۔۔۔۔۔ ایمان کی یاد دہانی ۔۔۔۔۔
انتخاب ۔۔۔۔۔ میاں عاصم محمود
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ ایمان کی یاد دہانی ۔۔۔۔۔ انتخاب ۔۔۔۔۔ میاں عاصم محمود)قیامت کا دن اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک عظیم مظہر اور وعدہ ہے، جس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا: “وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ” (سورۃ لقمان، آیت 34)۔ یعنی کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا کرے گا اور کس زمین میں مرے گا۔ تاہم، نبی کریم ﷺ نے احادیث میں قیامت کی نشانیاں بیان کی ہیں، جو چھوٹی (صغریٰ) اور بڑی (کبریٰ) میں تقسیم ہیں۔ چھوٹی نشانیاں قیامت سے پہلے رونما ہوتی ہیں اور بعض ہو چکی ہیں، جبکہ بڑی نشانیاں قیامت کے بالکل قریب ہوں گی۔
قرآن مجید میں قرب قیامت کی نشانیاں
قرآن مجید میں قیامت کی نشانیوں کا صریح ذکر نہیں، البتہ بعض آیات سے اشارے ملتے ہیں:
سورۃ الانبیاء (آیت 96): “حَتَّىٰ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ”۔ یعنی جب یاجوج و ماجوج کھول دیے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے امڈ کر آئیں گے۔ یہ بڑی نشانی ہے۔
سورۃ الکہف: یہ سورت دجال کے فتنے سے حفاظت کے لیے ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس کی پہلی یا آخری دس آیات پڑھنے سے دجال کے فتنے سے نجات ملے گی۔
سورۃ الدخان (آیت 10-11): “فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ يَغْشَى النَّاسَ ۖ هَٰذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ”۔ یعنی اس دن کا انتظار کرو جب آسمان سے واضح دھواں آئے گا جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا۔ یہ دھوئیں کی نشانی سے متعلق ہے۔
دیگر آیات جیسے سورۃ الزلزلہ، سورۃ القارعہ میں قیامت کی ہولناکی بیان ہے، لیکن نشانیاں احادیث سے زیادہ واضح ہیں۔
احادیث نبوی میں قرب قیامت کی نشانیاں
احادیث میں نشانیاں تفصیل سے بیان ہیں۔ صحیح مسلم اور بخاری میں حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: “قیامت قائم نہ ہو گی جب تک دس نشانیاں نہ دیکھ لو گے”۔ یہ بڑی نشانیاں ہیں۔ چھوٹی نشانیاں بھی متعدد احادیث میں ہیں۔
چھوٹی نشانیاں (علامات صغریٰ)
یہ نشانیاں قیامت سے پہلے رونما ہوتی ہیں اور بعض ہو چکی ہیں یا جاری ہیں۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے 72 نشانیاں بیان کیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
نمازوں کا ضائع ہونا اور اہتمام کا ختم ہونا۔
امانت میں خیانت کا عام ہونا۔
سود کا کھلے عام کھانا۔
جھوٹ کو جائز سمجھنا اور عام ہونا۔
معمولی باتوں پر خونریزی اور قتل کا بڑھنا۔
علم کا اٹھ جانا اور جہالت کا پھیلنا (حدیث بخاری: “قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ علم اٹھ جائے گا اور جہالت غالب آجائے گی”)۔
زنا کا عام ہونا۔
شراب نوشی کا دور دورہ۔
مردوں کی کمی اور عورتوں کی کثرت (حتیٰ کہ ایک مرد پچاس عورتوں کا کفیل ہوگا، حدیث بخاری نمبر 81)۔
زلزلے، قحط، فتنے اور جنگوں کا بڑھنا۔
عرب میں بلند عمارتیں بننا اور غلاموں کا حکمرانی کرنا۔
بیت المقدس کی فتح، طاعون کا پھیلنا (جو ہو چکے ہیں)۔
یہ نشانیاں مسلسل رونما ہو رہی ہیں اور امت کو بیدار کرتی ہیں۔
بڑی نشانیاں (علامات کبریٰ)
یہ دس نشانیاں قیامت کے قریب ہوں گی اور ان کے بعد قیامت قائم ہو جائے گی۔ حدیث مسلم میں ہے: “دھوئیں کا، دجال کا، زمین کے جانور کا، سورج کے مغرب سے نکلنے کا، عیسیٰ بن مریم کے ظہور ہونے کا، یاجوج ماجوج کا، تین خسف (زمین کا دھنسنا: مشرق، مغرب، جزیرہ عرب میں)، اور آخری میں یمن سے آگ کا نکلنا جو لوگوں کو محشر کی طرف ہانکے گی”۔
دجال کا خروج: ایک کانا جھوٹا مسیح جو فتنہ پھیلائے گا اور اللہ ہونے کا دعویٰ کرے گا۔ اس کا فتنہ سب سے بڑا ہوگا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور: وہ دجال کو قتل کریں گے اور اسلام کو غالب کریں گے۔
یاجوج و ماجوج کا خروج: غارت گر قومیں جو تباہی پھیلائیں گی اور اللہ کے حکم سے ہلاک ہوں گی۔
دھواں (دخان): آسمان سے دھواں جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا۔
دابۃ الارض (زمین کا جانور): ایک عجیب جانور جو لوگوں سے بات کرے گا اور ایمان کی مہر لگائے گا۔
سورج کا مغرب سے طلوع: اس کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا۔
تین خسف: زمین کا دھنسنا مشرق، مغرب اور جزیرہ عرب میں۔
یمن سے آگ کا نکلنا: جو لوگوں کو میدان محشر کی طرف لے جائے گی۔
امام مہدی کا ظہور: دجال سے پہلے، جو عدل قائم کریں گے (بعض احادیث میں بڑی نشانیوں میں شمار)۔
قرآن کا اٹھ جانا: لوگوں کے سینوں اور مصاحف سے قرآن مٹ جائے گا۔
ان نشانیوں کی ترتیب میں دجال،حضرت عیسیٰ علیہ السلام، یاجوج ماجوج وغیرہ معلوم ہیں، باقی غیر مرتب۔
یہ نشانیاں ایمان کی یاد دہانی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان فتنوں سے محفوظ رکھے اور اعمال صالحہ کی توفیق دے۔
آمین ثم آمین
![]()

