چارباغ چکوڑی۔۔۔۔چو گوہرِ آبدار
تحریر۔۔۔سکندرریاض چوہان
ہالینڈ ( ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔۔۔۔ چار باغ چکوڑی ۔۔۔۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔ سکندر ریاض چوہان ) ضلع گجرات کا موضع چکوڑی بھیلووال ایک معروف گاؤں ہے جو نہر اپرجہلم کے شمالی کنارے پر آباد ہے جہاں پر کئی ایک نابغہ روزگار بزرگ اشخاص مدفون ہیں اور یہاں کی خانقاہ پر دورونزدیک سے عقیدت مند ساراسال حاضر رہتے ہیں۔گاؤں تک گوگل میپ کی مدد سے اور گجرات سرگودھاروڈ سے نہر اپرجہلم کے کنارے بنی دورویہ جدیدشاہراہ پر آرام سے سفر کرتے ہوئے سڑک پر لگے سائن بورڈز کی مدد سے سمرالہ گاؤں سے نہر کی شمالی جانب مڑ کر اس گاؤں میں پہنچاجاسکتاہے۔گاؤں تک رسائی کی اتنی وضاحت اس لیے ضروری تھی کیونکہ چکوڑی اور چکوڑہ نام کے دیگر دیہات بھی ضلع گجرات میں پائے جاتے ہیں۔
گجرات کی زرخیز دھرتی کے ہونہار فرد صاحبزادہ نجم الامین فاروقی جن کا تعلق مونیاں شریف گاؤں سے ہے نے اپنی قلم کاری کی ضوفشانی سے چکوڑی کے چار نامور بزرگ شخصیات جناب حضرت مولانا محمد نور الدین فاروقی،حضرت صاحبزادہ محمد امین فاروقی،حضرت حافظ محمد چراغ عباسی ہاشمی اور حضرت صاحبزادہ ظفر علی عباسی ہاشمی پر ایک کتابچہ رقم کیاہے جس میں انھوں نے ان چاروں ہستیوں کی سوانح کا مختصر احوال،مناقب،کلام ،مخطوطات ،قطعات اورحواشی کو پیش کیا ہے۔ان چاروں شخصیات کے احوال پر مبنی اس رسالے کو انھوں نے”چار باغ چکوڑی”کے نام سے معنون کیاہے۔جناب نجم الامین فاروقی صاحب کی یہ کاوش اس لحاظ سے منفرد اور اہم ہے کہ عام طورپر دور دراز کے علاقہ جات میں پائے جانے والے بزرگان کے حالات زندگی کرامات کی گہری چھاپ میں گم ہوجاتی ہے جس سے عام لوگ ان کی حقیقی زندگی کے بارے کم یا انتہائی قلیل معلومات رکھتے ہیں۔چار باغ چکوڑی اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس میں ان چاروں قابل احترام ہستیوں کے ذکر کے علاوہ دیگر احباب کی ان کے بارے رائے اور پاکستان کی نامور علمی ادبی شخصیت قابل قدر استاداورمذہبی پیشواجنا ب احمد حسین قریشی قلعداری صاحب کاچکوڑی کے بارے ایک قطعہ کتاب کے آخر میں شامل کیاہے ۔فاروقی صاحب نے اس کتاب میں نہ صرف ان چاروں شخصیات کے حالات کو قلم بند کیاہے بلکہ ان کی علمی ادبی کاوشوں کے نمونہ جات پیش کرکے قارئین کو ان کے اس منفردپہلوسے بھی متعارف کرایاہے۔نجم الامین فاروقی صاحب خود ایک متحرک نوجوان قلم کار ہونے کے ساتھ ساتھ حلیم الطبع استاد اور اہل علاقہ میں قابل عزت دینی شخصیت کے طورپر جانے جاتے ہیں۔ان کی پہلے بھی اپنے گاؤں مونیاں کے حوالے سے ایک کتاب کے علاوہ متعددنصابی کتب ورسالہ جات شائع ہوچکے ہیں۔
جناب نجم الامین فاروقی صاحب کی ذرہ نوازی تھی کہ انھوں نے اپنی تازہ تصنیف”چار باغ چکوڑی”گذشہ دنوں گجرات میں آکر خود پیش کی۔فاروقی صاحب کے حکم کے مطابق گجرات کے منفرد لہجے کے لکھاری وکھوج کار جناب رضوان الحق صاحب کے سکول گرین سکول سسٹم شادیوال روڈپہنچا جہاں پروفیسر مقصوداحمد،نجم الامین فاروقی اور جناب رضوان الحق منتظرتھے۔اس نشست میں صاحبان علم ودانش کے ساتھ انتہائی مفید،علمی،ادبی گفتگو رہی جس میں کتب پر تبادلہ خیال کے ساتھ ساتھ نجم الامین فاروقی صاحب نے اپنے اگلے مسودہ کے بارے میں بھی آگاہی دیتے ہوئے اس کے تحقیقی ماحذات کے بارے میں بات کرتے ہوئے تجاویز کی پیش کش کی تاکہ ایک مبسوط کاوش کو اہل فکر ودانش اور ادبا کے لیے پیش کیا جاسکے۔حاضرین نے ان کو اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کے ساتھ کتاب کی تیاری میں درپیش مراحل میں اپنی خدمات بھی پیش کی۔