۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عارفانہ کلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاعر ۔۔۔۔۔ ناصر نظامی ( گولڈ میڈلسٹ )
ہر لمحے محو گفتگو رہتا ہوں
خدا سے———-
کون کہتا ہے—–
ملاقات نہیں ہوئی
بات– نہیں۔ ہوتی
ہر نظر میں— نظر آ تا ہے خدا
کون کہتا ہے —
نظر —- نہیں آ تا ———–
محسوس کرو—— اس کو—
محسوس کرنے سے———–
جیسا تصور کرو —- تصویر بن جاتا ہے
جیسا گمان کرو—–
ویسا گمان بن جاتا ہے ——-
ہر راز کا—- راز دان بن جاتا ہے——
چاہو جو اسے —-
چاہت کا سمندر بن جاتا ہے———
بھٹکو— اگر منزل سے— منزل بن جاتا ہے
بولوں—- اگر میں—- میری آ واز بن جاتا ہے
کبھی سوچو اسے تو— میرے خیالات بن جاتا ہے
کبھی—- مکاں سے—- لا مکاں بن جاتا ہے
کبھی—- زمیں—- کبھی —- آ سمان بن جاتا ہے
کبھی—– دن کا اجالا —–کبھی— رات
کبھی — رات کی—- سیاہی— بن جاتا ہے
کبھی——مٹی——سے——- انسان
بن جاتا ہے
کبھی——- جنگل——- بیلوں میں—
ویرانی—— کا—– سماں——
بن ——- جاتا ہے ——————!!!
سو نیا علی
![]()

