تاریخِ انسانی کا وہ عظیم خط جس نے انصاف کے نئے پیمانے طے کر دیے
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اہم عہدے پر فائز تھے جہاں وہ گورنر اور قاضی کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ روزمرہ کی بنیاد پر ان کی عدالت میں مختلف نوعیت کے مقدمات آتے تھے۔ کوئی شخص اپنے کسی حق کا دعویدار ہوتا، تو مدِ مقابل اس دعوے کو جھٹلا دیتا۔ کوئی اپنے حق میں گواہ پیش کرتا تو دوسرا قسمیں کھا کر اپنی سچائی کا یقین دلاتا۔ معاشرے میں سچ اور جھوٹ کے درمیان فیصلہ کرنا یقیناً ایک انتہائی کٹھن اور نازک فریضہ تھا۔
انہی حالات کے پیشِ نظر امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک مکتوب ارسال کیا۔ یہ محض چند نصائح کا مجموعہ نہیں تھا، بلکہ قضاء اور عدل و انصاف کا ایک ایسا بے مثال اور جامع آئین تھا جس نے نظامِ عدل کی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے روشن کر دیا۔
⚖️ عدالت کے کٹہرے میں امیر و غریب کی برابری
امیر المومنین نے اپنے پیغام کا آغاز اس بات سے کیا کہ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنا ایک لازمی فریضہ اور ایسی سنت ہے جس پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے سب سے پہلا اور بنیادی اصول یہ وضع کیا کہ جب دو فریق عدالت میں پیش ہوں، تو جج پر لازم ہے کہ وہ اپنے رویے، بیٹھنے کی جگہ، نظروں کے تبادلے اور گفتگو میں دونوں کے ساتھ یکساں سلوک کرے۔
ان کی تاکید تھی کہ دورانِ سماعت تمہاری توجہ اس قدر مساوی ہونی چاہیے کہ کوئی بااثر یا دولت مند شخص تمہاری جانب داری کی امید نہ رکھ سکے، اور کوئی غریب یا کمزور انسان تمہارے انصاف سے ناامید نہ ہو۔ قانون کی نگاہ میں اعلیٰ اور ادنیٰ کا کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔
📜 دعوے کا بوجھ اور قسم کا قانون
اس کے بعد انہوں نے تنازعات کو حل کرنے کا ایک اور سنہری قاعدہ بیان کیا کہ صرف زبانی جمع خرچ سے کوئی بات پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتی۔
قانون یہ مقرر کیا گیا کہ جو شخص کسی دوسرے پر کلیم یا دعویٰ کرے گا، تو ثبوت اور دلائل مہیا کرنا اسی کی ذمہ داری ہوگی، اور جو شخص اس دعوے سے انکاری ہوگا، تو اس کے ذمے قسم کھانا ہوگا۔
🤝 صلح صفائی کا راستہ اور اس کی حدود
اس شہرہ آفاق مکتوب میں مقدمات کو خوشگوار انداز میں سلجھانے کی بھی ترغیب دی گئی۔ آپ نے تحریر فرمایا کہ فریقین کے درمیان راضی نامہ اور صلح کروانا ایک بہترین عمل ہے، البتہ شرط یہ ہے کہ اس صلح کے نتیجے میں کوئی حرام چیز حلال، یا کوئی حلال چیز حرام نہ ہو جائے۔ یعنی شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے باہمی رضامندی سے معاملات کو سمیٹ لیا جائے تاکہ دلوں میں کوئی رنجش باقی نہ رہے
⏳ ثبوت لانے کی مہلت اور گواہی کی شرائط
کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ حق دار سچا ہوتا ہے مگر اس کے پاس موقع پر گواہ یا ثبوت نہیں ہوتے۔ خلیفہ دوم نے اس مسئلے کا بھی نہایت عمدہ حل نکالا۔ انہوں نے ہدایت دی کہ اگر کسی شخص کے ثبوت یا گواہ موجود نہ ہوں تو اسے ایک خاص وقت تک کی مہلت دی جائے۔ اگر وہ مقررہ مدت تک ثبوت لے آئے تو اس کا حق اسے دلا دیا جائے، بصورتِ دیگر مقدمہ ختم کر دیا جائے تاکہ فیصلہ لٹکا نہ رہے۔
اسی طرح گواہی کے حوالے سے اصول دیا کہ ہر مسلمان گواہی دینے کا اہل ہے، سوائے اس شخص کے جسے جھوٹی گواہی دینے پر سزا مل چکی ہو، یا جس پر جھوٹا الزام لگانے کی حد نافذ ہوئی ہو، یا پھر جس کے بارے میں اقربا پروری اور رشتے داری کی بناء پر واضح شک پایا جاتا ہو۔
🔄 سچائی کی جانب پلٹنا کمزوری نہیں بلکہ بہادری ہے
چونکہ قاضی بھی ایک انسان ہے، اس لیے اس سے بھی فیصلے میں چوک ہو سکتی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے واضح کیا کہ اگر تم نے گزشتہ روز کوئی فیصلہ سنایا ہو، اور آج مزید غور و فکر کے بعد تمہیں صحیح بات سمجھ آ جائے، تو وہ پرانا فیصلہ تمہیں سچائی کی طرف پلٹنے سے نہ روکے۔
آپ نے خوبصورت الفاظ میں فرمایا کہ حق ہمیشہ سے قائم ہے اور کوئی چیز اسے مٹا نہیں سکتی، لہٰذا باطل پر ڈٹے رہنے سے لاکھ درجے بہتر ہے کہ انسان سچائی کی طرف لوٹ آئے۔ فیصلہ کرنے والے کی انا کو سچ ماننے میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے کیونکہ اصل مقصد اپنی بات منوانا نہیں، بلکہ سچ کو غالب کرنا ہے۔
🧠 فہم و فراست اور معاملات کی گہرائی تک پہنچنا
آپ نے یہ بھی تاکید کی کہ کوئی بھی حتمی فیصلہ صادر کرنے سے پہلے معاملے کی تہہ تک پہنچو۔ بالخصوص وہ معاملات جو تمہارے دل میں الجھن پیدا کریں اور ان کا سیدھا جواب بظاہر قرآن و سنت کے احکامات میں نظر نہ آ رہا ہو۔
ایسے مواقع پر عجلت سے کام نہ لو، بلکہ اس جیسی سابقہ مثالوں اور ملتے جلتے فیصلوں کا باریک بینی سے جائزہ لو، اور پھر ان کو سامنے رکھتے ہوئے وہ فیصلہ کرو جو اللہ کی رضا کے سب سے زیادہ قریب ہو اور سچائی کا عکاس ہو۔
💎 اس عظیم پیغام کا نچوڑ اور ہماری عملی زندگی
اس پورے مکتوب کا سب سے جاندار اور اثر انگیز پیغام یہی ہے کہ حق اور سچ کو اپنی ذات، انا اور عزتِ نفس سے بلند رکھا جائے۔ جب انسان کوئی غلطی کر بیٹھتا ہے اور اس پر ہٹ دھرمی دکھاتا ہے، تو اس کے پیچھے یہی خوف ہوتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے کہ میں غلط ثابت ہو گیا۔ مگر جس کے دل میں خوفِ خدا ہو، اسے اپنی خامی تسلیم کرنے اور سچائی کے راستے پر واپس آنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی۔
حقیقت میں یہ خط ہم میں سے ہر ایک کے لیے زندگی گزارنے کا ایک سلیقہ ہے جو سکھاتا ہے کہ:
کسی نتیجے پر پہنچنے سے قبل پوری بات سنیں۔
کسی پر الزام دھرنے سے پہلے معاملے کی حقیقت جانیں۔
کسی بات پر اندھا یقین کرنے سے پہلے ثبوت مانگیں۔
اور جب آپ پر حق آشکار ہو جائے تو غرور و تکبر کو بالائے طاق رکھ دیں۔
اگر آپ نے اس معلوماتی اور خوبصورت تحریر کو آخر تک پڑھ لیا ہے تو ایک ایسا صدقہ جاریہ چھوڑ جائیں جو آپ کے لیے باعثِ ثواب ہو:
سبحان اللہ، الحمدللہ، استغفراللہ، لا الہ الا اللہ، اور اللہ اکبر کا ورد کریں، اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی ذاتِ مبارکہ پر درود و سلام کا نذرانہ پیش کریں۔
مستند حوالہ جات:
یہ تاریخی اور عظیم خط امام بیہقی کی السنن الکبریٰ، سنن الدارقطنی اور علامہ ابن القیم کی مشہور زمانہ کتاب اعلام الموقعین میں پوری سند اور حوالوں کے ساتھ موجود ہے۔
#history #islamicpost #viralpost #Sahaba #Umar
![]()

