اسلام میں مذہبی فکر کی تعمیر نو
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ اسلام میں مذہبی فکر کی تعمیر نو)روئے زمین پر انسان کے حاصلات میں افضل اور مفید ترین حاصل (Achievement) کتاب ہے۔ کتاب ایسا بیش بہا خزانہ ہے جس کی بدولت انسان نے قدرت کے سربستہ رازوں کو کھولا اور ان پر پڑے پر دے اٹھاد ہے۔ اس کے ذریعہ مختلف دریافتیں ہوئیں۔ اس کی بدولت انسان نے ہوا کو مسخر کیا، سمندر کی اتاہ گہرائیوں کا کھوج لگایا، ہزاروں میل کے فاصلوں کو قابو میں کیا۔ کتاب کی بدولت آج دنیا کی وسعتیں انسان کے سامنے سمٹ کر رہ گئی ہیں۔ اکیسویں صدی کی گلو بلائنڈو نیاکی گہما گہمی میں انسان کا کتاب سے تعلق ٹوٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ملک و قوم کی ترقی کے لیے ذوق کتب بینی کو فروغ دینا بہت ضروری ہے۔ اس مقصد کے پیش نظران صفحات پر ہر ماہ مختلف موضوعات پر ایک معیاری کلاسک کتاب کا تعارف پیش کیا جائے گا۔
بیسویں صدی کے فلسفی، شاعر اور مفکر اقبال بر صغیر پاک و ہند اور گردو نواح میں اردو اور فارسی ادب کے حوالے سے اور اپنے نظریات کے حوالے سے ایک بہت بلند مقام کے حامل ہیں۔ پاکستان کے قومی شاعر ، مفکر اسلام، علامہ محمد اقبال نے جہاں اپنے شاندار افکار و خیالات اور بے مثال شاعری کے ذریعے بر صغیر کی مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونکی، وہیں وہاں اپنے خطبات کے ذریعے انہوں نے اسلامی فکر پر ایک نیا نقطہ نظر پیش کیا۔ علامہ اقبال کی اہم تصانیف میں سے ایک ہے
Reconstruction of Religious Thought in Islam
یعنی “اسلام میں مذہبی فکر کی تعمیر نو …یہ کتاب اسلامی فلسفہ کے مختلف پہلوؤں مثلاً خدا، انسان، فطرت اور جدید دنیا میں اسلام کے کردار
سے متعلق ان کے خطبات کا مجموعہ ہے۔ علامہ اقبال نے مدراس مسلم ایسوسی ایشن کی دعوت پر 1929 اور 1930 کے درمیان مدراس، حیدر آباد اور علی گڑھ میں اسلامی فلسفہ کے مختلف پہلوؤں پر چھ خطبات دیے۔ پہلے تین خطبات جنوری 1929 میں مدراس، بنگلور، میسور اور حیدر آباد دکن میں ارشاد فرمائے گئے۔ اگلے تین مخطبات نومبر 1929 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں دیے گئے۔ ان چھ خطبات پر مشتمل ایک کتاب پہلی بار 1930 میں لاہور سے شائع ہوئی۔ ساتواں اور آخری مخطبہ 1932 میں تیسری گول میز کانفرنس کے موقع پر ارسطاطیلین سوسائٹی Aristotelian Society لندن کی دعوت پر دیا گیا۔ انگریزی زبان میں دیے گئے یہ ساتوں خطبات 1934ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس برطانیہ سے شائع ہوئے۔
اب تک ان خطبات کے کئی دوسری زبانوں مثلاً اردو فارسی، فرانسیسی، عربی، ترکی، پشتو، بنگالی اور پنجابی وغیر ہ میں ترجمے ہو چکے ہیں۔
علامہ اقبال کے یہ خطبات اسلامی حکمت اور مغربی فلسفہ کا نچوڑ ہیں۔ ان خطبات میں علامہ اقبال نے موجودہ زمانے کے فکری مسائل اور فلسفیانہ موضوعات پر تنقید بھی پیش کی ہے اور مغرب کے جدید علوم کی روشنی میں حکمت اسلامیہ کے بعض اہم مسائل کی تشریح کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ علامہ اقبال کے یہ خطبات اسلامی فلسفہ اور المیات کے شعبے میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ خطبات جدید دور میں مذہب کے کردار پر ایک منفرد تناظر پیش کرتے ہیں۔ اقبال سب سے پہلے، اسلامی فلسفہ پر ایک نیا نقطہ نظر پیش کرتے ہیں۔ علامہ اقبال کے ٹیچرز کی جڑیں قرآن و سنت میں تھیں۔ اقبال مغربی فلسفہ اور سائنس سے بھی اخذ کرتے تھے۔ مشرقی اور مغربی افکار کا یہ انضمام اسلامی فلسفہ میں ایک منفر د شراکت تھا۔
اسلامی فلسفے کی دنیا میں ان خطبات کے مقام کا انداز و اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹر این ماری Dr Annemarie Schimmelنے Gabrial’s Wing اور ڈاکٹر سید حسین نصر نے خطبات کے فارسی ترجمے کے مقدمے میں ران خطبات کو دوسری احیائے علوم الدین کہا ہے۔ یعنی جس طرح حضرت امام غزالی نے احیائے علوم الدین میں اپنے زمانے کے تمام فلسفوں کا جائزہ لیتے ہوئے عقلی اور فلسفیانہ بنیادوں پر اسلام کی برتری ثابت کی تھی، وہی کام اس دور میں علامہ اقبال نے کیا ہے۔ علامہ اقبال کے یہ خطبات علم و حکمت کا گراں
بہا خزانہ ہیں۔ ان میں مشرق و مغرب کے ڈیڑھ سو سے زائد قدیم و جدید فلسفیوں، سائنس دانوں، عالموں، فقیہوں اور صوفیا کے اقوال و نظریات کے حوالے پیش کیے گئے اور ان پر عالمانہ بحث کرتے ہوئے تائید یا تردید کی گئی ہے۔ ان خطبات میں روحانیت ، روحانی تجربہ ، وجود باری تعالی کے فلسفیانہ دلائل، تصوف، وجدان، تقدیر، جبر و قدر، زمان و مکان، وحدت الوجود، اسلامی ثقافت، ولایت، نبوت، اجتہاد اور خودی جیسے اہم مذہبی اور فلسفیانہ موضوعات پر قلم اٹھایا گیا ہے۔
علامہ اقبال کے سات خطبات درج ذیل ہیں
-.1 علم اور مذہبی مشاہدات
2 ۔ مذہبی مشاہدات کا فلسفیانہ معیار
3 ۔ خدا کا تصور اور دعا کا مفہوم
4 ۔ انسانی خودی، اس کی آزادی اور لافانیت
-5 اسلامی ثقافت کی روح
6۔ اجتہاد، اسلام میں حرکت کا اصول
7 ۔ کیا مذ ہب کا امکان ہے….؟
پہلے خطبے علم اور مذہبی مشاہدات میں اقبال نے کائنات کی حقیقت اور تغیر پذیری، کائنات میں انسان کا مقام، کائنات اور خدا، کائنات اور انسان، انسان اور خدا کے باہمی رابطہ پر بحث کی ہے اس خطبے میں اقبال نے بتایا ہے کہ مختلف مذاہب میں ظاہر اور باطن، عالم محسوسات اور عالم ارواح کاذکر ہے۔ انسان کا اس کائنات میں مقام خلیفہ اللہ کا ہے۔ قرآن بار بار انفس و آفاق پر غور اور تسخیر کائنات کی طرف انسان کی توجہ دلاتا ہے۔
حقیقت تک رسائی کے لیے علم ضروری ہے اور علم کے تین ذرائع ہیں عقل، حواس اور وجدان ۔۔۔جاری ہے
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ اگست 2023
![]()

