سورۃ الناس — حصہ اوّل انسان کے باطن کی حفاظت کا الٰہی اعلان
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سورۃ الناس قرآنِ مجید کی آخری سورۃ ہے، مگر اس کا مقام اختتام نہیں بلکہ **انسان کے باطن کی نگرانی** ہے۔ یہ سورۃ انسان کو اُس دشمن سے خبردار کرتی ہے جو نہ نظر آتا ہے، نہ آواز بلند کرتا ہے، نہ تلوار اٹھاتا ہے، بلکہ خاموشی سے دل میں سرگوشی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورۃ الناس کو سمجھنے کے لیے آنکھوں سے زیادہ **دل کی سماعت** درکار ہوتی ہے۔ یہ سورۃ ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ دشمن کہاں کھڑا ہے، بلکہ یہ بتاتی ہے کہ دشمن **کہاں داخل ہوتا ہے**۔ وہ دروازہ جو باہر کی دیواروں میں نہیں بلکہ انسان کے اپنے اندر کھلتا ہے۔ انسان صدیوں سے بیرونی دشمنوں سے لڑتا آیا ہے، مگر اندرونی دشمن کے بارے میں ہمیشہ غافل رہا ہے۔ سورۃ الناس اسی غفلت کو توڑتی ہے۔
نزول کا معنوی پس منظر
سورۃ الناس اُس دور میں نازل ہوئی جب انسان صرف تلوار، جادو یا جسمانی اذیت سے نہیں بلکہ **ذہنی دباؤ، خوف اور اندیشوں** سے بھی متاثر ہو رہا تھا۔ یہ سورۃ اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ ہر نقصان ہاتھ یا آنکھ سے نہیں ہوتا، کچھ زخم **سوچ میں لگتے ہیں**۔
یہی وجہ ہے کہ سورۃ الناس کو سورۃ الفلق کے ساتھ رکھا گیا:
* سورۃ الفلق → باہر کے شر
* سورۃ الناس → اندر کے شر
یعنی مکمل حفاظت کا اعلان۔
وسوسہ کیا ہے؟
وسوسہ کوئی اچانک وار نہیں ہوتا۔ یہ ایک دھیرے سے آنے والا خیال ہوتا ہے، جو پہلے بے ضرر لگتا ہے، پھر مانوس بنتا ہے، پھر غالب آ جاتا ہے۔ وسوسہ یوں کام کرتا ہے:
* ایک خیال * پھر اُس خیال کی تکرار * پھر اُس سے رغبت * پھر یقین * پھر عمل سورۃ الناس انسان کو **عمل سے پہلے** روک لیتی ہے۔ یہ کہتی ہے: ہر خیال تمہارا نہیں،
اور ہر سوچ قابلِ قبول نہیں۔
انسان کا اصل میدانِ جنگ
انسان کا سب سے بڑا میدانِ جنگ اس کا دل ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں: * خوف جنم لیتا ہے * شک پلتا ہے * غرور سر اٹھاتا ہے * مایوسی گھر بناتی ہے اور یہی وہ جگہ ہے جہاں ایمان بھی اُترتا ہے۔ سورۃ الناس دل کو جنگ کا میدان مان کر اُسے تنہا نہیں چھوڑتی، بلکہ فوراً پناہ کا راستہ بتاتی ہے۔
ربّ الناس — ذہنی و روحانی پرورش
سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کو **ربّ الناس** کہا گیا۔ کیونکہ وسوسہ سب سے پہلے **ذہن کی تربیت** کو بگاڑتا ہے۔ ربّ وہ ہے جو: * آہستہ آہستہ سنوارتا ہے * گرنے کے بعد اٹھاتا ہے * بکھری سوچ کو ترتیب دیتا ہے جب انسان ربّ الناس کو پہچان لیتا ہے تو وسوسہ جڑ نہیں پکڑ پاتا۔
(قسط دوم) انسان کے باطن کی حفاظت کا الٰہی اعلان
گزشتہ قسط میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ سورۃ الناس کا اصل مخاطب انسان کا **باطن** ہے، اور اس کا سب سے بڑا دشمن وہ ہے جو **اندر سے حملہ کرتا ہے**۔ اب یہاں سے ہم اس دشمن کی اصل کمزوریوں، انسان کی داخلی ساخت، اور وسوسے کے کام کرنے کے پورے نظام کو گہرائی سے سمجھتے ہیں۔
انسان کی باطنی ساخت: دل، نفس اور عقل
انسان صرف جسم کا نام نہیں۔ قرآن انسان کو ایک **اندرونی کائنات** کے طور پر پیش کرتا ہے، جس کے تین بڑے مراکز ہیں: * دل * نفس * عقل وسوسہ انہی تینوں کے درمیان سفر کرتا ہے۔
دل
دل صرف جذبات کا مرکز نہیں، بلکہ نیت، رجحان اور جھکاؤ کی جگہ ہے۔ دل اگر مضبوط ہو تو وسوسہ اندر آ کر بھی ٹھہر نہیں سکتا، اور اگر کمزور ہو تو معمولی خیال بھی طوفان بن جاتا ہے۔
نفس
نفس خواہش کا مرکز ہے۔ وسوسہ سب سے پہلے نفس کو للکارتا ہے، کیونکہ نفس جلد مان جاتا ہے۔ نفس کو اگر تربیت نہ دی جائے تو وہ عقل کو بھی خاموش کر دیتا ہے۔
عقل
عقل دلیل دیتی ہے، مگر ہمیشہ فیصلہ نہیں کر پاتی۔ اگر دل کمزور ہو اور نفس غالب ہو تو عقل جانتے ہوئے بھی ہار مان لیتی ہے۔ سورۃ الناس انہی تینوں کے درمیان **توازن** قائم کرتی ہے۔
وسوسہ کہاں سے داخل ہوتا ہے؟
وسوسہ دروازہ کھٹکھٹا کر نہیں آتا۔ یہ ایسے داخل ہوتا ہے جیسے اپنا ہی خیال ہو۔ مثلاً: * میں کمزور ہوں * مجھ سے نہیں ہوگا * سب میرے خلاف ہیں * میں دوسروں سے کم ہوں * میں دوسروں سے بہتر ہوں یہ سب وسوسے کی شکلیں ہیں۔ سورۃ الناس اسی لیے پہلے لفظ میں کہتی ہے: **قل** — کہو یعنی خاموش مت رہو، وسوسے کو اندر ہی اندر نہ پکنے دو۔
شیطان: ایک نظام، ایک طریقۂ کار
سورۃ الناس شیطان کو کوئی دیو یا خوفناک مخلوق بنا کر پیش نہیں کرتی۔ یہاں شیطان ایک **طریقۂ کار** ہے۔ یہ طریقہ یہ ہے: * خیال ڈالنا * پھر پیچھے ہٹ جانا * پھر دوبارہ لوٹ آنا اسی لیے اسے **وسواس الخناس** کہا گیا۔ جو آتا بھی ہے، اور چھپ بھی جاتا ہے۔ یہ بہت اہم نکتہ ہے: شیطان مستقل سامنے نہیں رہتا، وہ موقع دیکھتا ہے۔
جدید دور میں وسوسے کی شکلیں
آج وسوسہ صرف مذہبی شک تک محدود نہیں رہا۔ آج کا وسوسہ: * موازنہ بن گیا ہے
* بےچینی بن گیا ہے * خود کو کمتر یا برتر سمجھنا بن گیا ہے * ہر وقت دل کا بےسکون رہنا بن گیا ہے سورۃ الناس آج کے انسان کے لیے پہلے سے زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔
ربّ الناس — وسوسے کے خلاف پہلی دیوار
یہ کوئی اتفاق نہیں کہ سورۃ الناس میں سب سے پہلے **ربّ الناس** آیا۔ ربّ: * سکھاتا ہے * وقت دیتا ہے * غلطی کے بعد بھی ہاتھ نہیں چھوڑتا وسوسہ جلدی کرواتا ہے، ربّ ٹھہراؤ دیتا ہے۔ جب انسان ربّ الناس کو پہچان لیتا ہے تو وسوسے کی سب سے بڑی طاقت ٹوٹ جاتی ہے، کیونکہ وسوسہ جلد بازی سے زندہ رہتا ہے۔
دل کی خاموش لڑائی
اکثر انسان باہر پرسکون نظر آتا ہے، مگر اندر مسلسل جنگ چل رہی ہوتی ہے۔ یہ جنگ:
* کسی کو نظر نہیں آتی * کسی کو سنائی نہیں دیتی * مگر انسان کو تھکا دیتی ہے سورۃ الناس اس جنگ کو تسلیم کرتی ہے، اور انسان کو شرمندہ نہیں کرتی، بلکہ پناہ کا راستہ دکھاتی ہے۔ یہ نہیں کہتی: تم کمزور ہو بلکہ کہتی ہے: پناہ مانگو
وسوسہ کیوں خطرناک ہے؟
کیونکہ یہ: * گناہ سے پہلے آتا ہے * نیکی کو مشکل بناتا ہے * دل کو بوجھل کرتا ہے
* انسان کو خود سے بدظن کرتا ہے اور سب سے خطرناک بات: یہ انسان کو اکیلا محسوس کرواتا ہے۔ سورۃ الناس اسی احساسِ تنہائی کو توڑتی ہے۔
(قسط سوم) انسان کے باطن کی حفاظت کا الٰہی اعلان
گزشتہ قسطوں میں یہ بات واضح ہو چکی کہ سورۃ الناس انسان کے اندر جاری اس خاموش جنگ کو سامنے لاتی ہے جو دل، نفس اور عقل کے درمیان برپا رہتی ہے۔ اب ہم اس مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جہاں وسوسہ محض خیال نہیں رہتا بلکہ **فیصلہ سازی** کو متاثر کرنے لگتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی زندگی کا رخ بدلتا ہے۔
ملک الناس — اختیار کا اصل مرکز
سورۃ الناس میں دوسرا تعارف **ملک الناس** کا ہے۔ یہ محض بادشاہت کا اعلان نہیں بلکہ انسان کے اندر موجود ایک گہری کمزوری کی طرف اشارہ ہے۔ انسان دراصل سب سے زیادہ جس چیز سے خوف کھاتا ہے وہ ہے: * اختیار کا کھو جانا * کنٹرول ہاتھ سے نکل جانا * فیصلہ کسی اور کے تابع ہو جانا وسوسہ اسی خوف کو استعمال کرتا ہے۔ یہ انسان کے دل میں یہ خیال ڈالتا ہے: * اگر میں نے یہ نہ کیا تو سب ختم ہو جائے گا
* اگر میں نے کنٹرول چھوڑ دیا تو میں کمزور ہو جاؤں گا * اگر میں نے سب کچھ اپنے ہاتھ میں نہ رکھا تو نقصان ہو گا سورۃ الناس یہاں انسان کو یاد دلاتی ہے: اصل اختیار تمہارا نہیں، اصل بادشاہ **اللہ** ہے۔
کنٹرول کی خواہش اور وسوسہ
آج کا انسان بظاہر آزاد ہے، مگر اندر سے شدید کنٹرول کا بھوکا ہے۔ وہ چاہتا ہے: * لوگ اس کے مطابق چلیں * حالات اس کے مطابق ہوں * نتائج اس کی توقع کے مطابق نکلیں جب ایسا نہیں ہوتا تو: * غصہ آتا ہے * بےچینی بڑھتی ہے * دل میں شکوہ جنم لیتا ہے یہی وہ لمحہ ہے جہاں وسوسہ طاقت پکڑتا ہے۔ سورۃ الناس انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ: کنٹرول چھوڑنا کمزوری نہیں، بلکہ **ملک الناس** پر بھروسا اصل طاقت ہے۔
خوف کہاں سے آتا ہے؟
خوف ہمیشہ خطرے سے نہیں آتا، اکثر خوف **تصور** سے آتا ہے۔ وسوسہ خطرہ پیدا نہیں کرتا، وہ خطرے کا تصور پیدا کرتا ہے۔ مثلاً: * اگر یہ ہو گیا تو کیا ہوگا * اگر وہ ایسا کر گیا تو کیا ہوگا * اگر میں ناکام ہو گیا تو کیا ہوگا یہ سب وسوسے ہیں۔ سورۃ الناس انسان کو حال میں لاتی ہے، کیونکہ وسوسہ ہمیشہ مستقبل میں رہتا ہے۔
فیصلہ سازی میں وسوسے کا کردار
انسان کا ہر فیصلہ صرف عقل سے نہیں ہوتا۔ فیصلے میں شامل ہوتے ہیں: * خوف
* خواہش * انا * احساسِ کمتری یا برتری وسوسہ ان سب کو ہلا دیتا ہے۔ کبھی یہ نیکی کو مشکل بنا دیتا ہے: * ابھی نہیں * بعد میں * ابھی حالات ٹھیک نہیں اور کبھی گناہ کو آسان: * سب کرتے ہیں * ایک بار سے کیا ہوتا ہے * میں مجبور تھا سورۃ الناس ان تمام جوازوں کو ایک لفظ میں لپیٹ دیتی ہے: **وسوسہ**
الٰہ الناس — تعلق کی آخری پناہ
تیسری اور سب سے گہری صفت ہے: **الٰہ الناس**
یہاں بات اختیار یا پرورش کی نہیں، بلکہ **تعلق** کی ہے۔ انسان کا دل کسی نہ کسی سے جڑنا چاہتا ہے۔ اگر وہ دل: * صحیح مرکز سے نہ جڑے تو وہ: * خواہش * خوف
* لوگوں کی رائے سے جڑ جاتا ہے۔ وسوسہ اسی خلا میں داخل ہوتا ہے۔ الٰہ الناس کا مطلب ہے: جس کے سامنے دل جھک جائے، جس سے امید بندھ جائے، جس کے بغیر دل خالی محسوس کرے۔
عبادت اور وسوسہ
عبادت کو اگر رسم بنا دیا جائے تو وسوسہ ختم نہیں ہوتا۔ عبادت جب: * عادت ہو * تعلق نہ ہو تو دل خالی رہتا ہے۔ الٰہ الناس کا تصور عبادت کو زندہ کرتا ہے۔ یہ سکھاتا ہے کہ: * عبادت دل کا سہارا ہے * عبادت وسوسے کے مقابل کھڑا ہونے کی طاقت ہے یہی وجہ ہے کہ وسوسہ عبادت کے وقت زیادہ آتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہی اس کی شکست ہے۔
وسوسہ اور تنہائی
وسوسہ انسان کو سب سے پہلے یہ احساس دیتا ہے: تم اکیلے ہو یہ احساس: * دل کو کمزور کرتا ہے * آنکھوں سے امید چھین لیتا ہے * انسان کو خود پر شک میں مبتلا کرتا ہے سورۃ الناس اس تنہائی کو توڑتی ہے: کہہ کر: تم اکیلے نہیں تمہارا ربّ، تمہارا ملک، تمہارا الٰہ موجود ہے
انسان کیوں بار بار وسوسے میں آتا ہے؟
کیونکہ انسان: * بھول جاتا ہے * جلدی مایوس ہو جاتا ہے * اپنے دل کی نگرانی چھوڑ دیتا ہے سورۃ الناس کوئی ایک بار کی دعا نہیں، یہ **مسلسل پناہ** کی تعلیم ہے۔
سورۃ الناس — حصہ دوم وسوسہ، معاشرہ اور انسان
(قسط اوّل)
سورۃ الناس کا دوسرا بڑا زاویہ یہ ہے کہ وسوسہ صرف فرد کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ **معاشرتی فضا** میں پھیل کر اجتماعی رویّوں کو متاثر کرتا ہے۔ اگر حصہ اوّل میں ہم نے انسان کے باطن کو سمجھا، تو حصہ دوم میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ **وہی باطنی کمزوریاں جب معاشرے سے جڑتی ہیں تو کیسے فتنہ بن جاتی ہیں**۔
وسوسہ اور معاشرہ — ایک خاموش اتحاد
وسوسہ کبھی اکیلا کام نہیں کرتا۔ یہ ہمیشہ ماحول کا سہارا لیتا ہے۔ جب: * معاشرہ مقابلہ سکھائے * معیار صرف کامیابی بن جائے * قدر انسان کی نہیں، فائدے کی ہو تو وسوسہ آسانی سے دل میں جگہ بنا لیتا ہے۔ یہ کہتا ہے: * پیچھے رہ گئے تو کوئی نہیں پوچھے گا * سب آگے بڑھ رہے ہیں، تم کیوں رکے ہو * اخلاق بعد میں، پہلے کامیابی یہاں وسوسہ فرد کی نہیں، **پورے سماج کی زبان بولتا ہے**۔
لوگوں کے ذریعے آنے والا وسوسہ
سورۃ الناس میں ایک نہایت باریک مگر گہرا نکتہ ہے: **الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاس**
یعنی وسوسہ صرف اندر سے نہیں آتا، کبھی **انسان انسان کا وسیلہ بن جاتا ہے**۔ لوگ: * باتوں میں وسوسہ ڈالتے ہیں * مشورے میں شک شامل کر دیتے ہیں * ہمدردی میں مایوسی گھول دیتے ہیں یہ سب وسوسے کی جدید صورتیں ہیں۔
خیر کے لباس میں شر
سب سے خطرناک وسوسہ وہ ہے جو: * نیکی کی شکل میں آئے * عقل کی دلیل ساتھ لائے * خیر کا نام لے مثلاً: * ابھی صبر مت کرو، وقت ضائع ہو جائے گا * سچ بولنے سے نقصان ہوگا * تھوڑا سا جھوٹ بڑے فائدے کے لیے جائز ہے یہ وسوسہ گناہ کا نہیں، **جواز کا** ہوتا ہے۔ سورۃ الناس اسی لیے صرف برائی سے نہیں، بلکہ **وسوسہ ڈالنے والے طریقے** سے پناہ مانگنا سکھاتی ہے۔
جن اور انسان — وسوسے کا فرق
سورۃ الناس کا اختتام نہایت معنی خیز ہے: **مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاس** یعنی وسوسہ دو ذریعوں سے آتا ہے: * جن * انسان جن کا وسوسہ: * اچانک * غیر واضح * خیال کی صورت میں انسان کا وسوسہ: * منطقی * دلیل کے ساتھ * تجربے کے نام پر اکثر انسان کے ذریعے آنے والا وسوسہ زیادہ خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ وہ: * بھروسا توڑتا ہے * دل میں مستقل بیٹھ جاتا ہے
معاشرتی دباؤ اور وسوسہ
آج کا انسان اکیلا نہیں، مگر ہر وقت **دباؤ میں** ہے۔ یہ دباؤ: * بہتر بننے کا * آگے نکلنے کا * دوسروں جیسا دکھنے کا وسوسہ اسی دباؤ کو بڑھاتا ہے: * تم کافی نہیں ہو
* تم دیر سے چلے * تم پیچھے رہ گئے سورۃ الناس اس شور میں انسان کو **اندر کی آواز** سننا سکھاتی ہے۔
حسد، موازنہ اور وسوسہ
موازنہ وسوسے کی غذا ہے۔ جب انسان: * خود کو دوسروں سے تولتا ہے * اپنی قدر باہر ڈھونڈتا ہے تو وسوسہ آسانی سے کہتا ہے: * تم کم ہو یا * تم سب سے بہتر ہو دونوں صورتیں دل کو بگاڑتی ہیں۔ سورۃ الناس انسان کو اس دائرے سے نکال کر: **اللہ** کی پناہ میں لے آتی ہے، جہاں قدر بھی وہی دیتا ہے، اور حفاظت بھی وہی۔
(قسط دوم) وسوسہ، معاشرہ اور انسان
گزشتہ قسط میں ہم نے یہ دیکھا کہ وسوسہ صرف فرد کے دل تک محدود نہیں رہتا بلکہ معاشرتی فضا میں پھیل کر ایک اجتماعی کیفیت اختیار کر لیتا ہے۔ اب ہم اس مرحلے میں داخل ہوتے ہیں جہاں وسوسہ **اداروں، تعلقات اور روزمرہ کے معمولات** میں سرایت کرتا ہے اور انسان کو آہستہ آہستہ اپنی اصل سے دور لے جاتا ہے۔
خاندان کے اندر وسوسہ
خاندان انسان کی پہلی درسگاہ ہے، مگر یہی جگہ وسوسے کے لیے سب سے نرم ہدف بھی بن سکتی ہے۔ یہاں وسوسہ اس طرح داخل ہوتا ہے: * نیت کے بغیر بات * خیر خواہی کے نام پر تنقید * محبت میں لپٹی ہوئی مایوسی مثلاً: * تم سے یہ نہیں ہو پائے گا
* ہمارے زمانے میں ایسا نہیں تھا * لوگ کیا کہیں گے یہ جملے بظاہر معمولی ہوتے ہیں، مگر دل میں مستقل اثر چھوڑتے ہیں۔ وسوسہ یہاں باہر سے نہیں آتا، بلکہ **قریبی آوازوں** میں چھپ کر آتا ہے۔ سورۃ الناس ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ پناہ صرف دشمن سے نہیں، بلکہ **قریب ترین اثرات** سے بھی مانگی جاتی ہے۔
محبت اور وسوسہ
محبت اگر شعور کے بغیر ہو تو وسوسے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ انسان: * محبوب کی بات کو آخری سچ مان لیتا ہے * ناپسندیدگی کو ردّ سمجھ لیتا ہے * اختلاف کو تعلق کے خاتمے کا اشارہ مان لیتا ہے یہ سب وسوسے ہیں جو محبت کے رشتے کو کمزور کر دیتے ہیں۔ سورۃ الناس انسان کو یاد دلاتی ہے کہ: ہر تعلق اصل نہیں، اصل تعلق **اللہ** کے ساتھ ہے، اور باقی سب تعلقات اسی کے سائے میں درست رہتے ہیں۔
تعلیم اور وسوسہ
تعلیم کا مقصد شعور تھا، مگر آج یہ مقابلہ بن گئی ہے۔ وسوسہ یہاں کہتا ہے: * نمبر ہی سب کچھ ہیں * پیچھے رہ گئے تو کچھ نہیں بنو گے * ناکامی کا مطلب ناکارہ ہونا ہے یہ وسوسہ نوجوان ذہنوں کو توڑ دیتا ہے، کیونکہ یہ: * سیکھنے کے بجائے ڈر پیدا کرتا ہے
* سوال کے بجائے خاموشی سکھاتا ہے سورۃ الناس اس ذہنی دباؤ کے مقابلے میں یہ پیغام دیتی ہے کہ: انسان کی قدر اس کے نتیجے سے نہیں، اس کی نیت اور کوشش سے ہے۔
روزگار، دولت اور وسوسہ
معاش کا میدان وسوسے کے لیے سب سے زرخیز زمین ہے۔ یہاں وسوسہ اس طرح بولتا ہے: * اگر یہ نہ کیا تو پیچھے رہ جاؤ گے * ایمانداری سے گزارا مشکل ہے * سب یہی کرتے ہیں یہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے اصولوں پر سمجھوتا شروع کرتا ہے، اور یہی سمجھوتے بعد میں دل کو بےسکون کر دیتے ہیں۔ سورۃ الناس یہاں انسان کو **ملک الناس** کی یاد دلاتی ہے: رزق دینے والا کوئی اور نہیں، اصل اختیار **اللہ** کے پاس ہے۔
میڈیا، افواہ اور اجتماعی وسوسہ
جب ایک وسوسہ ایک دل میں آتا ہے تو کمزور ہوتا ہے، مگر جب وہ ہزاروں زبانوں پر آ جائے تو فتنہ بن جاتا ہے۔ افواہ: * خوف پیدا کرتی ہے * غصہ بھڑکاتی ہے * عقل کو ساکت کر دیتی ہے یہ اجتماعی وسوسہ ہے۔ سورۃ الناس ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ: ہر سنی ہوئی بات حقیقت نہیں، اور ہر پھیلی ہوئی بات پر ردّعمل ضروری نہیں۔
مذہب کے نام پر وسوسہ
یہ سب سے نازک اور خطرناک مقام ہے۔ یہاں وسوسہ یوں آتا ہے: * تم کافی اچھے نہیں
* تمہاری عبادت قبول نہیں * تم کبھی درست نہیں ہو سکتے یہ وسوسہ انسان کو نیکی سے دور کر دیتا ہے، کیونکہ یہ: * امید توڑ دیتا ہے * توبہ کا راستہ بند دکھاتا ہے سورۃ الناس ایسے وسوسے کے خلاف **الٰہ الناس** کی پناہ سکھاتی ہے، جو انسان کو یہ یقین دلاتا ہے کہ: دروازہ بند نہیں، بس لوٹ آنا ہے۔
معاشرتی کردار اور نقاب
اکثر انسان باہر کچھ اور ہوتا ہے، اندر کچھ اور۔ یہ تضاد وسوسے کو جنم دیتا ہے: * اگر اصل ظاہر ہو گئی تو کیا ہوگا * اگر لوگ جان گئے تو کیا ہوگا یہ ڈر انسان کو دوغلا بنا دیتا ہے۔ سورۃ الناس اس دوغلے پن کو ختم نہیں کرتی، بلکہ انسان کو **اندر سے مضبوط** کرتی ہے، تاکہ وہ نقاب کی ضرورت ہی محسوس نہ کرے۔
وسوسہ اور اجتماعی ناانصافی
جب ظلم معمول بن جائے تو وسوسہ یہ کہتا ہے: * آواز اٹھانے کا فائدہ نہیں * سب ایسے ہی ہیں * ایک سے کیا بدل جائے گا یہ وسوسہ اجتماعی ضمیر کو مار دیتا ہے۔ سورۃ الناس انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ: ایک دل کی درستگی بھی اندھیرے میں چراغ بن سکتی ہے۔
حصہ سوم آج کی زندگی میں اطلاق
(وسوسوں کے دور میں انسان کی عملی رہنمائی)
سورۃ الناس محض پڑھنے کی سورۃ نہیں، بلکہ **جینے کی سورۃ** ہے۔ یہ انسان کو یہ نہیں سکھاتی کہ وسوسہ آئے گا یا نہیں، بلکہ یہ سکھاتی ہے کہ **جب وسوسہ آئے تو کیا کرنا ہے**۔ کیونکہ وسوسہ آنا انسان ہونے کی علامت ہے، اور اس کا مقابلہ کرنا ایمان کی علامت۔
آج کا انسان اور اندرونی شور
آج کا انسان خاموش کم اور **بےآواز شور** کا زیادہ شکار ہے۔ یہ شور کسی باہر کی آواز کا نہیں بلکہ اندر چلنے والی سوچوں کا ہے۔ * دل مطمئن نہیں * ذہن تھکا ہوا ہے
* فیصلے الجھے ہوئے ہیں * نیت میں کمزوری آ گئی ہے یہ سب وسوسے کی مختلف صورتیں ہیں۔ سورۃ الناس آج کے انسان کو سب سے پہلے یہ شعور دیتی ہے کہ: مسئلہ باہر نہیں، اصل مسئلہ **اندر** ہے۔
وسوسہ آئے تو پہلا عمل کیا ہو؟
سورۃ الناس کا پہلا عملی سبق ہے: **وسوسے پر فوراً ردِعمل نہ دو۔** اکثر لوگ وسوسے کے آتے ہی: * گھبرا جاتے ہیں * خود کو برا سمجھنے لگتے ہیں * یا فوراً عمل کر بیٹھتے ہیں یہ تینوں غلطیاں ہیں۔ درست طریقہ یہ ہے: * وسوسے کو پہچانو * اسے اپنی آواز نہ سمجھو * فوراً پناہ کی طرف رجوع کرو یہی وجہ ہے کہ سورۃ الناس میں سب سے پہلے **قل** آیا ہے۔
روزمرہ زندگی میں ربّ الناس کو کیسے جیا جائے؟
ربّ الناس کو ماننا صرف عقیدے کا مسئلہ نہیں، یہ **طرزِ زندگی** کا معاملہ ہے۔ عملی طور پر: * جلدی نتائج مانگنا چھوڑ دیں * ہر ناکامی کو اختتام نہ سمجھیں * خود کو وقت دیں وسوسہ جلد بازی سکھاتا ہے، ربّ الناس تدریج سکھاتا ہے۔ جو شخص اپنی زندگی میں ٹھہراؤ لے آتا ہے، وسوسہ اس پر کم اثر کرتا ہے۔
ملک الناس اور کنٹرول چھوڑنے کی مشق
آج کا انسان سب کچھ کنٹرول کرنا چاہتا ہے: * رشتے * حالات * مستقبل * لوگوں کی رائے یہی کنٹرول کی خواہش وسوسے کو طاقت دیتی ہے۔ عملی اطلاق یہ ہے کہ: * ہر بات اپنے ہاتھ میں رکھنے کی ضد چھوڑ دیں * نتیجہ اللہ پر چھوڑنے کی عادت ڈالیں * کوشش اور نتیجے کے درمیان فرق سمجھیں یہ عمل دل کو ہلکا کر دیتا ہے۔
الٰہ الناس اور تعلق کی اصلاح
وسوسہ وہاں آتا ہے جہاں دل خالی ہو۔ اگر دل: * صرف لوگوں سے جڑا ہو * صرف تعریف سے جیتا ہو * صرف کامیابی پر قائم ہو تو وسوسہ آسانی سے داخل ہو جاتا ہے۔ الٰہ الناس کا عملی مطلب یہ ہے: * دل کا مرکزی تعلق اللہ کے ساتھ ہو * باقی سب تعلقات ثانوی ہوں یہ ترتیب بدل جائے تو وسوسہ خود بخود کمزور ہو جاتا ہے۔
عبادت کو رسم سے تعلق بنانا
آج کی بڑی غلطی یہ ہے کہ عبادت کو: * بوجھ سمجھا جاتا ہے * فہرست کا کام سمجھا جاتا ہے جب عبادت رسم بن جائے تو وسوسہ بڑھ جاتا ہے۔ عملی تبدیلی یہ ہے: * کم عبادت مگر شعور کے ساتھ * الفاظ کم مگر توجہ زیادہ * دل حاضر، جسم ثانوی ایسی عبادت وسوسے کو خاموش کر دیتی ہے۔
سوشل زندگی اور وسوسے سے حفاظت
آج وسوسہ زیادہ تر: * موازنہ * دکھاوے * دوسروں کی زندگی دیکھ کر آتا ہے۔
عملی اطلاق: * ہر چیز دیکھنا ضروری نہیں * ہر رائے سننا ضروری نہیں * ہر مقابلہ قبول کرنا ضروری نہیں خاموشی بھی ایک حفاظت ہے۔
خاندان اور رشتوں میں سورۃ الناس کا اطلاق
گھر وہ جگہ ہے جہاں وسوسہ یا تو ختم ہوتا ہے، یا بڑھتا ہے۔
عملی اقدامات: * بات کرتے وقت نیت پر نظر * تنقید کم، دعا زیادہ * موازنہ ختم ایسا گھر وسوسے کی آماجگاہ نہیں بنتا۔
بچوں کی تربیت اور وسوسے سے حفاظت
بچوں کو وسوسے سے بچانے کا مطلب یہ نہیں کہ: * انہیں ہر مشکل سے بچا لیا جائے بلکہ یہ ہے کہ: * انہیں سوچنا سکھایا جائے * خوف سے نمٹنا سکھایا جائے * خود کو کمتر نہ سمجھنا سکھایا جائے یہ سب سورۃ الناس کے عملی ثمرات ہیں۔
وسوسہ آئے تو خود کو الزام نہ دیں
یہ بہت اہم نکتہ ہے۔ وسوسہ آنا گناہ نہیں، وسوسے پر رک جانا گناہ ہے۔ جو شخص وسوسے پر شرمندہ ہو جاتا ہے، وہ دوسرا وسوسہ پال لیتا ہے۔ سورۃ الناس انسان کو الزام نہیں دیتی، وہ اسے پناہ دیتی ہے۔
مسلسل پناہ — ایک وقتی عمل نہیں
سورۃ الناس کوئی ایک لمحے کی دعا نہیں، یہ **مسلسل رجوع** کا سبق ہے۔ جیسے سانس بار بار آتا ہے، ویسے ہی پناہ بار بار مانگی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سورۃ قرآن کے آخر میں ہے، تاکہ انسان جاتے جاتے یہ بات نہ بھولے۔
خلاصہ: ایک زندہ سورۃ
سورۃ الناس ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ: * دشمن ہمیشہ باہر نہیں ہوتا * سب سے خطرناک حملہ اندر سے ہوتا ہے * اور سب سے محفوظ پناہ اللہ کی ہے جو شخص سورۃ الناس کو: * سمجھے * اپنائے * اور جئے وہ وسوسوں کے شور میں بھی اپنا راستہ نہیں کھوتا۔
![]()

