Daily Roshni News

زیدی شیعہ اور اثناعشری شیعہ میں کیا فرق ہے؟

زیدی شیعہ اور اثناعشری شیعہ میں کیا فرق ہے؟

 ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جب سے یمن کی صورتِ حال پیشِ نظر ہے، پاکستان میں یہ بحث جاری ہے کہ یمن  کے شیعوں کی اکثریت(35 فیصد)، جو زیدی شیعہ کہلاتے ہیں، اور حوثی تحریک کے لوگ بھی اسی مسلک کے پیروکار ہیں، تو ان کا اثناعشری، یعنی جعفری فرقے سے کن امور میں اختلاف ہے؟ ان کے عقائد اور فروعی مسائل میں کیا فرق ہے؟

ہم دونوں فرقوں کے اکثریتی یا اجماعی موقف کو پیش کر رہے ہیں۔ علماء کے شاذ اقوال اور انفرادی آراء کو ان نکات میں شامل نہیں کیا گیا، بلکہ دونوں فرقوں کے متفق علیہ یا معروف موقف کو پیش کیا گیا ہے۔ ان شاء اللہ، اس سے آپ کی معلومات میں اضافہ ہوگا۔

زیدی شیعہ اور اثناعشری شیعہ میں کیا فرق ہے؟

1۔ کلمہ

زیدی شیعہ:

زیدی شیعوں کا کلمہ لا إله إلا الله محمد رسول الله ہے۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعوں کا کلمہ لا إله إلا الله محمد رسول الله علي ولي الله خليفة بلا فصل ہے۔

2۔ امام کی عصمت

زیدی شیعہ:

زیدی شیعوں کے مطابق اہل کساء کے علاوہ امام معصوم نہیں ہوتا۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعوں کے مطابق امام معصوم عن الخطأ ہوتا ہے۔

3۔ امامت کا سلسلہ

زیدی شیعہ:

زیدی شیعوں کے مطابق امامت کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا، اور ان کے پچھلے امام کا انتقال 2007ء میں ہوا۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعوں کے مطابق امامت بارہ ائمہ تک محدود ہے اور امام مہدی آخری امام ہیں۔

4۔ امام کا تقرر

زیدی شیعہ:

زیدی شیعوں کے ہاں امام منصوص من اللہ نہیں ہوتا، بلکہ صاحبِ اختیار، حسنی یا حسینی فاطمی، اپنے زمانے میں سب سے زیادہ دینی علم رکھنے والا اور امامت کی شرائط پوری کرنے والا شخص، بیعت کے بعد امام بن جاتا ہے۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعوں کے ہاں بارہ امام منصوص و منصوب من اللہ ہیں۔

5۔ نابالغ کی امامت

زیدی شیعہ:

زیدی شیعوں کے ہاں نابالغ بچہ امام نہیں بن سکتا؛ بلوغت شرط ہے۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعوں کے تین امام بلوغت کی عمر سے قبل ہی امام بنے تھے۔

6۔ اذان میں «أشهد أن علياً ولي الله»

زیدی شیعہ:

زیدی شیعہ اذان میں أشهد أن علياً ولي الله نہیں پڑھتے۔ ان کے نزدیک ایسا کرنا بدعت ہے۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعہ اذان میں أشهد أن علياً ولي الله پڑھتے ہیں۔

7۔ اذان کے آخر میں «لا إله إلا الله»

زیدی شیعہ:

زیدی شیعہ اذان کے آخر میں صرف ایک مرتبہ لا إله إلا الله پڑھتے ہیں۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعہ دو مرتبہ لا إله إلا الله پڑھتے ہیں۔

8۔ وضو میں پاؤں

زیدی شیعہ:

زیدی شیعہ وضو میں اہلِ سنت کی طرح دونوں پاؤں دھوتے ہیں۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعہ دونوں پاؤں پر مسح کرتے ہیں۔

9۔ پانچ وقت کی نماز

زیدی شیعہ:

زیدی شیعہ پانچوں نمازیں الگ الگ اوقات میں پڑھتے ہیں۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعہ جمع بین الصلاتین کی وجہ سے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کرکے پڑھتے ہیں۔

10۔ نماز کے آخر میں سلام

زیدی شیعہ:

زیدی شیعہ کی کتاب التجرید کے مطابق نماز کے آخر میں دونوں طرف سلام پھیرنا ضروری ہے، جس کے بغیر نماز مکمل نہیں ہوتی بلکہ ناقص رہتی ہے۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعہ کے ہاں نماز کے تسلیم کا طریقہ زیدیہ سے مختلف ہے۔

11۔ امام مہدی کی پیدائش

زیدی شیعہ:

زیدی شیعوں کے نزدیک امام مہدی ابھی پیدا نہیں ہوئے؛ وہ قیامت کے قریب پیدا ہوں گے اور ممکنہ طور پر امام حسن بن علی ع کی نسل سے ہوں گے۔ ان کے مطابق امام حسن عسکری علیہ السلام کا کوئی بیٹا نہیں تھا اور وہ لاولد فوت ہوئے۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعوں کے مطابق امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند پیدا ہوچکے ہیں اور وہی امام مہدی ہیں۔

12۔ غیبت و رجعتِ امام مہدی

زیدی شیعہ:

زیدی شیعوں کے مطابق امام مہدی، فرزندِ امام حسن عسکری، غائب نہیں ہیں؛ اس لیے ان کی غیبت، رجعت اور ظہور کا یہ تصور درست نہیں۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعہ امام مہدی کی غیبت اور رجعت کے عقیدے کے قائل ہیں۔

13۔ مرتکبِ کبیرہ

زیدی شیعہ:

زیدی شیعوں کے مطابق جو شخص گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کرے اور توبہ کیے بغیر مر جائے، وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رہے گا اور وہاں سے چھٹکارا حاصل نہیں کرے گا۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعہ کا موقف اس سے مختلف ہے۔

14۔ رسول اللہ ﷺ کی بیٹیاں

زیدی شیعہ:

زیدی شیعوں کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کی چار حقیقی بیٹیاں تھیں، البتہ حضرت فاطمہ علیہا السلام ان چاروں میں سب سے افضل تھیں۔

اثناعشری شیعہ:

اکثر اثناعشری شیعہ صرف حضرت فاطمہ علیہا السلام کو رسول اللہ ﷺ کی حقیقی اور اکلوتی بیٹی مانتے ہیں۔ تاہم اس مسئلے میں اثناعشری علماء کے درمیان اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔

15۔ حضرت عثمان کا رسول اللہ ﷺ سے دامادی کا تعلق

زیدی شیعہ:

زیدی شیعوں کے مطابق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے حقیقی داماد تھے، جن کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے اپنی دو بیٹیوں کی شادی کی۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعوں کے مطابق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے حقیقی داماد نہیں تھے۔

16۔ حاضر و ناظر

زیدی شیعہ:

زیدی شیعوں کے مطابق ائمہ اور رسول اللہ ﷺ حاضر و ناظر نہیں ہیں؛ یہ صرف اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعوں میں، معدودے چند کو چھوڑ کر، ائمہ اور رسول اللہ ﷺ کے حاضر و ناظر ہونے کا عقیدہ پایا جاتا ہے۔

17۔ علمِ غیب

زیدی شیعہ:

زیدی شیعوں کے نزدیک علمِ غیب صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے۔ ائمہ علیہم السلام اور رسول اللہ ﷺ کے لیے علمِ غیب ماننا ان کے نزدیک مشبہ کا عقیدہ ہے، اور ایسا کہنے والا فاسق ہے۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعوں میں، چند ایک کو چھوڑ کر، اکثر ائمہ کے لیے ما کان وما یکون یعنی ماضی و مستقبل کے امور کے علومِ غیب کے قائل ہیں۔

18۔ نکاحِ متعہ

زیدی شیعہ:

زیدی شیعوں کے نزدیک نکاحِ متعہ اور نکاحِ سری حرام اور زنا کے حکم میں ہے۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعوں کے ہاں نکاحِ متعہ جائز ہے۔

19۔ ولایتِ تکوینی

زیدی شیعہ:

زیدی شیعہ ائمہ کے لیے ولایتِ تکوینی کے قائل نہیں ہیں۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعوں میں اکثر ولایتِ تکوینی کے عقیدے کے قائل ہیں۔

20۔ رسول اللہ ﷺ کا سایہ

زیدی شیعہ:

زیدی شیعوں کے ہاں رسول اللہ ﷺ کے سایہ نہ ہونے کے متعلق کوئی روایت نہیں؛ اس لیے رسول اللہ ﷺ کے متعلق سایہ نہ ہونے کا کوئی عقیدہ یا تصور زیدی شیعہ مذہب میں نہیں ہے۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعوں میں، معدودے چند کو چھوڑ کر، رسول اللہ ﷺ کو نور ماننے اور آپ کا سایہ نہ ہونے کا عقیدہ پایا جاتا ہے۔

21۔ خمس

زیدی شیعہ:

زیدی شیعوں کے ہاں خمس مکاسب سے متعلق نہیں بلکہ مالِ غنیمت سے متعلق ہے۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعہ عوام خمس ادا کرتے ہیں۔

22۔ سجدہ گاہ یا تربت

زیدی شیعہ:

زیدی شیعہ نماز کے لیے سجدہ گاہ یا تربت نہیں رکھتے۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعہ سجدہ گاہ یا تربتِ حسینی رکھتے ہیں۔

23۔ ماتم، زنجیر زنی اور قمہ زنی

زیدی شیعہ:

زیدی شیعہ ماتم، زنجیر زنی اور قمہ زنی نہیں کرتے۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعوں میں یہ اعمال بعض حلقوں میں رائج ہیں۔

24۔ سیرتِ حسینی اور عزاداری

زیدی شیعہ:

زیدی شیعہ سیرتِ حسینی علیہ السلام کو بیان کرتے ہوئے اپنے وقت کے ہر یزید کے خلاف عملی جدوجہد اور خروج کرتے ہیں۔ مراسمِ عزاداری، علم، تابوت اور ذوالجناح کا تصور ان کے ہاں نہیں ہے۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعوں کے ہاں شعائرِ حسینی اور اعمالِ شبیہ کے نام سے یہ سب امور رائج ہیں۔

25۔ اہلِ سنت کے پیچھے نماز

زیدی شیعہ:

زیدی شیعہ دوسرے مسلمان فرقوں کے پیچھے بغیر کسی تقیہ کے نماز ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یمن کی اکثر مساجد کے متعلق یہ معلوم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ کس فرقے کے زیرِ اثر ہیں۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعوں کے ہاں تقیہ کرتے ہوئے فرادیٰ کی نیت سے اہلِ سنت وغیرہ کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔

26۔ ایک دوسرے کے متعلق موقف

زیدی شیعہ:

زیدی شیعوں کے نزدیک اثناعشری شیعہ بہت سے گمراہ اور باطل عقائد و افکار رکھتے ہیں، جن کے رد میں اکثر زیدی علماء و ائمہ نے «الرد علی الروافض» یعنی ’’رافضیوں کا رد‘‘ کے نام سے کتب لکھی ہیں۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعوں کے نزدیک زیدی شیعہ بھی ناصبی اور دشمنانِ اہلِ بیت ہیں، کیونکہ ان کے بعض علماء کے مطابق جو شخص اثناعشری ائمہ میں سے کسی ایک امام کا انکار کرے، وہ ناصبی اور کافر ہے۔ دنیا میں اس پر اسلام کے احکام ظاہراً نافذ ہوں گے، لیکن آخرت میں جہنمی اور کافروں کے ساتھ محشور ہوگا۔ شیخ مفید نے بھی زیدیوں کے متعلق اسی طرح کی رائے بیان کی ہے۔

27۔ عاشورا کا روزہ

زیدی شیعہ:

زیدی شیعوں کے نزدیک عاشورا کا روزہ سنتِ اہلِ بیت علیہم السلام اور سنتِ رسول اللہ ﷺ ہے۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعوں کے نزدیک عاشورا کا روزہ سنتِ بنی امیہ ہے۔

28۔ حضرت فاطمہؓ کے گھر کا واقعہ اور سقطِ محسن

زیدی شیعہ:

زیدی شیعوں کے نزدیک حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کو جلانے اور سقطِ محسن کا واقعہ درست نہیں ہے۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعوں کی اکثریت، چند ایک کے سوا، واقعۂ ہجوم، گھر جلانے اور سقطِ محسن کو درست مانتی ہے۔

29۔ سبّ و شتم اور لعن

زیدی شیعہ:

زیدی شیعوں کے نزدیک سبّ و شتم اور لعن اہلِ بیت علیہم السلام کی سیرت اور تعلیمات کے خلاف ہیں۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعوں کے ہاں سبّ و شتم اور لعن کو جائز سمجھا جاتا ہے، اور لعنت پر مشتمل زیارتِ عاشورا اور دعائے صنمی قریش اکثر مجالس و محافل کا حصہ ہیں۔ چند علماء جو ان زیارات اور لعن کا انکار کرتے ہیں، انہیں مقصر، بتری، ضال اور مضل جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے۔

30۔ خلفائے ثلاثہ کے متعلق موقف

زیدی شیعہ:

خلفائے ثلاثہ، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے متعلق اکثر زیدی شیعہ وقوف کے قائل ہیں؛ یعنی نہ سبّ و شتم، لعن و تبرا کرتے ہیں اور نہ ہی رضی اللہ عنہ کہنے کے قائل ہیں۔ تاہم شروع سے اب تک ایک کم تعداد میں زیدی شیعہ ترضیہ، یعنی ان خلفائے ثلاثہ سے رضامندی اور ان کے لیے رضی اللہ عنہ کہنے کے قائل بھی رہے ہیں۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعوں کے ہاں ان دونوں موقف، یعنی ترضیہ اور وقوف، کے بجائے تبرا، لعن اور سبّ و شتم کا کلچر پایا جاتا ہے۔

31۔ وسیلہ اور «یا علی مدد»

زیدی شیعہ:

زیدی شیعوں کے نزدیک ائمہ اور رسول اللہ ﷺ کو وسیلہ بنانا جائز ہے۔ اسی طرح انہیں صرف یا رسول یا یا علی پکارنا شرک نہیں۔ لیکن ان سے کچھ مانگنے کی نیت یا ان سے مخاطب ہو کر حاجت مانگنا، مثلاً یا علی مدد کہنا یا نادِ علی پڑھنا اور براہِ راست ان سے مانگنا، ان کے نزدیک شرک باللہ ہے۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعوں کے ہاں یا علی مدد، نادِ علی وغیرہ رائج ہیں۔

32۔ انبیاء اور ائمہ کی فضیلت

زیدی شیعہ:

زیدی شیعوں کے نزدیک انبیاء علیہم السلام، ائمہ علیہم السلام اور حضرت فاطمہ علیہا السلام سے افضل ہیں۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعوں میں آج کے دور میں ائمہ علیہم السلام کو انبیاء علیہم السلام سے افضل سمجھنے والا طبقہ بھی موجود ہے، اگرچہ قدیم دور میں ایک قلیل تعداد اثناعشری علماء کی ایسی تھی جو انبیاء علیہم السلام کو ائمہ علیہم السلام سے افضل سمجھتی تھی۔

33۔ بنیادی کتب

زیدی شیعہ:

زیدی شیعوں کی بنیادی کتاب مسند امام زید علیہ السلام ہے۔ اس کے علاوہ امالی امام احمد بن عیسیٰ، امالی ابوطالب، امالی مرشد باللہ بھی زیدی شیعہ کی بنیادی کتب میں شمار ہوتی ہیں۔

اثناعشری شیعہ:

الکافی، الاستبصار، من لا یحضره الفقیه، تہذیب اور بحارالأنوار وغیرہ اثناعشری شیعہ کی معروف کتب ہیں۔

34۔ امام ابو حنیفہ اور امام مالک

زیدی شیعہ:

زیدی شیعوں کے نزدیک اہلِ سنت کے ائمۂ اربعہ، بالخصوص امام مالک اور امام ابوحنیفہ، جو امام زید علیہ السلام کے شاگرد تھے، محبِ اہلِ بیت تھے۔ زیدی روایات کے مطابق امام ابوحنیفہ نے امام زید علیہ السلام کی جہاد و معاونت کے لیے 900 درہم بھیجے۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعوں کے ہاں ابوحنیفہ کو دشمنِ اہلِ بیت قرار دینے والی روایات موجود ہیں، جن میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی طرف سے ان پر لعنت منسوب کی گئی ہے۔

35۔ غروبِ آفتاب اور افطار

زیدی شیعہ:

زیدی شیعہ غروبِ آفتاب کے بعد فاصلۂ احتیاطی کے قائل نہیں، بلکہ غروب کے ساتھ ہی اذان اور افطار کرتے ہیں۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعوں کی اکثریت فاصلۂ احتیاطی کی قائل ہے، اگرچہ چند مجتہدین اس کے قائل نہیں ہیں۔

36۔ تبرا کا مفہوم

زیدی شیعہ:

زیدی شیعوں کے نزدیک تبرا کا مطلب زبان سے کسی کو سبّ و شتم کرنا نہیں، بلکہ عمل کے ذریعے براءت اور لاتعلقی ظاہر کرنا ہے۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعوں میں زبانی تبرا اور سبّ و شتم بھی پایا جاتا ہے۔

37۔ نکاح میں گواہ اور اعلان

زیدی شیعہ:

زیدی شیعوں کے ہاں نکاح کے لیے دو گواہ اور اعلان شرط ہیں۔

اثناعشری شیعہ:

متعہ، جو اثناعشری شیعوں کے ہاں مروج ہے، اس میں یہ شرائط موجود نہیں ہیں۔

38۔ امام مہدی کا نسب

زیدی شیعہ:

زیدی شیعوں کے مطابق امام مہدی امام حسن علیہ السلام یا امام حسین علیہ السلام کی اولاد سے ہوں گے۔ یہ امر اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے۔ ان کے مطابق امام حسن عسکری علیہ السلام لاولد فوت ہوئے۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعوں کے مطابق امام مہدی امام حسین علیہ السلام کی اولاد میں پیدا ہوچکے ہیں اور وہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ہیں۔

39۔ اصحابِ رسول ﷺ کے متعلق موقف

زیدی شیعہ:

زیدی شیعوں کے مطابق اصحابِ رسول ﷺ سے بڑی بڑی غلطیاں ہوئیں، لیکن انہیں مرتد اور خارج از اسلام قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس لیے چند اشخاص کے علاوہ باقی اصحاب کے متعلق ترضیہ اور توقف، دونوں موقف موجود ہیں۔ انصار و مہاجرین کی ابتدائی دورِ اسلام کی قربانیاں مسلم ہیں، اگرچہ ان سے بعض بڑی غلطیاں بھی ہوئیں۔ تاہم مولا علی علیہ السلام نے ان کے متعلق جو رویہ اختیار کیا، اس کی پیروی لازمی ہے۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعوں کے مطابق اصحاب میں سے اکثر، چند اشخاص کے سوا، منافق تھے اور رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد مرتد ہوگئے تھے، نیز شروع ہی سے مخلص نہیں تھے۔

40۔ جغرافیائی اور علمی مراکز

زیدی شیعہ:

زیدی شیعوں کی اکثریت یمن میں، پھر سعودی عرب اور اس کے بعد عمان و افریقہ میں پائی جاتی ہے۔ ان کا اہم علمی مرکز یمن ہے۔

اثناعشری شیعہ:

اثناعشری شیعوں کی اکثریت ایران میں، پھر عراق، لبنان وغیرہ میں پائی جاتی ہے، جبکہ ان کے اہم علمی مراکز نجف اور قم ہیں۔

یہ کل 40 فرق ہیں جو اثناعشری اور زیدی شیعہ کے درمیان بیان کیے گئے ہیں، اور اسی کے ساتھ ہمارا یہ آرٹیکل اختتام پذیر ہوتا ہے۔

اگرچہ دونوں کے درمیان اس سے بھی زیادہ اختلافات موجود ہیں، لیکن بیان کیے گئے یہ نکات کسی حد تک دونوں مکاتبِ فکر کے فرق کو سمجھنے کے لیے کافی ہیں۔

والسلام

Loading