Daily Roshni News

اک مضمون کا عنوان تھا!۔۔۔تحریر۔۔۔کمال الدین

اک مضمون کا عنوان تھا❗

تحریر۔۔۔کمال الدین

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ اک مضمون کا عنوان تھا❗۔۔۔ تحریر۔۔۔کمال الدین )”قرآنِ مجید کا نزول عرب میں ہوا، پڑھا گیا مصر میں اور سمجھا گیا برصغیر میں۔

صرف ایک لمحہ کے لئے یہ سوچنے! نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام عرب میں تھے یا برصغیر میں؟ اگر عرب میں تھے تو قرآن کا نزول بھی عرب میں ہوا، پڑھا بھی عرب میں گیا اور سمجھا بھی عرب میں گیا. یہ الگ بحث ہے کہ بعد کے ادوار میں مختلف ملکوں میں قرآنِ کریم پر مختلف ناحیہ’ سے کام ہوا۔

برصغیر میں قرآن، علومِ قرآن اور تفسیر پر نہ جانے ایسا کون سا کام ہو گیا کہ پوری دنیا کہ مقابلے میں قرآن صرف برصغیر میں سمجھا گیا؟

لے دے کر چند اردو تفاسیر، علومِ قرآن کے نام پر کچھ رسالے اور دعویٰ اتنا بڑا ؟

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر کے مشہور ؤ معروف علماءِحق ہر جمعہ کو منبر رسول پر یہ کہتے ہیں کہ اگر عام آدمی براہِ راست قرآنِ کریم کو سمجھ کر پڑھے گا تو گمراہ ہو جائے گا۔

برصغیر کے علماءِحق کے اسی مزاج نے امت (بھارت/ پاکستان/ بنگلہ) میں فرقہ ورایت کو جنم دیا. عام مسلمانوں میں سے “امت پن” کی روح نکال دی۔ ہر فرقہ(گروہ) کی مسجد اپنے کام کو خیر اور دوسرے فرقہ کے کام کو شر بتاتی ہے۔ خیر کا کام اس لئے کہ وہ کام اس کا فرقہ (گروہ) کرتا ہے۔ اور دوسرا کام شر اسی لئے ہے کہ وہ مخالف فرقہ کرتا ہے.۔۔

Loading