قرآن میں وقت کا تصور اور جدید فزکس
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )قرآن مجید میں وقت کو محض گھڑی یا دن
رات کی گردش تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اسے ایک نسبتی (Relative) حقیقت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ جدید فزکس، خصوصاً آئن اسٹائن کی Theory of Relativity، یہ بتاتی ہے کہ وقت ہر جگہ یکساں نہیں گزرتا بلکہ رفتار، کششِ ثقل اور مقام کے ساتھ بدلتا ہے — اور حیرت انگیز طور پر قرآن اس تصور کی طرف واضح اشارے دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اور بے شک تمہارا رب کا ایک دن تمہاری گنتی کے ہزار برس کے برابر ہے”
(سورۃ الحج: 47)
ایک اور مقام پر ارشاد ہے:
“فرشتے اور روح اس کی طرف چڑھتے ہیں ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے”
(سورۃ المعارج: 4)
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ مختلف جہات (Dimensions) میں وقت کی رفتار مختلف ہو سکتی ہے۔ جدید سائنس کے مطابق، اگر کوئی شے روشنی کی رفتار کے قریب سفر کرے تو اس کے لیے وقت سست ہو جاتا ہے — یہی تصور Time Dilation کہلاتا ہے۔
مزید یہ کہ قرآن میں نیند کو “موتِ صغریٰ” کہا گیا، جو انسانی شعور کے وقت سے کٹ جانے کی علامت ہے:
“اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت اور جو نہیں مریں ان کو نیند میں قبض کر لیتا ہے”
(سورۃ الزمر: 42)
یہ سب دلائل اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ قرآن وقت کو Absolute نہیں بلکہ Relative مانتا ہے — وہی بات جو سائنس نے بیسویں صدی میں دریافت کی۔
قرآن کسی سائنسی کتاب کا دعویٰ نہیں کرتا، مگر جب سائنس اپنے عروج پر پہنچ کر قرآن کے بیانات سے ہم آہنگ ہوتی ہے تو یہ وحی کے الٰہی ہونے کی مضبوط دلیل بن جاتا ہے۔
#قرآن_اور_سائنس #وقت_کا_تصور #Relativity #سائنس_قرآن #ایمان_اور_عقل
![]()

