“سورج اور چاند ایک حساب کے ساتھ ہیں” — آسمانی نظام اتنا باقاعدہ کیوں ہے؟
تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی )ہم روزانہ صبح اپنی کھڑکی سے سورج کو مشرق سے طلوع ہوتے دیکھتے ہیں اور شام کو وہ اپنی منزل پر غروب ہو جاتا ہے۔ رات کو چاند کبھی باریک ہلال بن کر مسکراتا ہے، پھر روز بروز بڑھتے ہوئے چودھویں کی رات مکمل بدر بن کر جلوہ گر ہوتا ہے، اور پھر بتدریج گھٹتے گھٹتے غائب ہو جاتا ہے۔ ہم انسان چونکہ صدیوں سے اس معمول کو دیکھنے کے عادی ہیں، اس لیے اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ اس خاموش اور روزمرہ گردش کے پسِ پردہ کس قدر محیر العقول، قطعی اور حسابی نظم کارفرما ہے۔
قرآنِ مجید نے اس وسیع فلکیاتی نظام کو محض تین پرشکوہ الفاظ میں سمیٹ کر رکھ دیا ہے:
﴿الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ﴾
ترجمہ: “سورج اور چاند ایک مقررہ حساب کے پابند ہیں۔”
حوالہ: سورۃ الرحمن، آیت نمبر 5
ایک دوسرے مقام پر اس حسابی گردش کے انسانی زندگی پر عملی اثرات کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:
﴿هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ ۚ مَا خَلَقَ اللَّهُ ذَٰلِكَ إِلَّا بِالْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ﴾
ترجمہ: “وہی ہے جس نے سورج کو چمکدار بنایا اور چاند کو روشن کیا، اور اس کے لیے منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب جان سکو۔ اللہ نے یہ سب کچھ برحق ہی پیدا کیا ہے، وہ جاننے والوں کے لیے اپنی نشانیاں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے۔”
حوالہ: سورۃ یونس، آیت نمبر 5
جدید فلکیات (Astronomy) اور کائناتی طبیعیات (Astrophysics) نے آج سیکنڈ کے ہزارویں حصے تک یہ ثابت کر دیا ہے کہ زمین، چاند اور سورج کا یہ تکون اس قدر باریک حسابی توازن پر استوار ہے کہ انسان ہزاروں سال پہلے اور صدیوں بعد کے فلکیاتی واقعات کا جدول پہلے سے تیار کر سکتا ہے۔
“بِحُسْبَانٍ” کی لسانی وسعت اور تفسیری مفاہیم
عربی زبان میں مادۂ “ح س ب” اندازے، ناپ تول، تخمینے اور ریاضیاتی ضابطے کے مفہوم کو ظاہر کرتا ہے۔ کلامِ مجید میں “بِحُسْبَانٍ” کی یہ تنوین اس حساب کی عظمت اور بے عیب ہونے کی دلیل ہے۔
امام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری نے اپنی تفسیر میں سیدنا عبداللہ بن عباس کا مستند قول نقل فرمایا ہے: “يجريان بعدد وحساب” یعنی سورج اور چاند اپنے مقررہ عدد اور ریاضیاتی پیمانے کے مطابق گردش کرتے ہیں۔ امام طبری نے اس معنی کو ترجیح دی کہ یہ دونوں اجرامِ فلکی اپنے مداروں اور منازل کے اندر اس طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ اپنے طے شدہ راستے سے بال برابر بھی تجاوز نہیں کر سکتے۔
اسی طرح امام ابو عبد اللہ القرطبی نے لکھا کہ ان دونوں کا فلک میں تیرنا ایک معلوم اور قطعی حساب کے ماتحت ہے، اور انہی کی گردش سے دن، رات، مہینے اور سال کے پیمانے انسان کے لیے ممکن بنائے گئے ہیں۔ قرآن نے محض ان کے وجود کا ذکر نہیں کیا بلکہ ان کے ریاستی نظم (Order) کو الٰہی نشانی قرار دیا۔
زمین کا چکر اور دن کا حساب
ہمیں آسمان پر سورج سفر کرتا دکھائی دیتا ہے، مگر جدید سائنس بتاتی ہے کہ یہ دراصل زمین کا اپنے محور پر لٹو کی طرح گھومنا ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا (NASA) کے مطابق زمین اپنے محور پر ایک چکر تقریباً 23 گھنٹے 56 منٹ اور 4 سیکنڈ (یعنی لگ بھگ 23.9 گھنٹے) میں مکمل کرتی ہے۔
ہماری گھڑیوں کا 24 گھنٹے کا پیمانہ اسی گردش کا نام ہے۔ زمین کی اس گردش میں رفتار کی معمولی سی بھی بے ترتیبی موسموں، ہواؤں اور سمندری لہروں میں قیامت برپا کر سکتی ہے، مگر اربوں سال سے یہ حسابی لٹو ایک مقررہ رفتار پر گردش کر رہا ہے۔
زمین کا سالانہ مدار — 365.25 دن کا باریک توازن
زمین صرف اپنے محور پر نہیں گھومتی بلکہ وہ سورج کے گرد بھی محوِ پرواز ہے۔ ناسا کے فلکیاتی ڈیٹا کے مطابق سورج کے گرد زمین کا ایک مداری چکر 365 دن، 5 گھنٹے، 48 منٹ اور 45 سیکنڈ (تقریباً 365.25 دن) میں مکمل ہوتا ہے۔
یہی کسر وہ وجہ ہے کہ ہمیں ہر چار سال بعد اپنے تقویمی نظام میں فروری کے مہینے میں ایک اضافی دن جوڑ کر لیپ سال (Leap Year) بنانا پڑتا ہے تاکہ ہمارا نظامِ اوقات آسمانی گھڑی کے ساتھ مطابقت رکھے۔ اگر یہ آسمانی حساب ذرا سا بھی آگے پیچھے ہو جاتا تو انسانی کیلنڈر اور فصلوں کی کاشت کے اوقات چند ہی دہائیوں میں تلپٹ ہو جاتے۔
چاند کی منزلیں اور سائیڈریل بمقابلہ سائینوڈک مہینہ
سورۃ یونس کی آیت میں چاند کے متعلق فرمایا گیا: ﴿وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ﴾ یعنی ہم نے اس کے لیے منزلیں مقرر کیں۔ زمین سے مشاہدہ کرنے پر چاند کا ہر رات ایک نیا چہرہ سامنے آتا ہے، جسے فلکیات میں چاند کے مراحل (Phases of the Moon) کہا جاتا ہے۔
یہاں جدید فلکیات کا ایک انتہائی لطیف حسابی نکتہ سامنے آتا ہے:
سائیڈریل مہینہ (Sidereal Month): چاند زمین کے گرد اپنا ایک مکمل جغرافیائی چکر 27.3 دن میں پورا کرتا ہے۔
سائینوڈک مہینہ (Synodic Month): لیکن جب چاند یہ چکر لگا رہا ہوتا ہے تو اسی دوران زمین بھی سورج کے گرد آگے بڑھ چکی ہوتی ہے۔ اس لیے چاند کو دوبارہ سورج، زمین اور اپنے زاویے کی وہی نسبت پانے کے لیے تقریباً دو دن مزید سفر کرنا پڑتا ہے۔
نتیجتاً، ایک نئے چاند سے اگلے نئے چاند کا درمیانی وقفہ ٹھیک 29.5 دن بنتا ہے۔ چاند کی یہی وہ فلکیاتی منزلیں ہیں جن سے قمری مہینہ تشکیل پاتا ہے اور جس کے ذریعے اسلامی عبادات اور انسانی تاریخ کے ادوار کا تعین ہوتا ہے۔ قرآن نے چاند کی منازل اور سالوں کے حساب کو جوڑ کر اسی دقیق ریاضیاتی حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے۔
“ضياء” اور “نور” کا فرق — جدید بصری حقیقت
سورۃ یونس کی اسی آیت میں ایک اور گہرا سائنسی و لسانی پہلو موجود ہے:
سورج کے لیے ﴿ضِيَاءً﴾ (تیز، ذاتی اور دہکتی ہوئی روشنی) اور چاند کے لیے ﴿نُورًا﴾ (ٹھنڈی، پرسکون اور روشن تجلی) کا لفظ چنا گیا۔
جدید فلکیات گواہی دیتی ہے کہ سورج ایک ایٹمی بھٹی ہے جو اپنے اندرونی نیوکلیئر فیوژن سے اپنی روشنی خود پیدا کرتا ہے، اس لیے وہ بذاتِ خود روشن چراغ (ضیاء) ہے۔ اس کے برعکس چاند کا اپنا کوئی چراغ نہیں ہے، وہ ایک ٹھوس چٹان ہے جس کی سطح سورج سے آنے والی روشنی کو ایک آئینے کی طرح منعکس (Reflect) کر کے زمین کی طرف بھیجتی ہے۔ اگرچہ ہم قرآن کو فزکس کی لغت بنانے سے گریز کرتے ہیں، مگر سورج اور چاند کی روشنی کی طبعی حقیقت کے لیے مختلف الفاظ کا یہ الہامی چناؤ بلا شبہ تفکر کی ایک درخشاں کھڑکی کھولتا ہے۔
قوانینِ فطرت کا جکڑاؤ اور گرہنوں کی پیش گوئی
فلکیات بتاتی ہے کہ آسمان کے اجرام کسی خلا میں اندھا دھند نہیں تیر رہے، بلکہ کششِ ثقل (Gravity)، کمیت (Mass)، گردشی رفتار اور بیضوی مداروں (Elliptical Orbits) کے ایسے اٹل قوانین میں بندھے ہیں جنہیں ریاضی کے مساواتوں سے ناپا جا سکتا ہے۔
اسی حسابی پابندی کا نتیجہ ہے کہ سائنس دان بغیر کسی غلطی کے یہ پہلے سے حساب لگا لیتے ہیں کہ:
آئندہ سو سال بعد کس تاریخ اور کس منٹ پر سورج گرہن یا چاند گرہن واقع ہوگا۔
گرہن کا سایہ زمین کے کس مخصوص شہر پر کتنے سیکنڈ تک رہے گا۔
خلا میں بھیجے جانے والے خلائی جہازوں کو مشتری یا مریخ تک پہنچانے کے لیے چاند اور سیاروں کی کشش کو کس حسابی لمحے میں استعمال کرنا ہوگا۔
اگر کائنات میں “حسبان” یعنی حسابی توازن نہ ہوتا، بلکہ یہ محض تصادف کا کھیل ہوتی، تو یہ پیش گوئیاں ممکن نہ ہوتیں۔
حاصلِ کلام
قرآنِ مجید نے زمین، سورج اور چاند کی حرکت کے لیے نہ تو کوئی تکنیکی فارمولا لکھا اور نہ ہی اس کا مقصد دورانیوں کے اعشاریائی اعداد سکھانا تھا، بلکہ اس کا اصل مدعا انسان کو کائنات کے پیچھے موجود ایک عظیم ریاضی دان، قادرِ مطلق اور حکیم پروردگار کے وجود سے باخبر کرنا تھا۔
جدید سائنس جوں جوں زمین کے 23.9 گھنٹوں، شمسی سال کے 365.25 دنوں، اور چاند کے 29.5 دنوں کی پیمائش کرتی جا رہی ہے، توں توں قرآنِ مجید کے ان تین الفاظ ﴿الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ﴾ کی عظمت دل و دماغ پر مسلط ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہ آسمانی گھڑی محض وقت بتانے کا اوزار نہیں ہے، بلکہ یہ اس کائناتی نظم کی منادی کر رہی ہے جس کے پیچھے ایک علیم و خبیر خالق کی کاریگری رواں دواں ہے۔
#قرآن_اور_سائنس #سورج #چاند #فلکیات #حسبان #نظام_شمسی #تدبر_قرآن #طارق_اقبال_سوہدروی
حوالہ: القرآن الكريم، سورۃ الرحمن، آیت نمبر 5
حوالہ: القرآن الكريم، سورۃ یونس، آیت نمبر 5
حوالہ: جامع البيان فی تاويل القرآن، امام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری، سورۃ الرحمن و سورۃ یونس
حوالہ: الجامع لاحكام القرآن، امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد القرطبی، سورۃ الرحمن
حوالہ: تفسير القرآن العظيم، عماد الدين اسماعيل بن كثير، سورۃ یونس
حوالہ: سائنسی ڈیٹا، امریکی خلائی ادارہ ناسا سائنس (NASA Science) — زمین کی محوری گردش اور سالانہ مدار
حوالہ: فلکیاتی گائیڈ، ناسا مون سائنس — چاند کے مدار، منازل اور منعکس شدہ روشنی کا نظام
![]()

