ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )مابعد الطبیعیات (Metaphysics) دراصل فلسفے کی وہ قدیم ترین شاخ ہے جو ان سوالات کے جواب تلاش کرتی ہے جہاں سائنس کی سرحدیں ختم ہو جاتی ہیں۔
اب سوال یہاں یہ بنتا ہے کیا یہ خالص سائنسی علم ہے تو اس کا جواب ہے نہیں، یہ خالص سائنسی علم نہیں ہے
یاد رکھیں سائنس کا تعلق ان چیزوں سے ہوتا ہے جنہیں ہم اپنی پانچ حواس خمسہ جیسے سماعت، بصارت وغیرہ سے محسوس کر سکیں، تجربہ کر سکیں اور جنہیں ریاضی یا آلات سے ناپا جا سکے۔میٹا فزکس کا تعلق ان تصورات سے ہے جڑا ہوا ہے جو “مادی دنیا” سے پرے ہیں۔ اسے اردو میں ہم لوگ مابعد الطبیعیات کہتے ہیں
میٹا فزکس کن موضوعات پر بحث کرتی ہے؟ تو یہ علم تین بنیادی سوالات کے گرد گھومتا ہے۔
اس کا پہلا سوال وجود کیا ہے؟ کیا مادہ اصل حقیقت ہے یا روح/شعور؟ کیا کائنات کا کوئی خالق ہے؟
اس کا دوسرا سوال وقت کیا ہے؟ کیا وقت کا کوئی آغاز اور انجام ہے؟
اس کا تیسرا سوال انسانی سوچ اور جسم کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ کیا شعور دماغ کے کیمیکلز سے پیدا ہوتا ہے یا یہ کوئی آزاد چیز ہے؟
اگرچہ یہ علم سائنس نہیں ہے، لیکن یہ سائنس کی بنیاد ضرور ہے۔تاریخ میں بہت سے سائنسی نظریات پہلے میٹا فزیکل تصورات ہی تھے۔ مثلاً قدیم یونانی فلسفیوں نے جب ایٹم کا تصور دیا، تو وہ میٹا فزکس تھی کیونکہ تب اسے ثابت کرنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔جب ٹیکنالوجی نے ترقی کی اور ہم نے ایٹم کو دیکھ لیا، تو وہ فزکس یعنی سائنس بن گیا۔
آج بھی بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟ یا متوازی کائناتیں Parallel Universes جیسے موضوعات فزکس اور میٹا فزکس کے درمیان کی سرحد پر واقع ہیں۔
اب سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے تو پھر میٹا فزکس کی اہمیت کیوں ہے ؟ دراصل یہ علم انسان کو “کیوں” (Why) کا جواب ڈھونڈنے میں مدد دیتا ہے۔ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات کیسے کام کرتی ہے، جبکہ میٹا فزکس یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کائنات موجود ہی کیوں ہے؟ یہ علم فلسفے کا ایک کافی گہرا علمی شعبہ ہے جس نے ارسطو، ابن سینا، اور کانٹ جیسے بڑے مفکرین کو جنم دیا۔۔
![]()

