوران جو جاندار قہقہے ابھرا کرتے تھے، ان میں نمایاں حصہ ناصرعلی سید ہی کا ہوتا تھا۔
*کیوں سنیں نہ گفتگو ہم بار بار؟*
*کھل رہے ہیں آگہی کے کتنے باب*
یہی وجہ تھی کہ ناصرعلی سید کی آمد پر حلقہ ارباب ذوق کے محولہ اجلاس میں ما سوائے اس منظوم کلام کے، جو انجینیئر عتیق الرحمن، محترمہ بشریٰ فرخ اور ڈاکٹر خادم ابراہیم نے، ناصر علی سید کی شخصیت کے مختلف پہلو اجاگر کرنے کے حوالے سے رقم کی تھی، باقی صرف اور صرف ناصر ہی کو بولنے کی دعوت دی گئی۔ اجلاس میں حاضری کے حوالے سے بس اتنا ہی کہہ دینا کافی ہے کہ ایسی تقاریب پشاور کی ادبی تاریخ میں کم کم ہی دیکھنے کو ملتی رہی ہیں۔ بقول بشریٰ فرخ
*وہی جو جگمگاتا سا ستارہ ہے پشاور کا*
*بھری دنیا میں علم و آگہی کی کہکشاں ٹھہرا*
*ہے اک صوفی منش انسان اس گلزار ہستی کا*
*کڑکتی دھوپ میں سب کے لیے ابر رواں ٹھہرا*
*کہ ناصر بھی، علی بھی، اور سید بھی ہے نام اس کا*
*اسے زیبا ہے یہ سادات کا جو ترجماں ٹھہرا*
اب کی بار ناصر علی سید نے اپنے ادبی سفر کے حوالے سے کچھ نئی باتیں بھی بتائیں، اور جہاں ادبی سرگرمیوں کا ذکر کیا یعنی امریکہ کے ادبی مراکز کا خاص طور پہ تذکرہ کیا، وہاں کینیڈا میں ادبی تقاریب کی روداد بھی بیان کر کے رفتار ادب سے حاضرین کو آگاہ کیا۔
کینیڈا میں جن حلقوں کی سرگرمیوں کو انہوں نے اجاگر کیا، وہاں پاکستان اور خصوصاً خیبر پختونخواہ کے شعرائے کرام کی فعالیت کا تذکرہ بھی کیا۔ جبکہ امریکہ میں نیویارک چونکہ بہت مدت سے ادبی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے اور جوہرمیر اور عتیق صدیقی جیسے اہل پشاور کی پر خلوص کوششوں سے وہاں ادب کے جو چراغ روشن ہوئے اب وہ نصف النہار پر اپنی جولانیاں اور تابناکیاں اجاگر کر رہے ہیں۔ تاہم دیگر شہروں میں جو نوجوان نسل ادبی اور سماجی سرگرمیوں مصروف ہیں، وہ ابھی ابتدائی مراحل سے گزر رہے ہیں جبکہ سماجی اور مذہبی حوالوں سے خصوصاً ڈینور جیسے دور افتادہ مقام پر، ناصر علی سید کے برخوردار افراز علی سید اور ان کے چند دوست مل کر جو کارنامے انجام دے رہے ہیں، ان کی وجہ سے وہاں ادبی، سماجی تقاریب مسلم کمیونٹی کے علاوہ دیگر نسلوں اور مذاہب کے لوگوں کے درمیان بھی ہم آپہنگی اور یکجہتی پیدا کر کے محبتیں اور امن و آشتی کے ماحول کو مضبوط سے مضبوط تر بنا رہے ہیں۔
افراز علی سید اور ان کے نوجوان ساتھیوں نے ڈینور میں ایک پرانے چرچ کو مسجد میں تبدیل کر کے رمضان کے مبارک مہینے میں نماز تراویح، اور افطاری کا اہتمام ایک روایت میں ڈھال دیا ہے۔ اسی طرح نماز جمعہ کے موقع پر بھی مسلمان جس مذہبی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ دیدنی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اب کی بار ناصر علی سید نے امریکہ میں پاکستانی کھابوں خصوصاً پشاور کے روایتی کھانوں کے بڑھتے ہوئے ہوٹلوں اور ریستورانوں کا ذکر کر کے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ ایک اور بات کی جانب توجہ دلاتے ہوئے انہوں نے کہا اگرچہ امریکہ وغیرہ میں رہنے والے پختون اپنی نئی نسل کو اپنی مادری زبان، پشتو سے رابطہ استوار رکھوانے میں خاصے سنجیدہ ہیں اور ان کے بچے دیگر عالمی زبانوں کے ساتھ ساتھ پشتو سے بھی باقاعدہ جڑے ہوئے ہیں، تاہم ہندکو بولنے والے جو خاندان وہاں آباد ہیں، ان کے بچوں کو ہندکو زبان سے کوئی خاص دلچسپی نہیں رہی اور وہ انگریزی تو فر فر بولتے ہیں لیکن ہندکو سے بالکل نابلد ہیں۔
ڈاکٹر خادم ابراہیم کے بقول
*پردیس میں بھی اس کے دل میں دیس بستا ہے*
*سخن کی محفلوں میں وہ خطیب رہتا ہے*
محفل تو اختتام پذیر ہوئی مگر سامعین کی تشنہ لبی برقرار رہی اور مزید ایسی محفلوں کی متقاضی ہے۔
![]()

