Daily Roshni News

ناصر نظامی کی شاعری

غزل۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی

غزل شاعر۔۔۔ناصر نظامی نہ جاؤ شہر میں شیشے کا پہن کے لباس یہ شہر ا ئینہ برداروں کو نہیں ہے راس آ دمی تو ہیں سبھی انسان اسے کہتے ہیں اوروں کے درد کا ہو جس کے سینے میں احساس بجھے چراغ پہ منڈلاتے  ہیں۔ پروانے تتلیاں آ تی نہیں سوکھے ہوئے پھولوں کے پاس […]

Loading

غزل۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »

یادگار گیت۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی

یادگار گیت شاعر۔۔۔ناصر نظامی پیار، تتلیوں کے، پروں جیسا ہوتا ہے پیار، جگنوؤں کے، گھروں جیسا ہوتا ہے پیار پھول کبھی۔۔۔۔۔ کانچ پیار شبنمی ہے۔۔۔۔۔۔آنچ پیار روشنی کی، کرنوں جیسا ہوتا ہے پیار چھاؤں کبھی۔۔۔۔ دھوپ بڑے پیار کے ہیں۔۔۔  روپ پیار بادلوں کے، رنگوں جیسا ہوتا ہے پیار پتھروں کو۔۔۔۔۔ پگھلائے دیئے پانی میں۔۔۔۔۔۔ 

Loading

یادگار گیت۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »

غزل۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی

غزل شاعر۔۔۔ناصر نظامی میں شہر سے لے کے، ڈر، آ گیا ہوں کم ظرف تھے، معتبر،۔۔۔آ گیا ہوں بچا کے میں اپنا، سر، آ گیا۔۔ ہوں بھر کے دامن میں، پتھر، آ گیا ہوں دریا کے لب تھے سوکھے میری طرح آنکھوں میں ریت، بھر کر، آ گیا ہوں سبیل پر تصویر نہ ۔۔۔۔ بنوائی

Loading

غزل۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »

غزل۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی

غزل شاعر۔۔۔ناصر نظامی جب کبھی ان کو ہے ، برہم دیکھا اپنا رکتا ہوا ہے۔۔۔ ۔ دم دیکھا ہم نے دیکھے، جفاؤں کے۔ پتلے آپ جیسا نہ۔۔۔۔۔ محترم دیکھا ہم نے موسم بدلتا ۔۔ دیکھا ہے آدمی سے مگر ہے۔۔۔۔ کم دیکھا سامنے بیٹھا رہا۔۔۔ بت بن کے ہم نے یہ بھی تیرا۔۔ کرم  دیکھا

Loading

غزل۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »

غزل۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی

غزل شاعر۔۔۔ناصر نظامی جگنو کی لو سےبھی، اب تو لگےجلنے ہاتھ ! پھول بن جائے انگارا، نہیں دیکھا جاتا عشق میں جان ہی جائے گی اور کیا ہو گا عشق میں جاں کا، خسارہ نہیں دیکھا جاتا قلزم عشق کی حد کو نہ پا سکا کوئی اس کے قلزم کا، کنارہ نہیں دیکھا جاتا عشق

Loading

غزل۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »

روز ہی ، خون میں، نہاتے ہیں۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی

قطعہ روز ہی ، خون میں، نہاتے ہیں شاعر۔۔۔ناصر نظامی اب نہ ابابیل، اترتے ،  ہیں نہ ہی قاسمی لشکر، آتے  ہیں فلسطین کے،مظلوم۔  لوگ روز ہی ، خون میں، نہاتے ہیں ناصر نظامی

Loading

روز ہی ، خون میں، نہاتے ہیں۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »

وہ پھول اب تو لگے ہاتھ، جلانے اپنے۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی

قطعہ شاعر۔۔۔ناصر نظامی تراشنے میں لگے ، جس کو ، زمانے اپنے بن گیا آج خدا درد نہ، جانے اپنے جن کو انگاروں سے ہے، پھول بنایا ہم نے وہ پھول اب تو لگے ہاتھ، جلانے اپنے ناصر نظامی شائع فرما دیجیئے۔ سر

Loading

وہ پھول اب تو لگے ہاتھ، جلانے اپنے۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »

گو وقت کی بے مہری سے ہم ٹوٹ گئے پر۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی

غزل شاعر۔۔۔ناصر نظامی گو وقت کی بے مہری سے ہم ٹوٹ گئے پر حالات کے قدموں پہ جھکے، سر نہیں اپنے گو پہلے سے پہرے توقفس، پر نہیں اپنے اب اڑنے کی خواہش ہے مگر، پر نہیں اپنے سورج کی تمازت سے کہیں ٹوٹ نہ جائیں سیلاب کی زد میں، تو رہے،گھر نہیں اپنے اس

Loading

گو وقت کی بے مہری سے ہم ٹوٹ گئے پر۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »

تراشنے میں لگے، جن کو، زمانے اپنے۔۔۔شاعر۔۔۔ ناصر نظامی

غزل شاعر۔۔۔ ناصر نظامی تراشنے میں لگے، جن کو، زمانے اپنے بن گیا آج خدا، درد نہ، جانے اپنے جن کو انگاروں سے، ہے پھول بنایا ہم نے لگے ہیں، پھول وہی ہاتھ، جلانے اپنے ہاتھ راہزن کے کہاں، آئے، خزانے اپنے ہم کو تو لوٹ لیا، راہنما نے، اپنے اپنی خود داری کا، ہم

Loading

تراشنے میں لگے، جن کو، زمانے اپنے۔۔۔شاعر۔۔۔ ناصر نظامی Read More »

غزل۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی

غزل شاعر۔۔۔ناصر نظامی ہم سے اب چہرہ، تمہارا نہیں دیکھا جاتا جلتے سورج کو، دوبارہ نہیں دیکھا جاتا دل کی بینائی بھی درکار ہے جلوے کے لئے خالی آنکھوں سے، نظارہ نہیں دیکھا جاتا عشق کی جنگ میں کب سود و زیاں چلتا ہے اس میں تو جیتا، میں ہارا، نہیں دیکھا جاتا چاند بن

Loading

غزل۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »