_____ اونچی ذات اور نچلی ذات _____
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )رسول اللہ ﷺ نے ابو ذر رضی اللہ عنہ کو حکمت اور دانائی سے بھرپور چند نصیحتیں فرمائیں یہ تمام نصیحتیں علم و حکمت کے متلاشی کے لیے ایک انمول خزانہ ہیں اس طویل حدیث کے آخر میں میں آپ علیہ السلام نے ابو ذر رضی اللہ عنہ کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا :
“اے ابو ذر! حُسن اَخلاق سے بڑھ کر کوئی حسب نسب نہیں ہے “
[المعجم الکبیر للطبرانی 2/168 ، الترغیب و الترھیب 3/405 ، مشکوۃ 5066 ، تفسیر ابن کثیر2/426 ، کنزالعمال 8734 و تاریخ ابن عساکر 6/358]
یعنی جس کا اخلاق سب سے عُمدہ ہے یہ اس بات کی نشانی ہے کہ اس کا خاندانی پس منظر بھی اچھا ہے، جس کے اخلاق کا گلشن سرسبز و شاداب ہے، اس میں مختلف رنگ اور خوشبو کے پھول لگے ہیں تو یہی وہ شخص ہے جس کی ذات اور سلسلہ نسب سب سے اونچا ہے –
امیہ بن ابی الصلت کا شعر ہے کہ؛
كر يم لا يغير ه صبا ح
عن الخلق الجميل ولا مساء
ترجمہ:” یہ ایسا شریف انسان ہے جسے صبح و شام کی گردش اس کے اچھے اخلاق سے نہیں پھیر سکتی-“
گویا اس کے مخالف جن لوگوں کے اخلاق پست اور طبیعت بدتمیزی اور بد تہذیبی کا گہواہ ہیں وہ سب سے کمتر اور نیچی ذات والے ہیں بظاہر ان کا تعلق کتنی ہی اونچی ذات سے کیوں نہ ہو!!
زھیر بن ابی سلمیٰ اپنے ایک شعر میں کہتے ہیں؛
ومهما تكن عند امرى من خليقة
و ان خالها تخفى على الناس تعلم
ترجمہ: “انسان کے جیسے بھی اخلاق ہوں ان کا لوگوں کو ضرور پتہ چل جاتا ہے خواہ وہ یہ خیال کرے کہ اس کا احوال لوگوں سے مخفی ہے”
جنت میں زیادہ تر لوگ اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے جائیں گے اور جہنم میں اپنی زبان کی وجہ سے :
… آپ ﷺ سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ زیادہ تر جس کی وجہ سے لوگ جنت میں جائیں گے، آپﷺ نے فرمایا: “وہ حسن اخلاق ہے۔”
(مسند احمد 6626)
اچھے اخلاق کے حامل شخص کو جنت میں گھر دیا جائے گا؛
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“میں اس شخص کے لئے جنت کے اطراف میں ایک گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو جھگڑا چھوڑ دے اگرچہ حق پر بھی ہو اور اس شخص کے لئے جنت کے وسط میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو مزاح کے طور پر بھی جھوٹ نہ بولےاور جو اپنے اخلاق کو اچھا کرلے اس کے لئے جنت کے اعلےٰ درجے میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں۔”
(السلسلہ 302)
تحریر: Musa Pasha
![]()

