مُنتخب اشعار :-
مُنتخب اشعار :- میں اُس سے ایک آسماں کی دُوری پر تھا جب تو یہ حکُم ہُوا کہ اِسے پاتال میں پھینکو اظہر ناظؔر ہو جائے عنایتِ حُسن کبھی اِک پل کو ہم بھی جی اُٹھتے ہیں اظہر ناظؔر بھُلا ہی ڈالے ہیں میں نے تِرے دِیے گھاؤ سب پُرانی باتوں کا اب میں تذکرہ …
![]()









