آپ اپنی زندگی کے ذمہ دار کیوں نہیں بنتے؟
تحریر شاہد سید این ایل پی ماسٹر،مائنڈہیلر
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک آدمی ہر رات سونے سے پہلے یہی سوچتا ہے۔ کاش حالات مختلف ہوتے۔کاش لوگ مجھے سمجھتے۔
کاش قسمت نے ساتھ دیا ہوتا۔
اور اور پھر ہر صبح وہی آدمی اٹھتا ہے اور وہی زندگی شروع ہو جاتی۔ وہی شکایتیں، وہی بہانے، وہی انتظار کہ کوئی آئے گا اور سب بدل دے گا۔ وہ آدمی برا نہیں ہے۔ کمزور نہیں ہے۔ بے وقوف نہیں ہے۔
بس اس نے ایک کام نہیں کیا، اس نے اپنی زندگی کی ذمہ داری کبھی اپنے کندھوں پر نہیں اٹھائی۔ اور شاید یہ آدمی صرف کہانی میں نہیں ہے۔
ذرا رکیں اور خود سے پوچھیں۔
جب کوئی کام نہیں بنتا تو آپ کا پہلا خیال کیا ہوتا ہے؟ کیا آپ سوچتے ہیں کہ میں نے کہاں غلطی کی؟ یا یہ کہ یہ سب فلاں کی وجہ سے ہوا، حالات کی وجہ سے ہوا، وقت ٹھیک نہیں تھا؟
اگر آپ کا دوسرا جواب ہے تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔ انسانی دماغ میں ایک فطری رجحان ہے جسے سیلف سرونگ بائس کہتے ہیں۔ یعنی کامیابی اپنی، ناکامی دوسروں کی۔ یہ دماغ کی خود کو بچانے کی کوشش ہے۔ اپنی غلطی مانیں تو درد ہوتا ہے، کسی اور کو ذمہ دار ٹھہرائیں تو فوری سکون ملتا ہے۔مگر یہ سکون ایک دھوکہ ہے۔
کیونکہ جب آپ ذمہ داری کسی اور کو دیتے ہیں تو طاقت بھی اسی کو دے دیتے ہیں۔ ذمہ داری اور الزام یہ دو الگ چیزیں ہیں۔یہاں ایک غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے۔
ذمہ داری لینے کا مطلب یہ نہیں کہ سب آپ کی غلطی تھی۔ ذمہ داری لینے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نے جو تکلیف پائی وہ آپ نے خود مانگی تھی۔ ذمہ داری لینے کا مطلب یہ نہیں کہ دوسروں نے جو ظلم کیا وہ درست تھا۔
ذمہ داری لینے کا مطلب صرف یہ ہے کہ آج کے بعد کیا ہوگا، وہ میں طے کروں گا۔ماضی کا ذمہ دار کوئی بھی ہو مستقبل کا ذمہ دار صرف آپ ہیں۔
این ایل پی میں اس کو لوکس آف کنٹرول کہتے ہیں، یعنی آپ کا کنٹرول کہاں ہے؟ باہر لوگوں میں، حالات میں، قسمت میں یا اندر اپنے فیصلوں میں، اپنے ردعمل میں، اپنی سوچ میں؟ جن لوگوں کا کنٹرول اندر ہوتا ہے وہ مشکل سے مشکل حالات میں بھی راستہ نکال لیتے ہیں۔ جن کا باہر ہوتا ہے وہ آسان حالات میں بھی پھنسے رہتے ہیں۔
قرآن نے یہ بات یوں کہی ہے
اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمۡ
بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدلیں۔ سورۃ الرعد، آیت 11
یہ آیت غور سے پڑھیں۔اللہ نے یہ نہیں کہا کہ جب تک حالات نہ بدلیں۔ یہ نہیں کہا کہ جب تک لوگ نہ بدلیں۔ یہ نہیں کہا کہ جب تک وقت نہ آئے۔اللہ نے کہا جب تک تم خود نہ بدلو۔
یعنی تبدیلی کی چابی ہمیشہ سے آپ کے ہاتھ میں تھی۔ آپ اسے کسی اور کی جیب میں ڈھونڈتے رہے۔
ہم پھنستے کہاں ہیں ؟ دیکھیں کچھ جملے ہیں جو بظاہر بے ضرر یا معصومانہ سے لگتے ہیں مگر یہ آپ کو آہستہ آہستہ بے اختیار کر دیتے ہیں۔
جیسے کہ (میں کیا کروں، حالات ہی ایسے ہیں۔) یہ جملہ بولتے ہی آپ نے اپنے آپ کو حالات کا قیدی بنا لیا۔ حالات مشکل ہو سکتے ہیں مگر آپ کا ردعمل ہمیشہ آپ کے اختیار میں ہے۔
ایک اور “فلاں نے میری زندگی برباد کر دی۔” جب تک آپ یہ مانتے رہیں گے کہ کسی اور کے پاس آپ کی زندگی برباد کرنے کی طاقت ہے تب تک آپ اسی کے محتاج رہیں گے۔ کوئی آپ کو تکلیف دے سکتا ہے مگر آپ کی زندگی کا فیصلہ صرف آپ کرتے ہیں۔
تیسرا بہت ہی عام ہے “میری قسمت میں یہی لکھا ہے۔” دیکھیں تقدیر پر یقین رکھنا ایمان ہے مگر تقدیر کو بہانہ بنانا کمزوری ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی اونٹنی باندھو، پھر اللہ پر بھروسہ کرو۔ مطلب پہلے اپنا کام کرو پھر توکل کرو۔
ایک بات جو بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ جب انسان واقعی ذمہ داری قبول کرتا ہے تو دماغ کا پری فرنٹل کورٹیکس یعنی فیصلہ کرنے والا حصہ فعال ہو جاتا ہے اور ایمگڈالا یعنی خوف اور ردعمل والا حصہ دھیما پڑ جاتا ہے۔ اور RAS سسٹم ایکٹیو ریڈار کی طرح اپنا فوکس بدل لیتا ہے۔ یعنی ذمہ داری لیتے ہی دماغ لفظی معنوں میں بدل جاتا ہے۔ آپ زیادہ واضح سوچنے لگتے ہیں، زیادہ پرسکون ہوتے ہیں، اور راستے نظر آنے لگتے ہیں جو پہلے نہیں دکھتے تھے۔
کیونکہ جب تک آپ شکار تھے آپ کو صرف مسئلہ نظر آتا تھا۔ جب آپ ذمہ دار بنے آپ کو حل نظر آنے لگتا ہے۔ سمجھے؟
ایک آدمی ایک رات بستر پر لیٹا تھا اور اچانک اس کے ذہن میں ایک سوال آیا جس نے اسے ہلا کر رکھ دیا۔ وہ سوال تھا کہ
“اگر میری زندگی میں سب کچھ غلط ہے تو کیا واقعی سب کچھ دوسروں کی وجہ سے ہے؟ یا میں نے بھی کہیں نہ کہیں یہ انتظار کیا ہے کہ کوئی اور آ کر میری زندگی بنائے؟”
اس رات وہ دیر تک جاگتا رہا۔اگلی صبح وہ اٹھا مگر اس بار کچھ مختلف تھا۔ اس نے آئینے میں دیکھا اور پہلی بار محسوس کیا کہ سامنے کھڑا شخص اس کی زندگی کا سب سے اہم انسان ہے اور سب سے زیادہ نظرانداز کیا گیا انسان بھی۔
اس نے اس دن ایک فیصلہ کیا کوئی بڑا فیصلہ نہیں، کوئی انقلاب نہیں۔ بس یہ کہ آج سے میں خود جواب دہ ہوں۔ اپنے آپ کو، اپنے رب کو۔
آپ کی زندگی کا سب سے طاقتور لمحہ وہ نہیں جب حالات بدلے۔ سب سے طاقتور لمحہ وہ ہے جب آپ نے فیصلہ کیا کہ چاہے کچھ بھی ہو، میں اپنی زندگی کا ذمہ دار میں خود ہوں۔ وہ لمحہ آپ کے اندر ایک نئے انسان کو جنم دیتا ہے۔ شاہد سید
Shahid Syed #MindHealer #nlpcoach #NeuroSpirituality #quantummindcraftinstitute #InnerProgramming #بدلوذہن_جی_لوزندگی #DepressionAndAnxietyAwareness #motivationmonday
![]()

