Daily Roshni News

اپنی آنے والی نسلوں کو بچاؤ

اپنی آنے والی نسلوں کو بچاؤ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )مچھلی پانی میں پیدا ہوتی ہےاسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ مسلسل پانی میں رہنا ڈوب کر مرنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

جنات آگ سے بنے ہیں

انہیں کیا خبر کہ آگ جسم کو جلا دیتی ہے۔

کیڑے مکوڑے زمین کے اندر رہتے ہیں

انہیں بھی معلوم نہیں کہ اسی زمین کے نیچے مردے دفن کیے جاتے ہیں۔

بالکل اسی طرح

جب انسان برائی کے ماحول میں پلتا بڑھتا ہے

تو اسے اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ اچھائی کیا ہوتی ہے

اور برائی کب خطرہ بن جاتی ہے۔

مجھے یاد ہے ایک وقت تھا

جب ٹی وی پر کسی جراثیم کش صابن کے اشتہار میں

“بھروسہ” کرنے کی بات کی جاتی

تو یہ فقرہ بہت عجیب لگتا تھا

کیونکہ بھروسہ تو صرف اللہ پر کیا جاتا ہے

کسی صابن پر نہیں۔

لیکن آج

چونکہ پرورش ہی اسکرین کے سامنے ہوئی ہے

اس لیے ایسے جملے اب محض عام الفاظ لگتے ہیں۔

یاد ہے جب شروع شروع میں ڈرامے دیکھے جاتے تھے

تو بہنوں، بیٹیوں کی موجودگی میں

کئی مناظر ناگوار محسوس ہوتے تھے

لیکن آج

ایک صابن کے اشتہار میں

نہاتی ہوئی خاتون دکھائی جائے

تو ہماری بھنوؤں تک میں جنبش نہیں ہوتی۔

کیوں؟

کیونکہ ہم مچھلی کی طرح

پانی میں رہ رہ کر یہ بھول چکے ہیں

کہ یہی پانی ڈوبنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

آج فلمی انداز کے

نیم برہنہ لباس

جب ہم اپنی معصوم بچیوں کو پہناتے ہیں

تو دراصل ہم انہیں اسی ماحول کی طرف دھکیل رہے ہوتے ہیں

جو جسم ہی نہیں

کردار کو بھی جلا دیتا ہے۔

یونیورسٹی میں

لڑکے لڑکیوں کا آزادانہ میل جول

اب والدین کو بھی برا نہیں لگتا

کیونکہ ہم سب

مینڈک کی طرح گرم پانی میں خود کو ڈھالتے جا رہے ہیں۔

تہذیب

جو کسی مذہب اور خطے کی پہچان ہوتی ہے

ہم اسے تاریخ کی کتابوں تک محدود کرتے جا رہے ہیں۔

ٹی وی اسکرین سے

شادی بیاہ اور منگنی کی تقریبات تک

ہم جس ماحول کی طرف بڑھ رہے ہیں

وہ کل تک ہمارے آباؤ اجداد کے لیے

انتہائی قابل نفرت تھا۔

میرے عزیز ہم وطنو

اپنے آپ کو دیکھو

اور اپنی آنے والی نسلوں کو بچاؤ

کہیں ہم خود ہی

اس آگ کا ایندھن تو نہیں بنتے جا رہے

جو کبھی ہمیں جلاتی تھی؟

شرم و حیا

جو مسلمان کے لیے برائیوں کے خلاف ایک مضبوط ڈھال ہے

کہیں ہم یہ ڈھال خود ہی تو نہیں پھینک رہے؟

سوچیں

کہیں ہم وہ بیج تو نہیں بو رہے

جس کی جڑیں کل کو

ہماری ہی عمارت اکھاڑ پھینکیں گی؟

Loading