راولپنڈی: تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ ہمارے لیے نظام ساکت ہوچکا ہے، لگ رہا ہے 2026 بھی سزاؤں کا سال ہوگا،صاحب اقتدار لوگ کوئی طریقہ نکالیں تاکہ حالات بہتر ہوں۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہرعلی خان نے اڈیالہ جیل داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہر منگل کو یہاں آتے ہیں مقررہ وقت تک انتظار کے بعد واپس چلے جاتے ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ملاقات کی بھیک مانگنے میں دوسروں کے ساتھ اپنوں کا بھی ہاتھ ہے، تحریک جس شدت سے بھی چلے مذاکرات کا کوئی نعم البدل نہیں، مذاکرات اس طرح سے آگے نہیں بڑھ رہے جو حالات کا تقاضا ہے، صاحب اقتدار لوگوں سے درخواست ہے اس ملک پر کوئی ترس کھائیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہاکہ ہمارے لیے نظام ساکت ہوچکا ہے، ورنہ ہم یہاں روز کھڑے نہ ہوتے، ہم نئے سال میں داخل ہورہے ہیں، لگ رہا ہے 2026 بھی سزاؤں کا سال ہوگا۔صاحب اقتدار لوگ کوئی طریقہ نکالیں تاکہ حالات بہتر ہوں۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سمیت ہمارے 16 ارکان پارلیمنٹ کو سزا ہوئی، دشمن کے ساتھ سیز فائر ہوا ہمارا آپس کا تناؤ ختم نہیں ہورہا۔
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی نے کبھی مذاکرات کال آف نہیں کیے، میرے پاس بانی کی ایسی کوئی ہدایات نہیں آئی کہ آج کے بعد کوئی بات نہیں ہوگی، اسٹریٹ موومنٹ سے متعلق بانی نے ہدایات ضرور دی ہیں، اسٹریٹ موومنٹ ہوگی احتجاج ہمارا آئینی حق ہے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کا لاہور دورے میں پارٹی کی مشاورت نہیں تھی، یہ بانی کی ہدایات تھیں، پارٹی کو یہ ہدایات ہیں مذاکرات کا اختیار محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہماری ملاقاتیں پہلی بھی ہوتی رہیں اچانک کیوں رکاوٹیں ڈالی گئیں، کم سے کم بشریٰ بی بی کی ملاقات کی اجازت دی جائے۔
![]()
