وائی فائی کی چوری، ایک خاموش جرم۔!
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کسی کا وائی فائی بغیر اجازت استعمال کرنا بظاہر ایک معمولی سی بات محسوس ہوتی ہے، جیسے کسی نے کسی کے حصے کی ہوا میں سے تھوڑا سا حصہ لے لیا ہو، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ سنجیدہ ہے؛ یہ ایک ایسی سہولت ہے جس کے لیے کوئی شخص اپنی جیب سے قیمت ادا کرتا ہے اور جب کوئی دوسرا خاموشی سے اس میں شامل ہو جاتا ہے تو وہ دراصل اس کے حق میں مداخلت کرتا ہے، اور یہی مداخلت آہستہ آہستہ انسان کے کردار پر اثر ڈالتی ہے؛ پرانے وقتوں کی ایک بات آج بھی دل کو جھنجھوڑتی ہے ایک کتاب کے پہلے صفحے پر ایک پولیس کے اعلیٰ عہدے دار نے لکھا تھا کہ کسی کی میز سے بغیر اجازت بال پین اٹھا کر چند لفظ لکھ لینا بھی جرم کے زینے کا پہلا قدم ہے، یعنی برائی کبھی اچانک بڑی شکل میں سامنے نہیں آتی بلکہ چھوٹی چھوٹی عادتوں سے پروان چڑھتی ہے، WiFi data کا غیر محسوس سگنل دراصل ہمارے محسوس ہونے والے ضمیر کا امتحان ہے، یہاں کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا مگر انسان خود کو ضرور دیکھ رہا ہوتا ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ دیانت داری کو اختیار کیا جائے اور ہر وہ چیز جو کسی اور کی ملکیت ہو اسے اجازت کے ساتھ ہی استعمال کیا جائے۔ چاہے وہ آپ کا بھائی کیوں نہ ہو اور ایک ہی گھر میں رہتے ہوں ، اس لیے بہتر ہے کسی شے کے گھر میں آتے ہی سب اجازت حاصل کر لیں یا لانے والا اجتماعی استعمال کی پیشگی اجازت دے ۔
آج ان سب لوگوں سے معافی مانگ لیں جن کا
وائی فائی یا کوئی اور شے آپ نے کبھی بغیر اجازت استعمال کیا ہے، اور اگر براہ راست کہنے کی ہمت نہیں ہو رہی تو میرا یہ پیغام ان تک پہنچا دیں، امید ہے ان شاء اللہ وہ دل سے معاف کر دیں گے۔
اللہ ، آپ کو آسانیاں عطا فرمائے۔
جاوید اختر آرائیں
اپریل 2026
#جاوید_اختر_آرائیں
![]()

