Daily Roshni News

نیا سال’۔۔۔ تحریر۔۔۔حمیراعلیم

‘ نیا سال’

تحریر۔۔۔حمیراعلیم

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔’ نیا سال’۔۔۔ تحریر۔۔۔حمیراعلیم )یکم جنوری 2026 صرف تاریخ کی تبدیلی کا دن نہیں بلکہ نئی امیدوں اور نئی شروعات کا پیغام ہے۔ہمیں صرف کیلنڈر ہی نہیں بلکہ اپنےرویے، عادات، طرز زندگی بھی بدلنا ہو گا۔اگرچہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے مگر یہاں وسائل اور صلاحیتوں کا فقدان نہیں۔جنہیں بروئے کار لا کر ہم نہ صرف اپنی زندگیوں بلکہ ملک کو بھی بہتر اور خوش حال بنا سکتے ہیں۔

     انفرادی طور پر اگر ہم صحت مند طرز زندگی اپناکر جسمانی اور ذہنی صحت پر توجہ کریں۔بہتر غذا،باقاعدہ ورزش، صفائی کا خیال اور منفی عادات جیسے تمباکو نوشی یا نشہ آور اشیاء سے پرہیز کریں۔ ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ذہنی سکون کے لیے مثبت سوچ، وقت کا درست استعمال اور غیر ضروری دباؤ سے بچنا بھی ضروری ہے۔

   اپنی زندگی اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے کچھ نیا سیکھنے کا عزم کریں۔نہ صرف خود بلکہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کو بھی اس کام کی طرف راغب کریں۔مختلف ہنر، فنی تربیت،  فری لانسنگ، کاروباری صلاحیتیں، آئی ٹی کی تعلیم نہ صرف علم میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں  بلکہ معاشی خوشحالی کا سبب بھی ہوں گے۔اس کے ساتھ ساتھ کچھ چیریٹی کے کاموں کا بھی آغاز کریں۔اپنے قریب رہنے والے ایسے بچوں کو پڑھایں جو کسی بھی وجہ سے اسکول نہیں جا سکتے،کسی غریب یا اسپیشل پرسن کو اس قابل بنا دیں کہ وہ اپنی اور اپنے گھر والوں کی کفالت کر سکے توسماجی انقلاب لا سکتے ہیں۔

   نئے سال میں نوجوانوں کا کردار بھی نہایت اہم ہے کیونکہ نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ آج کا نوجوان اگر سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائع کو مثبت مقصد کے لیے استعمال کرے، جھوٹی خبروں، نفرت انگیز مواد اور غیر ذمہ دارانہ رویّوں سے اجتناب کرے تو ایک باشعور معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔ تعلیمی میدان میں سنجیدگی، تحقیق، جدت اور تخلیقی سوچ کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نوجوان اگر مایوسی کے بجائے خود اعتمادی، محنت اور مستقل مزاجی کو اپنائیں تو وہ نہ صرف اپنے مستقبل کو محفوظ بنا سکتے ہیں بلکہ ملک کی ترقی میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

   کہتے ہیں تبدیلی کا آغاز خود سے کریں۔ دوسروں میں تبدیلی لانے سے پہلے اپنے آپ کو بدلنا لازم ہے ۔اپنے اندر اخلاقی اقدار، سچائی، دیانت داری، برداشت، احترام اور قانون کی پاسداری کو پروان چڑھانا ہو گا۔یہ وہ خوبیاں ہیں جو کسی بھی معاشرے کو مضبوط بناتی ہیں۔ نئے سال میں ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم جھوٹ، رشوت، ملاوٹ اور سفارش جیسے منفی رویّوں سے دور رہیں گے۔ اگر ہر فرد اپنی سطح پر ایمانداری کو اپنائے تو ملک سے بدعنوانی جیسے ناسور کو کم کیا جا سکتا ہے۔

ملکی بہتری کے لیے قوم میں شعور اجاگر کرنا ہو گا کہ پاکستان صرف ایک ملک اور حکمرانوں اور صاحب اختیار لوگوں کی ہی ذمہ داری نہیں  بلکہ ہم عوام کا بھی فرض ہے کہ ہم ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دیں۔ ٹیکس کی ادائیگی، سرکاری املاک کی حفاظت، ٹریفک قوانین کی پابندی اور عوامی مقامات کو صاف رکھنا چھوٹے مگر نہایت اہم اقدامات ہیں جو ایک ذمہ دار شہری کی پہچان ہیں۔اسی طرح مقامی مصنوعات کے استعمال کو فروغ دینا بھی حب الوطنی کی ایک شکل ہے۔

   ہمارا ملک مختلف قومیتوں،  زبانوں اور ثقافتوں کا مجموعہ ہے۔اگر ہم سماجی ہم آہنگی اور اتحاد کو فروغ دیں گے تو تعصب، نفرت، اور تقسیم کی بجائے ایک دوسرے کو قبول کرنے لگیں گے۔ کیونکہ فرقہ واریت اور تعصب ملک کی کمزوری کا سبب بنتے ہیں۔جب کہ اتحاد اس کی مضبوطی میں اضافہ کرتا ہے۔

قائداعظم کا دیا ہوا سنہری اصول :” اتحاد، ایمان اور تنظیم ” آج بھی ہماری رہنمائی کے لیے کافی ہے۔

    ملکی بہتری کے لیے ہمیں اپنے ماحول کو بھی بہتر بنانا ہو گا۔کیونکہ ہمارا ملک ان ممالک میں شامل ہے جوماحولیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ نئے سال میں ہمیں شجرکاری، پانی اور بجلی کے محتاط استعمال، پلاسٹک کے کم استعمال اور صفائی کی عادات کو اپنانا چاہیے۔ اگر ہر فرد ماحول دوست عادات اپنائے تو آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر پاکستان چھوڑا جا سکتا ہے۔

   اور سب سے اہم یہ ہے کہ ہم ہر سال کی طرح محض عزم و خواہش کر کے مطمئن نہ ہو جائیں بلکہ ان سب کو عملی صورت بھی دینی ہو گی۔ورنہ تبدیلی نہیں آ سکتی۔اور یہ بھی یاد رکھنا ہے کہ تبدیلی ایک دن میں اور کسی ایک شخص کے کام کرنے سے نہیں آتی بلکہ اجتماعی اور مسلسل کوششوں سے ہی ممکن ہو گی۔

    اگر ہر پاکستانی یہ ارادہ کر لے کہ وہ ایماندار شہری بنے گا، محنت کرے گا، اپنے علم میں اضافہ کرے گا، اخلاق کو بہتر بنائے گا۔اور ملک کی بہتری کے لیے کردار ادا کرے گا تو یقیناً ہمارا ملک ترقی، امن اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ نیا سال یہی پیغام دیتا ہے کہ پر امید رہو، خود کو بدلو اور پاکستان کو بدلو۔

     ہر قوم مشکلات اور چیلنجز کا شکار ہوتی ہے لیکن جو قومیں ان کو آزمائش سمجھ کر ان کا مقابلہ کرتی ہیں وہی ترقی کرتی ہیں۔

  مایوسی، بے حسی اور شکایت کے بجائے اگر ہم شکر، صبر اور عملی جدوجہد کو اپنائیں تو ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ نیا سال ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم اپنی ناکامیوں سے سبق سیکھیں اور کامیابی کے لیے نئے راستے تلاش کریں۔ آئیں ہم یہ عہد کریں کہ ہم خود بھی بدلیں گے اور دوسروں کے لیے بھی آسانیاں پیدا کریں گے، کیونکہ ایک بہتر فرد ہی ایک بہتر قوم کی تعمیر کرتا ہے۔

Loading