تازہ شعر۔۔۔شاعر۔۔ناصر نظامی
تازہ شعر شاعر۔۔ناصر نظامی کہاں گفتار سے بڑے بنتے ہیں لوگ کردار سے بڑے بنتے ہیں ناصر نظامی
![]()
تازہ شعر شاعر۔۔ناصر نظامی کہاں گفتار سے بڑے بنتے ہیں لوگ کردار سے بڑے بنتے ہیں ناصر نظامی
![]()
کراچی میں گاڑی کے حادثہ میں مارے گئے چھ افراد کے نام شاعر۔۔۔ناصر نظامی اے سفاک دل منچلی نتاشا تم نے کھیلا ہے اک خونی تماشا چھ انسانوں کی زندگی چھین کر پاگل ہونے کا بجاتی ہو اب تاشہ ناصر نظامی
![]()
قطعہ نظر بدلے تو نظارہ بدل جاتا ہے سوچ بدلے تو ستارہ بدل جاتا ہے کشتیاں بدلنے سے کچھہ نہیں بدلتا رخ اگر بدلے تو کنارہ بدل جاتا ہے ناصر نظامی
![]()
غزل شاعر۔۔۔ناصر نظامی ٹوٹ کر اپنے ہی اندر، بکھرتے جاتے ہیں ہاتھ سے ریت کی صورت، سرکتے جاتے ہیں کبھی تھی بحر محبت میں کتنی طغیانی زمزمے عشق کے اب تو، اُترتے جاتے ہیں کرچیاں وعدوں کی چبھنے لگی ہیں آنکھوں میں آئینے خوابوں کے اب تو، چٹکتے جاتے ہیں لا تعلق ہےاگروہ توبے نیاز …
غزل۔۔۔ٹوٹ کر اپنے ہی اندر، بکھرتے جاتے ہیں۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »
![]()
غزل شاعر۔۔۔ناصر نظامی تیرا چہرہ ہے مئے خانہ نظرتیری جام ہے ساقی تیری مستی سے عالم مست یہ تمام ہے ساقی جس پہ ہلکی سی تیری اک نظر پڑ جاتی ہے ساقی نشے میں جھومتا وہ عمر پھرتمام ہے ساقی نظر آ تا ہے ہر چہرے میں اب تو یار کا چہرہ ہم نے یکتائی …
غزل۔۔۔تیرا چہرہ ہے مئے خانہ نظرتیری جام ہے ساقی۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »
![]()
قطعہ پہلے بجلی آ تی تھی روشنی لاتی تھی اب آ تی ہے آ نکھوں میں اندھیرا چھا جاتا ہے آ دمی پر ہو جاتا ہے اک سکتہ سا طاری یارو بجلی کا اتنا زیادہ بل آ تا ہے ناصر نظامی
![]()
غزل شاعر۔۔۔ناصر نظامی مجھ کو شراب چاہیے نہ جام چاہیئے ساقی تیری نگاہ کا الزام چاہیئے ہر قطرے میں ہو نور الٰہی کی تجلی مجھ کو مئےء طہورکا وہ جام چاہیئے بن جائے جس کو پی کے اندھیرا بھی روشنی مجھ کو سیاہ شناسی کا وہ جام چاہیئے مئے نہ بھی ملے پھر بھی لگے …
غزل۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »
![]()
تازہ قطعہ ناصر نظامی شاعر۔۔۔ بیرونی قرضوں کو بجلی کے بلوں سے اتارا جائے گا اپنی ملکی معیشت کو ایسے دیا سہارا جائے گا پانی پلا پلا مارنے کے محاورے کے بر عکس قوم کو بجلی کا کرنٹ لگا لگا مارا جائے گا ناصر نظامی
![]()
قطعہ۔ بجلی کا بل شاعر۔۔۔ناصر نظامی اب تو دیکھ کر بجلی کا بھاری بل بندے کا بند۔ ہو جاتا ہے دل یہ بجلی بنانے کی۔ کمپنیاں اصل میں ہیں۔ کرائے کی۔ قاتل ناصر نظامی
![]()
غزل شاعر۔۔۔ناصر نظامی میں آن کے شہر میں اس واسطے نہ اٹکا تھا کہ اب تو جان کے جا نے کا واہا ں کھٹکا تھا جو اپنے سر کو ذرا بھی اٹھا کے چلتا تھا سر سر دار سدا اس کا دیکھا لٹکا تھا اسی نے آ ج اٹھا یا تھا پہلا سنگ مجھ پر …
یاد گارغزل۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »
![]()