خاموشی کے لمحے قیمتی ہوتے ہیں، انہیں ضائع نہ کیجیے
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )خاموشی ایک ایسی زبان ہے جسے دنیا کا ہر انسان سمجھتا ہے مگر اس کا ترجمہ الفاظ میں نہیں کر سکتا۔ یہ وہ آواز ہے جو سنائی نہیں دیتی مگر دل کی گہرائیوں تک اتر جاتی ہے۔ کبھی خاموشی محبت کی علامت ہوتی ہے، کبھی دکھ کا اظہار، کبھی صبر کا امتحان، کبھی کسی تعلق کا سب سے مضبوط جملہ۔ یہ زبان ان لمحوں میں بولتی ہے جب الفاظ بے بس ہو جاتے ہیں۔
انسان روزانہ ہزاروں الفاظ بولتا ہے لیکن وہ سب الفاظ دل کو چھو نہیں پاتے۔ بعض اوقات ایک لمحے کی خاموشی وہ کچھ کہہ دیتی ہے جو صدیوں کی گفتگو بھی نہیں کہہ سکتی۔ ایک ماں جب اپنے بچے کو پیار سے دیکھتی ہے تو اس کی نگاہوں کی خاموشی بچے کے لیے سب سے بڑی دعا بن جاتی ہے۔ ایک دوست جب دکھ میں دوسرے کے شانہ سے لگ کر کچھ نہیں بولتا تو اس کی خاموشی سب سے بڑا سہارا بن جاتی ہے۔ ایک عاشق جب اپنے محبوب کے سامنے صرف مسکرا دیتا ہے تو وہ خاموش مسکراہٹ پورے دل کی کہانی بیان کر دیتی ہے۔
خاموشی کی زبان سادہ نہیں، یہ کئی پرتوں میں لپٹی ہوئی ہے۔ کبھی یہ سکون دیتی ہے اور کبھی دل کو ہلا دیتی ہے۔ کبھی یہ انسان کو خدا کے قریب لے آتی ہے اور کبھی یہ انسان کو اپنی تنہائی کے اندھیروں میں گم کر دیتی ہے۔ رات کے پچھلے پہر کی خاموشی وہ وقت ہے جب انسان اپنے آپ سے، اپنے رب سے اور اپنے ماضی سے بات کرتا ہے۔ دن کے شور میں جو سوال دب جاتے ہیں وہ سوال خاموشی میں جاگ اٹھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ سکون تلاش کرنے کے لیے خاموش جگہوں پر جاتے ہیں، کیونکہ وہاں دل کی صدائیں زیادہ واضح سنائی دیتی ہیں۔
دل کی صدائیں وہ سرگوشیاں ہیں جو کبھی ہونٹوں تک نہیں آتیں مگر دل کی دھڑکنوں میں چھپی رہتی ہیں۔ یہ صدائیں کبھی دعا بن کر آسمان کی طرف اٹھتی ہیں، کبھی آہ بن کر آنکھوں سے بہہ جاتی ہیں اور کبھی حسرت بن کر سینے میں دفن رہتی ہیں۔ انسان جتنا زیادہ اندر سے حساس ہوتا ہے، اتنی ہی بلند اس کے دل کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔ وہ صدائیں جنہیں کوئی دوسرا نہیں سنتا مگر انسان خود اپنے اندر ہر پل سنتا ہے۔ یہ صدائیں کبھی ماضی کے زخم یاد دلاتی ہیں اور کبھی مستقبل کی امید جگاتی ہیں۔
خاموشی اور دل کی صدائیں ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔ اگر انسان کے پاس الفاظ نہ ہوں تو دل صداؤں کے ذریعے بولتا ہے اور اگر دل کے پاس ہمت نہ ہو تو خاموشی سب کچھ کہہ دیتی ہے۔ یہ وہ مکالمہ ہے جو لفظوں سے نہیں دل سے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی ایک نگاہ، ایک آنسو یا ایک سانس، ہزاروں جملوں سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔
لیکن خاموشی ہمیشہ مثبت نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی یہ دل کے اندر ایک طوفان کو چھپا لیتی ہے۔ باہر سے انسان پرسکون نظر آتا ہے مگر اندر کا شور کسی پہاڑ سے زیادہ گونج رہا ہوتا ہے۔ ایسی خاموشی خطرناک ہوتی ہے کیونکہ یہ آہستہ آہستہ انسان کو توڑ دیتی ہے۔ مگر پھر یہی خاموشی انسان کو مضبوط بھی کرتی ہے۔ جیسے لوہا آگ میں تپ کر مضبوط ہوتا ہے، ویسے ہی انسان دکھ کی خاموشی میں صبر سیکھتا ہے۔
کبھی دل کی صدائیں خاموشی کو توڑ دیتی ہیں۔ جیسے کوئی لمحہ ایسا آتا ہے جب انسان مزید برداشت نہیں کر پاتا اور اس کے دل کی آواز آنکھوں سے آنسو بن کر بہہ جاتی ہے۔ آنسو وہ زبان ہیں جو خاموشی اور دل کی صداؤں کا ملاپ ہیں۔ یہ بتاتے ہیں کہ اندر کتنا کچھ دبایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی ایک آنسو پورے دل کی کہانی سنا دیتا ہے۔
ادب اور شاعری میں خاموشی اور دل کی صداؤں کا ذکر بار بار آتا ہے۔ غالب کے اشعار میں وہ درد ہے جو خاموشی کے بغیر سمجھ نہیں آتا، فیض کی نظموں میں وہ صدا ہے جو دل کی گہرائیوں سے اٹھتی ہے۔ اصل میں شاعری وہی ہے جو الفاظ کی خاموشی میں چھپی صداؤں کو باہر لاتی ہے۔ ہر بڑا شاعر اپنے دل کی خاموش صدا کو لفظوں میں ڈھالتا ہے تاکہ باقی لوگ بھی اسے محسوس کر سکیں۔
انسانی تعلقات کی خوبصورتی بھی خاموشی اور دل کی صداؤں میں ہے۔ بعض رشتے ایسے ہوتے ہیں جہاں زیادہ بولنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ صرف خاموش بیٹھنا بھی کافی ہوتا ہے۔ ماں اور بیٹے کے درمیان، دو گہرے دوستوں کے بیچ، یا دو دلوں کے درمیان اکثر یہی خاموشی سب سے بڑی گفتگو ہوتی ہے۔ یہی وہ لمحے ہیں جب لفظ کم اور احساس زیادہ بولتے ہیں۔
زندگی کا حسن بھی اسی میں ہے کہ انسان خاموشی کو سمجھنا سیکھے۔ یہ مت سوچے کہ خاموش رہنے والا کچھ نہیں کہہ رہا۔ اس کی خاموشی میں کئی داستانیں چھپی ہوتی ہیں۔ کبھی سکون کی، کبھی درد کی، کبھی دعا کی اور کبھی محبت کی۔ جو لوگ دل کی صدائیں سن لیتے ہیں، وہی اصل میں انسان کو سمجھتے ہیں۔
آخرکار یہی کہنا پڑتا ہے کہ خاموشی کی زبان اور دل کی صدائیں انسان کو اس کے اصل سے جوڑتی ہیں۔ یہ ہمیں بتاتی ہیں کہ زندگی صرف بولنے کا نام نہیں بلکہ سننے کا بھی نام ہے۔ سننا وہ نہیں جو کانوں سے سنائی دے، بلکہ وہ ہے جو دل میں سنائی دے۔ اگر ہم نے یہ سننا سیکھ لیا تو رشتے مضبوط ہو جائیں گے، تنہائیاں سکون دے گی اور دکھ بھی کم لگنے لگے گا۔
خاموشی کے لمحے قیمتی ہوتے ہیں، انہیں ضائع نہ کیجیے۔ اپنے دل کی صداؤں کو دبائیے مت، انہیں دعا بنا دیجیے، محبت بنا دیجیے اور سکون کا ذریعہ بنا دیجیے۔ کیونکہ الفاظ تو ختم ہو جاتے ہیں مگر خاموشی اور دل کی صدائیں ہمیشہ رہتی ہیں۔