جب ایٹمز خالی ہیں تو ہم دیوار کے آر پار کیوں نہیں ہو سکتے؟
تحریر۔۔۔عبد السلام
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحریر۔۔۔عبد السلام)اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ اگر ایٹم 99.99 فیصد خالی ہے تو پھر ہم مادے کو ٹھوس چیز کے طور پر کیوں محسوس کرتے ہیں۔ ہم آسان طریقے سے سمجھانے کے لئے ایک ٹھوس دیوار فرض کر لیتے ہیں۔ دیوار میں ہزاروں قسم کے مالیکیولز ہوتے ہیں اور ان مالیکولز میں ایٹم ہوتے ہیں اور ان ایٹموں میں الیکٹران اور نیوکلیس ہوتا ہے۔ جدید سائنس کے اعتبار سے الیکٹران ایک پوائنٹ پارٹیکل اور ویو wave دونوں کی خصوصیات رکھتا ہے۔ پوائنٹ پارٹیکل ہونے کے اعتبار سے ان کا کوئی سائز نہیں ہوتا یعنی جب ان کا سائز ہی نہیں ہے تو ان کو ٹھوس چیز مانا ہی نہیں جاسکتا۔ اور اگر ویو مانا جائے تو پھر یہ بھی کوئی ٹھوس اور مادی چیز نہیں ہوئی۔ نیوکلیس کے اندر پروٹون اور نیوٹران ہوتے ہیں اور ان کے اندر کوارکس پارٹیکلز۔ کوارکس بھی پوائنٹ پارٹیکل اور ویو کی خصوصیات رکھتے ہیں۔ یعنی اوپر والی مثال میں جو خصوصیات الیکٹران کی بتائی گئی ہیں وہ کوارکس پر بھی لاگو ہوتی ہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ ایک پوری دیوار جس کو ہم ایک سخت اور ٹھوس چیز سمجھ رہے ہیں وہ لہروں یا پوائنٹ پارٹیکل کا مجموعہ ہے جس میں بظاہر کچھ بھی ٹھوس نہیں۔ لیکن یہاں یہ نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ ذرات ایک خاص زمرے سے تعلق رکھتے ہیں جسے فرمیون کہتے ہیں، جن پر کوانٹم میکینکس کا ایک بنیادی قانون Pauli Exclusion Principle لاگو ہوتا ہے. اس اصول کے تحت دو ایک جیسے فرمیون جیسے الیکٹران ایک ہی وقت میں ایک ہی کوانٹم حالت Quantum State میں نہیں رہ سکتے۔ جب ایٹم ایک دوسرے کے بہت قریب آنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کے الیکٹران کے ویو فنکشن کے دائرہ کار آپس میں overlap یا باہمی تداخل کرنے لگتے ہیں۔ چونکہ قدرت کا قانون پاؤلی کا اصول دو الیکٹرانوں کو ایک ہی حالت میں یکجا ہونے سے روکتا ہے اس لیے جگہ کی تنگی کی وجہ سے یہ الیکٹران میں حرکی اشتعال پیدا ہوتا ہے۔ حرکت کی اسی زیادتی اور پھیلاؤ کی کوشش سے ایک زبردست دباؤ جنم لیتا ہے جسے ڈی جنریسی پریشر یا Degeneracy pressure کہا جاتا ہے۔ یہی دباؤ ایٹمز کو آپس میں پچکنے نہیں دیتا اور اسی دباؤ کی وجہ سے ہمیں ٹچ کرنے یا چھونے کا احساس ہوتا ہے۔ دوسری طرف یہ ذرات ایک دوسرے سے بہت زیادہ دور اس لیے نہیں جا سکتے کیونکہ برقی مقناطیسی قوت یعنی Electromagnetic Force منفی چارج والے الیکٹران کو مثبت چارج والے نیوکلیس کے ساتھ باندھے رکھتی ہے، بالکل اسی طرح نیوکلیس کے اندر اسٹرانگ نیوکلیئر فورس کوارکس کو جوڑے رکھتی ہے۔ پس کھینچنے والی قوتوں اور پاؤلی کے اصول کی وجہ سے پیدا ہونے والی دھکیلنے والی قوت کے درمیان ایک توازن قائم ہو جاتا ہے جو ایٹم کو اس کا حجم اور پائیداری دیتا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ایٹم کے ذرات میں کلاسیکل معنوں میں حجم نہ ہونے کے باوجود ایٹم کس طرح اپنا حجم برقرار رکھتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر دیوار کوئی ٹھوس چیز ہے ہی نہیں تو پھر ہم کیوں اس میں سے گذر نہیں سکتے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم بھی انہیں ذرات سے بنے ہوئے ہیں اور جب ہمارا ہاتھ دیوار کے قریب جاتا ہے تو ہمارے ہاتھ کے ایٹموں کے الیکٹران اور دیوار کے ایٹموں کے الیکٹران اسی پاؤلی کے اصول اور برقی مقناطیسی قوت کی وجہ سے شدید مزاحمت پیدا کرتے ہیں۔ چونکہ ہم ذرات کی اس تنظیم سے نہیں گذر سکتے یا چونکہ ذرات کی اس تنظیم کو توڑنے کے لئے انرجی لگانا پڑتی ہے تو اس لئے ذرات کی اس تنظیم اور مزاحمت کو ہمارا دماغ ٹھوس مادے کے طور پر باور کراتا ہے۔ یعنی کسی چیز کا ٹھوس مادے کے طور پر محسوس کرنا ہمارے دماغ کی تعمیر ہے۔ البتہ خیال رہے کہ ہم اس بنیاد پر مادے کو معدوم نہیں سمجھ سکتے، کلاسیکل سطح پر مادہ اپنی قابل پیمائش حجم اور ماس رکھتا ہے، اس لیے اس کو ہم کلاسیکل سطح پر ایک macroscopic حقیقت ہی مانتے ہیں، البتہ جب ہم کوانٹم سطح پر اس کی حقیقت جاننا چاہتے ہیں تو یہ ایک فریب یا illusion محسوس ہوتا ہے۔ اتنا ہی نہیں ٹھوس مادے کو محسوس کرنے کا عمل ہمیں دماغ کے بیرون سے فیلڈز اور قوتوں کے بارے میں ایک مفید انفارمیشن دے رہا ہے جس کی بنا پر ہم فیصلے لے سکتے ہیں۔
![]()

