قطعہ۔۔۔ہم کو اپنا دیا جلانا ہے۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی
قطعہ ہم کو اپنا دیا جلانا ہے شاعر۔۔۔ناصر نظامی ہوا تیز چلے ، یا کمزور یہ تو یارو ، ہوا مسلۂ ہے ہم کو اپنا دیا جلانا ہے یہ ہماری ، بقا کا مسلۂ ہے ناصر نظامی
![]()
قطعہ ہم کو اپنا دیا جلانا ہے شاعر۔۔۔ناصر نظامی ہوا تیز چلے ، یا کمزور یہ تو یارو ، ہوا مسلۂ ہے ہم کو اپنا دیا جلانا ہے یہ ہماری ، بقا کا مسلۂ ہے ناصر نظامی
![]()
غزل شاعر۔۔۔ناصر نظامی گفتگو ان کے ، ساتھ ہوتی ہے لگتا ہے رب سے، بات ہوتی ہے وہ سراپا ہے نور کا پیکر سامنے چاند رات ہوتی ہے میرے چہرے پہ نور آتا ہے خوبصورت،حیات ہوتی ہے فضا پہ وجد طاری ہوتا ہے رقص میں، کائنات ہوتی ہے ان کی جو التیفات ہوتی ہے اپنی …
غزل۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »
![]()
روزے کی حقیقت اگر پانا ہے روزے کی اصل حقیقت کو راز توحید سے خود کو آشکار کرو سحری کرو تم اپنی ہستی کی پہچان سے نور خدا کی تجلی سے افطار کرو ناصر نظامی
![]()
حضرت مریم کا روزہ ناصر نظامی جب ہوئی حضرت عیسی کی ولادت پاک لوگوں نے لگائیں حضرت مریم پہ تہمات وحی نازل ہوئی، کہہ دو اگر کوئی پوچھے مولود سے پوچھو، میں تو ہوں روزے کے ساتھ ناصر نظامی
![]()
قطعہ رحمت اور احسان کا روزہ شاعر۔۔۔ناصر نظامی منہ کا روزہ، آنکھ کا روزہ، کان کا روزہ ہاتھ پاؤں کا روزہ اور زبان کا روزہ دل ہو جائے حرص و ہوس سے مکمل پاک تب ہو گا رب کی رحمت اور احسان کا روزہ ناصر نظامی
![]()
روزے کی حقیقت اگر پانا ہے روزے کی اصل حقیقت کو راز توحید سے خود کو آشکار کرو سحری کرو تم اپنے نفس کی سر کوبی سے نور خدا کی تجلی سے افطار کرو ناصر نظامی
![]()
قطعہ روز کی حقیقت شاعر۔۔۔ناصر نظامی روزہ نہیں فقط کھانے پینے سے ، احتراز روزہ ہے زندگی گزارنے کا اعلی ، انداز روزہ ہے خدا اور بندے کے درمیاں اک ، راز خدا کرے گا عطا، اس کا اجر اور اعزاز ناصر نظامی
![]()
قطعہ لوٹ آیا ہے پھر ماہء رمضان اس میں نازل کیا رب نے قرآن سمیٹ لو اپنے رب کی رحمتیں اپنی بخشش کا تم کر لو سامان ناصر نظامی
![]()
غزل شاعر۔۔۔شہزادتابش اذیت جیسے غربت میں حقیقت بن کے رہتی ہے جہالت ویسے فطرت میں ارادت بن کے رہتی ہے رہائی کا علم لے کر گزاری ہے سلاسل میں اقامت میری فطرت میں بغاوت بن کے رہتی ہے نہ یوں مجھ پر ہنسو عہد نوی کے رازدانوں تم مرے اندر نئی دنیا حرارت بن کے …
غزل۔۔۔شاعر۔۔۔شہزادتابش Read More »
![]()
قطعہ ان کی یادوں کا کرتے ہیں مراقبہ شاعر۔۔۔ ناصر نظامی ان کے نام کے چراغ، جلاتے ہیں خانہء دل کو ، جگمگاتے۔۔۔ ہیں ان کی یادوں کا کرتے ہیں مراقبہ ان کے تصورات میں کھو، جاتے ہیں ناصر نظامی
![]()