قطعہ۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی
قطعہ شاعر۔۔۔ناصر نظامی بے دیوار و در بنائے جائیں گے شہر میں یوں گھر بنائے جائیں گے بنیں گے حق پرستوں کے مجسمے لیکن یہ بے سر بنائے جائیں گے ناصر نظامی
![]()
قطعہ شاعر۔۔۔ناصر نظامی بے دیوار و در بنائے جائیں گے شہر میں یوں گھر بنائے جائیں گے بنیں گے حق پرستوں کے مجسمے لیکن یہ بے سر بنائے جائیں گے ناصر نظامی
![]()
غزل احسان دانش یہ تو نہیں کہ تم سے محبت نہیں مجھے اتنا ضرور ہے کہ شکایت نہیں مجھے میں ہوں کہ اشتیاق میں سر تا قدم نظر وہ ہیں کہ اک نظر کی اجازت نہیں مجھے آزادئ گناہ کی حسرت کے ساتھ ساتھ آزادئ خیال کی جرأت نہیں مجھے دوبھر ہے گرچہ جور عزیزاں …
غزل۔۔۔شاعر۔۔۔احسان دانش Read More »
![]()
نیا قطعہ شاعر۔۔۔ناصر نظامی پروفیسر ڈاکٹر شبیر قادری صاحب کے نام ڈاکٹر شبیر قادری کا بلند ہوا مقام سا حر لدھیانوی جی ایوارڈ ہوا ہے ان کے نام ان کے علمی ادبی کارناموں کو ملی پذیرائی ان کی تخلیقی تحقیقی خدمات کا ہے یہ انعام ناصر نظامی ایمسٹرڈیم ہالینڈ
![]()
۔۔۔ کلام ۔۔۔ شاعر ۔۔۔ قتیل شفائی ہم سے بدل گیا وہ نگاہیں تو کیا ہوا زندہ ہیں کتنے لوگ محبت کئے بغیر کھائی تھی جس نے پیار کی جھوٹی قسم کبھی الزام اس کو دیں گے نہ بھولے سے ہم کبھی ہونٹوں پہ کھیلتی ہیں جو آہیں تو کیا ہوا صدمہ یہ جھیلنا ہے …
۔۔۔ کلام ۔۔۔شاعر۔۔۔ قتیل شفائی Read More »
![]()
قطعہ شاعر۔۔۔ناصر نظامی ڈاکٹر شبیر قادری صاحب ذی وقار پروگرام اوراق گل کے ہیں پیش کار صاحب حرف و قلم صاحب دانش کے ساتھ وہ فرماتے ہیں علمی ادبی شخصی گفتار ناصر نظامی ایمسٹرڈیم ہالینڈ
![]()
قطعہ شاعر۔۔۔ناصر نظامی ڈاکٹر شبیر قادری صاحب کے نام کا تمام دنیا میں ہوا ہے چرچا اور شہرہ علمی ادبی تخلیقی اور تحقیقی خدمات پر ساحر لدھیانوی ایوارڈ ہے ان کو ملا ناصر نظامی ایمسٹرڈیم ہالینڈ
![]()
قطعہ کسی کا بچہ روئے، سر میں درد ہوتا ہے اپنا بچہ روئے تو، دل میں ددد ہوتا ہے جس میں جتنی انا اور بے حسی ہوتی ہے اس کا لب و لہجہ ، اتنا ہی سرد ہوتا ہے ناصر نظامیناصر نظامی
![]()
قطعہ شاعر۔۔۔ناصر نظامی عشق جب تک نہ در بدر ہو گا عشق ہرگز نہ معتبر ہو۔ گا محاذ عشق تو تب سر ہو گا تن پہ جب نہ کھڑا یہ سر ہو گا ناصر نظامی
![]()
قطعہ شاعر۔۔۔ناصر نظامی یہ برا وقت بھی ٹل سکتا ہے غم خوشی میں بھی بدل سکتا ئ دست قاتل اگر لرز جائے تیر الٹا بھی تو چل سکتا ہے ناصر نظامیناصر نظامی
![]()
قطعہ تراشنے میں لگے جن کو زمانے اپنے اس نے رخ پھیر لیا درد نہ جانے اپنے جن کو انگاروں سے پھول بنایا ہم نے لگے ہیں پھول وہ اب ہاتھ جلانے اپنے ناصر نظامی
![]()