دیم ہاشمی کی یہ غزل جسمانی قربت اور روحانی دوری کے درمیان کشمکش کا ایک دلچسپ بیانیہ پیش کرتی ہے
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )عدیم ہاشمی کی یہ غزل جسمانی قربت اور روحانی دوری کے درمیان کشمکش کا ایک دلچسپ بیانیہ پیش کرتی ہے۔ فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا عدیم ہاشمی کی یہ غزل جسمانی قربت اور روحانی دوری کے درمیان …
![]()









