قارئینِ محترم کے نام تشکر، دعا اور دل سے نکلی ہوئی چند باتیں
**(ختمِ قرآن کے بعد — ایک روحانی ہم سفر کی حیثیت سے)**
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )تمام تعریفیں اُس اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنے کلام سے ہمیں جوڑا، جس نے لفظوں کے ذریعے دلوں کو زندہ کیا، اور جس نے پڑھنے، سمجھنے، رکنے اور رونے کی توفیق عطا فرمائی۔ ختمِ قرآن کی اس بابرکت ساعت کے بعد یہ چند سطریں کوئی رسمی شکریہ نہیں، بلکہ ایک ایسے دل کی آواز ہیں جو آپ سب کے ساتھ اس روحانی سفر میں شریک رہا۔
شکرگزاری — لفظوں سے آگے کی بات
میں دل کی گہرائی سے آپ تمام قارئین کا شکر ادا کرتی ہوں جنہوں نے اس سفر میں
وقت نکالا، دل لگایا، سوچا، رکے، اور اپنے باطن کو قرآن کے سامنے حاضر کیا۔ یہ شکر
صرف پڑھ لینے پر نہیں، بلکہ اس نیت پر ہے کہ آپ نے قرآن کو صرف تلاوت نہیں،
بلکہ رہنمائی سمجھ کر پڑھا۔
یہ شکر
اس خاموش تعلق پر ہے جو لفظوں کے درمیان بنا، جہاں نہ ہم ایک دوسرے کو جانتے تھے، نہ دیکھتے تھے، مگر دل ایک سمت میں جھک رہے تھے۔
دعا — آپ سب کے لیے، دل سے
اے اللہ! جن آنکھوں نے یہ سطور پڑھیں ان آنکھوں کو نور عطا فرما۔ جن دلوں نے
ان آیات پر ٹھہر کر سوچا ان دلوں کو زندگی بھر کے لیے قرآن سے جوڑ دے۔
اے ربِّ کریم! جو قارئین اپنے گھروں میں اکیلے تھے، انہیں تنہائی میں اپنا قرب محسوس کرا دے۔ جو زندگی کے بوجھ تلے دبے تھے، ان کے بوجھ ہلکے کر دے۔ جو راستہ ڈھونڈ رہے تھے، انہیں سیدھا راستہ دکھا دے۔
پڑھنے والوں کے لیے خاص دعا
اے اللہ! جنہوں نے صرف ایک صفحہ پڑھا، یا ایک ہی تحریر، تو اسے بھی ضائع نہ جانے دینا۔ تو نیتوں کو دیکھتا ہے، الفاظ کی گنتی نہیں۔ اے اللہ! جس نے جہاں سے بھی
اپنے دل کا دروازہ کھولا، وہیں سے ہدایت کی روشنی داخل فرما دے۔
سنجیدہ قاری، خاموش قاری، دور بیٹھا قاری
اے اللہ! جو قارئین خاموشی سے پڑھتے رہے، تبصرہ نہ کیا، اظہار نہ کیا، مگر دل میں اثر لیا— اے اللہ! تو ان کے دل کی کیفیت کو جانتا ہے۔ ان کے لیے وہ قبولیت لکھ دے
جو شور سے نہیں اخلاص سے ملتی ہے۔
اس سفر کا اصل مقصد
یہ تمام تحریریں کسی علم کی نمائش نہیں تھیں، کسی فکری برتری کا دعویٰ نہیں تھا۔ یہ ایک طالبہ کی طرف سے دوسرے طالبوں کے ساتھ قرآن کے سائے میں بیٹھنے کی کوشش تھی۔ اگر کہیں کوئی لفظ دل کو لگا، کوئی سطر آنکھ نم کر گئی، کوئی خیال زندگی بدلنے کا سبب بنا— تو اے اللہ! اسے اپنی طرف سے قبول فرما۔
میری طرف سے دعا — دل کے آخری گوشے سے
اے اللہ! جن قارئین نے اس سلسلے کو مکمل کیا، انہیں قرآن کا ساتھی بنا دے۔ جنہوں نے آدھا پڑھا، انہیں باقی کی توفیق دے دے۔ جنہوں نے پڑھ کر رکنے کا ارادہ کیا، انہیں چلنے کی ہمت دے دے۔
رشتہ — تحریر کا نہیں، نیت کا
میرا آپ سب سے کوئی دنیاوی رشتہ نہیں، نہ پہچان، نہ ملاقات، نہ ناموں کا تعارف۔ مگر قرآن کے گرد بیٹھے ہوئے ہم سب ایک رشتے میں بندھ گئے ہیں۔ یہ رشتہ لفظوں سے نہیں، نیتوں سے بنتا ہے۔
اختتامی دعا — سب کے لیے ایک ساتھ
اے اللہ! ہم سب کو قرآن کا اہل بنا دے۔ ہمیں صرف پڑھنے والا نہیں، بلکہ قرآن کے مطابق جینے والا بنا دے۔ ہم جہاں بھی ہوں، جس حال میں بھی ہوں، قرآن کو ہم سے جدا نہ ہونے دینا۔
یہ چند کلمات ایک بندۂ عاجز کی طرف سے آپ سب کے لیے تشکر، دعا اور خیر خواہی کا پیغام ہیں۔ اللہ آپ سب کو دنیا میں سکون، قبر میں نور، اور آخرت میں قرآن کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین یا ربَّ العالمین — **SEHRI**
![]()

