Daily Roshni News

یہ ہمارا امتحان ہے ۔۔۔۔۔ انتخاب  ۔۔۔۔۔ میاں عمران

۔۔۔۔۔ یہ ہمارا امتحان ہے ۔۔۔۔۔

انتخاب  ۔۔۔۔۔ میاں عمران

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔۔۔ یہ ہمارا امتحان ہے ۔۔۔۔۔ انتخاب  ۔۔۔۔۔ میاں عمران)نسلوں کا خلیج: بومرز اور جنریشن ذی کے درمیان وہ فاصلہ جو ہم تسلیم نہیں کرنا چاہتے۔ایک گہرا، خاموش اور بڑھتا ہوا فاصلہ ہماری قوم کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ یہ فاصلہ عمر کا نہیں، سوچ کا ہے۔ تجربے کا نہیں، ترسیل کا ہے۔ اختیار کا نہیں، تفہیم کا ہے۔ بومرز (پیدائش 1946-1964) اور جنریشن ذی (پیدائش 1997-2012) دو مختلف سیاروں کے باسی معلوم ہوتے ہیں، اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ بزرگ نسل اس نوجوان نسل کے ذہن تک پہنچنے کی کوشش ہی ترک کر چکی ہے۔

وہ دیوار جو ہم نے خود کھڑی کی

بومرز نے سختی، فرمانبرداری اور “جی حضوری” کو نظم و ضبط کا نام دے کر نوجوانوں کے سروں کو جھکا دیا ہے، لیکن کیا ان کے ذہن بھی جھک گئے؟ ہرگز نہیں۔ جنریشن ذی کے ذہن آزاد ہیں، تنقیدی ہیں اور ان کے پاس اپنے وسائل کی طاقت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری طاقت کے بل بوتے پر ہم ان کی منزلیں تعمیر کر دیں گے، لیکن یہ وہم ہے۔ یہ نسل اپنی منزل خود چننا چاہتی ہے، اور اگر ہم نے راستہ نہ دیا تو یہ خاموشی سے نکل جائے گی، یا پھر اپنی راہیں الگ کر لے گی۔

جنریشن ذی: وہ نسل جو ہمارے سامنے ہے مگر ہماری سمجھ سے پرے ـــــ

یہ نسل:

خاموش احتجاج کرتی ہے:  یہ سڑکوں پر نہیں نکتی، بلکہ سوشل میڈیا کی خاموش گلیوں میں اپنا درد بیان کرتی ہے۔

  • نتیجہ دیکھنا چاہتی ہے: انہیں نعروں، وعدوں اور سیاسی خطابوں سے کوئی سروکار نہیں۔ یہ کام دیکھنا چاہتے ہیں۔

  • اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتی: ان کے پاس “وقت کا زیاں” کرنے کی عیاشی موجود نہیں۔ وہ ترقی یافتہ گردونواح، عملی مواقع اور واضح مستقبل چاہتے ہیں۔

آپ اس نسل سے گھروں میں بھی کبھی تسلی سے بات کر کے تو دیکھیں یقین کریں ۔۔۔۔۔یہ

  • کسی پارٹی کی پابند نہیں: یہ نسل کسی سیاسی جماعت سے عقیدت نہیں رکھتی۔ یہ حقیقت، شفافیت اور عملی حل کی پیرو ہے۔

ہماری سب سے بڑی غلطی: سننے سے انکار

ہماری سب سے بڑی خطا یہ ہے کہ ہم نے انہیں سننا چاہا ہی نہیں۔ جب کبھی کسی نوجوان نے “پلیز ہمیں سنا جائے” کہا، ہم نے اسے بے ادبی، نوجوانی کی جرات، یا سیاسی پروپیگنڈا سمجھا۔ ہم نے انہیں دبانے کے طریقے ڈھونڈے، سمجھنے کے نہیں۔

کچھ عرصہ پہلے تک، ہمارے پاس اختیار تھا۔ آج، ان کے پاس معلومات ہیں۔ اور معلومات، اختیار سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔

ہاتھ ملانے کا وقت آ گیا ہے:

یہ حقیقت ہم جان اور مان لیں تو ہمارے گھروں ہمارے اداروں اور ملکی سطح پر بہتری ہی بہتری ہے۔

  1. سننے کے فورم قائم کریں: بغیر فیصلہ سنائے، بغیر نتیجہ نکالے، صرف سنیں۔ ان کی بے بسی کو سمجھیں۔

  2. سختی کی بجائے ہم آہنگی: نظم و ضبط کے پرانے تصورات کو بدلیں۔ تعاون اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات قائم کریں۔

  3. ان کی زبان سیکھیں: ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور جدید مواصلات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ ان کی دنیا میں داخل ہوں۔

  4. شراکت داری کا تصور: فیصلہ سازی میں ان کی شمولیت کو لازم قرار دیں۔ انہیں پراثر عمل دکھائیں، صرف کہانیاں نہ سنائیں۔

  5. امید دیں اور عملی حل دیں: خالی وعدوں کی بجائے ٹھوس اقدامات کریں۔ روزگار، تعلیم اور معیار زندگی کے حقیقی پروگرام بنائیں۔

آخری بات: درحقیقت ‘یہ ہمارا امتحان ہے

یہ جنریشن ذی ہمارا مستقبل ہے، ہماری اولادیں ہیں۔ اگر ہم نے انہیں سمجھنے، ان کے ساتھ چلنے کی کوشش نہ کی، تو وہ ہمیں پیچھے چھوڑ دیں گے۔ اور اس وقت ہماری “اوقات دو کوڑی کی رہ جائے گی”۔

یہ نسل راہ فرار اختیار کر رہی ہے – خاموشی سے ملک چھوڑ رہی ہے، اپنے خواب چھوڑ رہی ہے، یا پھر اندر ہی اندر مر رہی ہے۔ انہیں فرار کی نہیں، راہنمائی کی ضرورت ہے۔ محبت کی ضرورت ہے۔ سننے اور سمجھے جانے کی ضرورت ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی آنکھیں کھولیں، اپنے کانوں کو کھولیں، اور اپنے دل کو وسیع کریں۔ یہ جنریشن ہمارا ہاتھ پکڑنے کے لیے تیار ہے، شرط صرف یہ ہے کہ ہم ان کا ہاتھ دبانے کی بجائے، انہیں تھام لیں۔

آخر میں پھر کہوں گی :

وقت ہے غورو فکر کا ۔۔اس جنریشن سے ھاتھ ملانے کا۔

Loading