**فلسفہ اور حقیقت**
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک پرانی، اندھیری پتھریلی کوٹھری میں، جہاں صرف ایک چھوٹی سی کھڑکی سے سورج کی ایک ہلکی سی کرن داخل ہوتی تھی، ایک چھوٹا، معصوم خرگوش بے بسی کی تصویر بنا ہوا تھا۔ اس کے نازک پاؤں اور گردن موٹے اور کھردری رسوں سے اتنی مضبوطی سے بندھے تھے کہ وہ ہل بھی نہیں سکتا تھا۔ اس کی بڑی، روشن آنکھوں سے ایک آنسو گرا، جو اس کی خاموش تکلیف کا اظہار تھا۔
دیوار پر، ایک نفیس، سنہری فریم میں جڑے ہوئے، کچھ الفاظ نقش تھے۔ یہ الفاظ اس کوٹھری کے مالک، ایک مشہور عالمِ فلسفہ کے تھے، جن کے پاس علم کے ڈھیر اور شاہی فرامین کےscrolls پڑے ہوئے تھے۔ فریم شدہ تحریر کچھ یوں تھی:
**”صرف عمل ہی محبت کے خلوص کی تصدیق کرتا ہے، الفاظ تو سب فلسفہ ہیں”**
یہ عالم، جو اپنی پوری زندگی محبت، ہمدردی اور آزادی کے فلسفے پر کتابیں لکھنے اور تقریریں کرنے میں گزار چکا تھا، ہر روز اپنے اس قیدی خرگوش کے پاس آتا۔ وہ ایک پیالے سے مٹھی بھر دانوں کو خرگوش کے سامنے ڈالتا، جیسے کہ وہ کوئی بہت بڑا احسان کر رہا ہو۔ اس کا وہ بوڑھا، لرزتا ہوا ہاتھ دانوں کو ڈالنے کے بعد، اس فریم شدہ قول کو حسرت بھری نظروں سے دیکھتا، اور وہ اپنے آپ سے کہتا: “دیکھو، میں نے آج پھر محبت کا ایک عمل پورا کیا۔ میں نے اس مخلوق کو کھانا کھلایا۔”
لیکن خرگوش، ان دانوں کو بے بسی سے دیکھتا رہا۔ اس کی گردن کے گرد رسی ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید تنگ ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ دانوں کے لیے نہیں، بلکہ آزادی کے لیے رو رہا تھا۔ وہ کھلی ہوا میں دوڑنے، گھاس کے میدانوں میں کودنے کے لیے رو رہا تھا۔ اس کے لیے، وہ مٹھی بھر دانے محبت کا عمل نہیں، بلکہ اس کی قید کو جاری رکھنے کا ایک ذریعہ تھے۔ اس کے لیے، محبت کا سچا عمل تو ان رسوں کو کاٹنا ہوتا، اسے آزاد کرنا ہوتا۔
وہ عالم، اپنے فلسفے کے علم کے باوجود، یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ اس کے قول کے الفاظ اور اس کے عمل میں کتنا بڑا تضاد ہے۔ وہ سمجھتا تھا کہ صرف کھانا کھلانا ہی محبت کا عمل ہے، لیکن وہ یہ بھول گیا تھا کہ محبت کا سب سے پہلا اور اہم عمل، کسی کو قید سے آزاد کرنا اور اسے اس کا فطری حق دینا ہوتا ہے۔
سو، وہ عالم تو اپنے فلسفے کی کتابوں میں مگن رہا اور اپنے آپ کو ایک محبت کرنے والا شخص سمجھتا رہا۔ لیکن وہ معصوم خرگوش، اس کے جھوٹے عمل کی زنجیروں میں جکڑا، خاموشی سے روتا رہا، جہاں دیوار پر لکھا ہوا سچ، اس کے مالک کے ہر روز کے عمل کو خاموشی سے چیلنج کرتا رہا۔
![]()

