زبورِ عجم سے علامہ اقبال کی ایک فارسی غزل مع اردو ترجمہ-
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )دلِ بے قیدِ من با نورِ ایماں کافری کردہ
دلِ بے قیدِ من با نورِ ایماں کافری کردہ
حرم را سجدہ آوردہ، بتاں را چاکری کردہ
میرے بے قید دل نے ایمان کے نور کے ساتھ کافری کی ہے کہ سجدہ تو حرم کو کرتا ہے لیکن چاکری اور غلامی بتوں کی کرتا ہے۔
متاعِ طاعتِ خود را ترازوے برافرازد
ببازارِ قیامت با خدا سوداگری کردہ
(زاہد، عابد، صوفی) اپنے اطاعت کے مال و متاع کو ترازو میں تولتا ہے، گویا کہ قیامت کے بازار میں خدا کے ساتھ سوداگری کرتا ہے۔ اس خیال کا اظہار علامہ نے اپنے اردو اشعار میں بھی کیا ہے اور ان سے پہلے بھی بہت سے شعرا نے کیا ہے کہ خدا کی اطاعت بغیر کسی لالچ کے ہونی چاہیے۔
زمین و آسماں را بر مرادِ خویش می خواہد
غبارِ راہ و با تقدیرِ یزداں داوری کردہ
انسان زمین و آسمان کو اپنی من چاہی خواہشات کے مطابق دیکھنا چاہتا ہے حالانکہ وہ راہ کے گرد و غبار جیسا ہے اور پھر بھی خدا کی تقدیر کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے۔
گہے با حق در آمیزد، گہے با حق در آویزد
زمانے حیدری کردہ، زمانے خیبری کردہ
(بے یقینی اور تذبذب میں مبتلا انسان) کبھی تو حق کے ساتھ گھل مل جاتا ہے اور کبھی حق کے مخالف ہو جاتا ہے اور اس سے مقابلہ کرتا ہے یعنی کسی لمحے حضرت علی ع کی طرح حیدری کرتا ہے اور دوسرے لمحے خیبر کے مرحب کی طرح ہو جاتا ہے جس نے حضرت علی سے مقابلہ کیا تھا۔ دوسرے مصرعے میں تلمیح تو ہے ہی، تشبیہ بھی بہت خوبصورت ہے۔
بایں بے رنگیٴ جوہر ازو نیرنگ می ریزد
کلیمے بیں کہ ہم پیغمبری ہم ساحری کردہ
(حق ناشناس اور دو رنگی میں مبتلا آدمی سے) اپنے جوہر کی بے رنگی کے باوجود نیرنگ کا ظہور ہوتا رہتا ہے یعنی وہ ایک ایسے کلیم کی مانند ہے جو پیغمبری بھی کرتا ہے اور ساحری بھی کرتا ہے۔
نگاہش عقلِ دُوراندیش را ذوقِ جنوں دادہ
ولیکن با جنونِ فتنہ ساماں نشتری کردہ
اُسکی نگاہ نے دوراندیش عقل کو ذوقِ جنوں دیا لیکن فتنہ سامان جنون کے ساتھ نشتری بھی کی یعنی اس کو نشتر لگائے۔ عجب خوبصورت شعر ہے کہ ایک طرف اُس کی نگاہ اگر عقل کو ذوق جنون دیتی ہے تو دوسری طرف جنون کو بھی نشتر لگا لگا کر قابو میں رکھتی ہے۔
بخود کے می رسد ایں راہ پیمائے تن آسانے
ہزاراں سال منزل در مقامِ آزری کردہ
خود تک کیسے پہنچ سکتا ہے یہ تن آسان راہ چلنے والا کہ وہ ہزاروں سال مقامِ آزر میں ہی بیٹھا رہا۔ یعنی انسان کی اصل منزل یہ ہے کہ وہ خود تک پہنچے اور اس کیلیے ضروری ہے کہ جہدِ مسلسل میں لگا ہی رہے اور راہ کی آرام دہ جگہوں پر بیٹھا ہی نہ رہے۔
(علامہ محمد اقبال، زبورِ عجم)
سورہ آل عمران (آیت 28) میں واضح طور پر ارشاد ہے کہ ایمان والے مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق اور دوست نہ بنائیں।
عقیدہ الولاء والبراء: اسلام میں دوستی اور دشمنی کا معیار ‘ایمان’ ہے۔ یعنی اللہ کے دوستوں سے محبت اور اللہ کے دشمنوں سے بیزاری।
ممانعت کی وجہ: کافر مسلمانوں کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے اور وہ اسلام کے دشمن ہیں۔ ان سے دوستی رکھنے والا اللہ کی طرف سے کسی چیز میں نہیں (یعنی اللہ سے اس کا تعلق منقطع ہو جاتا ہے)।
استثنیٰ (تقویہ): صرف ایسی صورت میں ان سے بظاہر تعلق رکھا جا سکتا ہے جب ان کے ظلم سے بچنے کے لیے ڈر کی وجہ سے ایسا کرنا ضروری ہو (مدارات)۔
یہود و نصاریٰ: یہود و نصاریٰ کو دوست بنانے سے خاص طور پر منع کیا گیا ہے کیونکہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور مسلمانوں کے حریف ہیں।
خلاصہ یہ کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی دلی محبت اور گہری دوستی صرف ایمان والوں کے ساتھ رکھیں اور کفار کے ساتھ گہرے تعلقات سے پرہیز کریں۔
![]()

