Daily Roshni News

🎙️ ملکۂ ترنم نور جہاں

🎙️ ملکۂ ترنم نور جہاں

وہ آواز جو ایک عہد کی پہچان بن گئی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )پاکستانی موسیقی کی تاریخ میں چند آوازیں ایسی ہیں جو محض گیت نہیں گاتیں بلکہ اپنے ساتھ ایک پورا عہد لے کر چلتی ہیں۔ نور جہاں بھی ایسی ہی ایک غیر معمولی فنکارہ تھیں۔ ان کا اصل نام اللہ وسائی تھا اور وہ 1926ء میں قصور کے ایک موسیقار گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ بعد میں یہی بچی برصغیر کی معروف گلوکارہ، اداکارہ اور پاکستانی موسیقی کی تاریخ کی سب سے نمایاں آوازوں میں شمار ہوئی اور انہیں ملکۂ ترنم کا خطاب ملا۔

🌸 قصور سے کلکتہ تک، بچپن ہی میں فن کا آغاز

نور جہاں نے موسیقی کی دنیا میں قدم انتہائی کم عمری میں رکھا۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق انہوں نے تقریباً نو برس کی عمر میں کلکتہ میں بطور چائلڈ سنگر اپنے فنی سفر کا آغاز کیا۔ ان کی ابتدائی تربیت نے آگے چل کر ان کی گائیکی کو وہ مضبوط بنیاد فراہم کی جس نے انہیں برصغیر کے بڑے موسیقی کے ناموں میں شامل کر دیا۔

ان کا ابتدائی فنی سفر کلکتہ، لاہور اور بعد ازاں بمبئی تک پھیلا۔ وہ کم عمری میں فلموں میں اداکاری بھی کرنے لگیں۔ پِنڈ دی کڑی 1935ء میں ان کی ابتدائی فلموں میں شامل تھی، جبکہ 1942ء کی خاندان میں انہوں نے پہلی مرتبہ مرکزی ہیروئن کا کردار ادا کیا۔ بعد میں وہ بمبئی منتقل ہوئیں اور برصغیر کی فلمی دنیا میں اپنی شناخت مزید مضبوط کی۔

🎬 اداکارہ سے گلوکارہ تک ایک منفرد سفر

نور جہاں کا کمال یہ تھا کہ وہ صرف ایک اداکارہ نہیں تھیں۔ ان کی آواز نے انہیں ایک الگ مقام عطا کیا۔ وہ اداکاری کے ساتھ گلوکاری میں بھی مسلسل آگے بڑھتی رہیں۔

تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان آگئیں اور لاہور کی نئی تشکیل پاتی ہوئی فلمی صنعت سے وابستہ ہوئیں۔ ان کی پہلی پاکستانی فلم چن وے 1951ء میں ریلیز ہوئی، جس میں انہوں نے اداکاری کے ساتھ ہدایت کاری میں بھی حصہ لیا۔ ڈان کے مطابق چن وے پاکستانی فلمی تاریخ میں کسی خاتون کی ہدایت کاری کی ابتدائی اور اہم مثال تھی۔

اس کے بعد دوپٹہ، انتظار، کوئل، باجی، مرزا غالب سمیت متعدد فلموں اور ان کے گیتوں نے پاکستانی فلمی موسیقی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔

🎶 “چاندنی راتیں” سے فلمی موسیقی کے سنہری دور تک

نور جہاں کی آواز میں ایک خاص کشش تھی۔ وہ ایک ہی وقت میں غم، محبت، خوشی، شوخی، درد اور جذباتی شدت کو آواز دے سکتی تھیں۔

فلم دوپٹہ کے گیت “چاندنی راتیں” کو پاکستانی فلمی موسیقی کے یادگار گیتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی آواز میں گائے گئے متعدد گیت آج بھی کلاسیکی پاکستانی موسیقی کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

موسیقاروں کی ایک پوری نسل کے ساتھ ان کی شاندار شراکت رہی۔ خصوصاً خُرشیِد انور کے ساتھ ان کا کام پاکستانی فلمی موسیقی کے سنہری دور کی نمایاں مثال سمجھا جاتا ہے۔ کوئل اور دیگر فلموں کے گیتوں میں اس جوڑی نے کلاسیکی موسیقی کے رنگ کو مقبول فلمی موسیقی کے ساتھ کامیابی سے جوڑا۔

🇵🇰 1965ء کی جنگ اور ملی نغموں کی طاقت

نور جہاں کے فنی سفر کا ایک انتہائی اہم باب 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران سامنے آیا۔

اس دور میں ان کی آواز میں ریکارڈ ہونے والے ملی نغموں نے عوام اور فوجی جوانوں کے حوصلے بلند کرنے میں نمایاں ثقافتی کردار ادا کیا۔ ریڈیو پاکستان بھی تسلیم کرتا ہے کہ جنگ کے دوران نور جہاں کی آواز نے فوج اور عوام میں جذبہ پیدا کیا۔

یہی وجہ ہے کہ نور جہاں کی شناخت صرف فلمی گلوکارہ تک محدود نہیں رہی بلکہ ان کی آواز پاکستان کی قومی و ثقافتی یادداشت کا حصہ بن گئی۔

🏆 اعزازات اور قومی اعتراف

نور جہاں کی غیر معمولی فنی خدمات کو سرکاری اور ادبی سطح پر متعدد اعزازات کے ذریعے تسلیم کیا گیا۔ 1957ء میں انہیں اداکاری اور گلوکاری کے لیے صدارتی ایوارڈ دیا گیا۔ بعد ازاں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس، تمغۂ امتیاز، ستارۂ امتیاز اور دیگر اعزازات سے بھی نوازا گیا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق انہوں نے اردو، پنجابی، سندھی اور دیگر زبانوں میں تقریباً 10 ہزار گیت ریکارڈ کیے۔

🌟 صرف گلوکارہ نہیں، ایک مکمل فنکارہ

نور جہاں کی اہمیت صرف اس بات میں نہیں کہ انہوں نے ہزاروں گیت گائے۔ ان کا اصل مقام اس حقیقت میں ہے کہ انہوں نے برصغیر کے بدلتے ہوئے ثقافتی منظرنامے کے ساتھ خود کو ڈھالا اور کئی دہائیوں تک اپنی مقبولیت برقرار رکھی۔

وہ چائلڈ اسٹار، اداکارہ، گلوکارہ اور فلم ساز کے طور پر مختلف ادوار سے گزریں۔ ان کا فنی سفر برطانوی ہندوستان کی فلمی صنعت سے شروع ہوا، تقسیمِ ہند کے تجربے سے گزرا اور پھر پاکستان کی ابتدائی فلمی صنعت کے ارتقا کے ساتھ آگے بڑھا۔

🕯️ 23 دسمبر 2000ء: ایک عظیم آواز خاموش ہوگئی

نور جہاں کا انتقال 23 دسمبر 2000ء کو کراچی میں ہوا اور انہیں کراچی ہی میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کے انتقال کو کئی برس گزر چکے ہیں، لیکن ان کی آواز آج بھی پاکستان کے گھروں، ریڈیو، ٹیلی ویژن، فلمی موسیقی اور محفلوں میں سنائی دیتی ہے۔

ان کی زندگی ہمیں یہ بتاتی ہے کہ حقیقی فنکار صرف اپنے زمانے کے لیے نہیں ہوتا۔ وہ اپنے بعد آنے والی نسلوں کے ذوق، یادداشت اور ثقافت کا بھی حصہ بن جاتا ہے۔

قصور کی اللہ وسائی سے برصغیر کی نور جہاں اور پھر پاکستان کی “ملکۂ ترنم” تک کا یہ سفر محض ایک گلوکارہ کی کامیابی کی داستان نہیں، بلکہ برصغیر کی جدید موسیقی اور پاکستانی ثقافتی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔

آواز ختم ہو سکتی ہے، فنکار دنیا سے رخصت ہو سکتا ہے، مگر سچا فن اپنی گونج چھوڑ جاتا ہے۔

ملکۂ ترنم نور جہاں کی آواز بھی آج تک اسی گونج کی صورت میں زندہ ہے۔ 🎙️🇵🇰

اگر آپ کو یہ تاریخی و ادبی تحریر پسند آئی ہو تو اسے لائیک اور شیئر کریں اور ایسی مزید معلوماتی تحریروں کے لیے میرے پیج کو فالو ضرور کریں۔

Loading