اگر آپ ٹک ٹاک، انسٹا گرام یا یوٹیوب پر مختصر ویڈیوز دیکھنا پسند کرتے ہیں تو یہ عادت دماغ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔
یہ دعویٰ ایک نئی تحقیق میں سامنے آیا۔
جرنل نیورو امیج میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ مختصر ویڈیوز کو دیکھنے کے شوقین افراد کو مختلف دماغی تبدیلیوں کا سامنا ہوتا ہے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ان مختصر ویڈیوز کی لت سے اقدامات میں رہنمائی اور مالیاتی حساسیت سے متعلق دماغی خطوں میں تبدیلیاں آتی ہیں۔
تحقیق کے مطابق درحقیقت مختصر ویڈیوز کی لت منشیات کے استعمال یا جوئے بازی جیسی ہوتی ہے جس میں لوگ طویل المعیاد نتائج کی بجائے فوری تسکین یا انعام کو ترجیح دیتے ہیں۔
محققین نے انتباہ کیا کہ بے مقصد اسکرین اسکرولنگ اور مختصر ویڈیوز کے مواد کو دیکھنے سے لوگوں میں ایسی دماغی تبدیلیاں آتی ہیں جس کے باعث وہ بلا سوچے سمجھے فیصلے کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایسے افراد کی خطرات کا اندازہ لگانے والی صلاحیت گھٹ جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مختصر ویڈیوز کو دیکھنے کی لت ایک عالمی طبی خطرہ ہے اور صرف چین میں ہی لوگ روزانہ اوسطاً 151 منٹ ایسی ویڈیوز دیکھتے ہوئے گزارتے ہیں، 95.5 فیصد انٹرنیٹ صارفین ان ویڈیوز کو دیکھنا پسند کرتے ہیں۔
محققین کے مطابق اس سے نہ صرف توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت، نیند اور دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ ڈپریشن سے متاثر ہونے کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔