(واہمہ میں داخل ہونے کا طریقہ روشنی سے واقف ہونا ہے)
تحریر۔۔۔حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی ؒ
ہالینڈ(ڈٰلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحریر۔۔۔حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی ؒ)حضور مرشدِ کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ اطلاح کے نزول کے پہلے مرحلہ واہمہ پر تفکر کرنے سے ادراک ہوتا ہے کہ ناسوت میں انسان کا اصل مقام واہمہ کی دنیا ہے۔
* واہمہ میں داخل ہونے کا طریقہ روشنی سے واقف ہونا ہے۔ ہر شے صفت پر قائم ہے۔ روشنی کی مقداریں بھی معین ہیں مگر تحلیل ہونے کی وجہ سے روشنی نظر نہیں آتی۔
* انسان کے اندر روشنی سے مماثل صفتِ ایثار، غیر جانبداری اور بے نیازی ہے۔
* یہ کائنات ایثار پر قائم ہے۔ یہاں ہر شے اللہ تعالی کی نیاز مند ہو کر بے نیازی سے اپنی ذمہ داری پوری کررہی ہے اور تمام امتیازات سے پاک ہے۔ آسمان نیک و بد دونوں کے لئے سائبان ہے۔ زمین کبر سے چلنے اور عاجزی اختیار کرنے والے دونوں کی خدمت پر مامور ہے۔ یہی صورت ارض و سما میں موجود انواع و اقسام کی ہے۔
* عمل کی ابتداخیال سے ہوتی ہے۔ فرد خیال میں معنی پہناتا ہے۔ کھانا کھلانے کی اطلاح آئی۔ یہ اطلاح لامحدود ہے کہ اس میں افراد، ان کی نوعیت یعنی نوع کا تعین، تعداد اور کیا کھلانا ہے پر زور نہیں۔ بس کھلانا ہے۔
* اگر فرد مذکورہ اشیاء کا تعین شروع کر دے اور تخصیص سے کام لے تو یہ اطلاح کے برخلاف عمل ہے۔ ماحول میں پرندے، جانور اور حشرات الارض بھی موجود ہیں۔
* پیغام کی قبولیت کا طریقہ یہ ہے کہ جو میسر ہے وہ کھلا دے اور اس کی پرواہ نہ کرے کہ کھانے میں کون کون شریک ہوتا ہے۔ دانہ دانہ پر مہر ہے۔
(ماہنامہ قلندر شعور، جون 2018)